2 تبصرے

پرندے

بگلے
جس جگہ میں بیٹھتا ہوں سامنے ایک تلیا ہے جس کے بنانے کا مقصد تو کچھ اور تھا مگر اب ٹٹیری( اس کے علاوہ اسکا کوئی اور نام علم میں نہیں ہے) کے دو جوڑوں نے دونوں اطراف پر قبضہ جما لیا ہے اور مجال ہے کہ کسی کوے یا چیل کو بھی اس طرف پھٹکنے دے جانے یہ پرندے سوتے کب ہیں کیونکہ رات میں بھی اسکی آواز مستقل آتی رہتی ہے۔ یہ اپنے انڈے زمین پر ہی کسی اتھلے سے گڑھے میں دیتی ہے جو مٹیالے رنگ کے ہوتے ہیں اور اگر یہ خود شور نہ مچائے تو پتہ بھی نہ چلے کہ یہاں اس کے انڈے ہیں یہ رویہ دیکھ کر مجھے بچپن میں کھیلا ہوا کھیل کِل کِل کانٹا(جسمیں دو ٹیمیں کوئلے یا چاک سے چھوٹی چھوٹی لکیریں لگادیتے ہیں اور پھر ایک دوسرے کے لگائی گئی لکیروں کو ڈھونڈھنا ہوتا ہے) یاد آجاتا ہے جسمیں بھولے بچے اپنی حرکات سے خود ہی چھپے ہوئے مقامات کی نشاندھی کردیا کرتے تھے مگر وہاں تو ڈھونڈھنے والے بھی بچے ہی ہوتے تھے جبکہ یہاں چیل اور کوؤں جیسے شاطر پرندوں سے بچانا مقصود ہے۔ کوؤں کا ذکر چلا تو ایک دوست کی بات یاد آگئی کہ کوے کیونکے حرام ہیں اسی وجہ سے اتنے زیادہ ہیں اگر حلال ہوتے تو پاکستان میں کب کے نایاب ہوچکے ہوتے۔
وسطِ جنوری میں کوئلوں کے دو جوڑے ہی باہم پرواز کرتے اور اٹھکیلیاں کرتے دِکھتے تھے ایک بات جو میں نے نوٹ کی کہ کوئل اپنی مخصوص پی کہو پی کہو کی آواز نہیں نکالتی تھی بلکہ شاید نر(مادہ بھی ہوسکتی ہے) سیٹی نما آواز نکالتا تھا
مجھے اس کا تجربہ یوں ہوا کہ صبح سویرے جب اپنے کمرے میں سونے کے لیے گیا تو تسلسل سے بھاری سیٹی نما آواز آتی میں تنگ آکر کمرے سے باہر آیا کہ آخر کون ہے؟ باہر آکر دیکھا تو کوئل چھت سے اڑ کر قریب کے درخت پر جابیٹھی اور کچھ دیر بعد دوبارہ ایسی سیٹی کی آواز نکالنے لگی جیسے اشتہار میں اسٹرپسلز کھانے سے پہلے کی آواز ہوتی ہے۔ اب جون جولائی آتے آتے ان سیٹیوں کے نتیجے میں پانچ چھ جوڑے محوشکار نظر آتے ہیں اور مئی جون میں کوئل کی پی کہو پی کہو سے سارا گونج اٹھتا ہے۔ کوئل دن کے علاوہ رات بھر تیز فلڈ لائٹ کے آس پاس آنے والے پروانوں ‌کو اچکتی رہتی ہے۔ امس بھری گرمیوں میں برسات سے پہلے جہاں بھانت بھانت کے کیڑے مکوڑے گویا زمین سے ابلے پڑتے ہیں اور بعضوں کو پر بھی لگ جاتے ہیں وہیں انواع اقسام کے پرندے بھی اس ضیافت کو اڑانے آ موجود ہوتے ہیں میناء، گُرسل (لالڑی)، کئی اقسام کی فِنچیں اور رنگ برنگیں چڑیاں، فاختہ، بگلے، جنگلی کبوتر اور نیل کنٹھ کا ایک ہی جوڑا پچھلے ایک دو سال سے دکھائی دے رہا ہے، صبح سورج طلوع ہونے سے قبل ڈاروں کی ڈاریں ‌زمین سے اپنے حصے کا رزق چننے کے لیے آموجود ہوتے ہیں۔ آس پاس کھیت ہیں اور دریائے سندھ کی قربت بھی ان پرندوں کو سازگار ماحول دیتی ہے۔

2 comments on “پرندے

  1. السلام علیکم رضوان بھائی۔ بہت اچھا لگا آپ کا بلاگ۔ ابھی میں نے صرف یہ پرندوں اور درختوں اور پھولوں والا حصہ ہی دیکھا ہے۔ بہت اچھا لگا کہ آپ نے ایسے “عام“ سے موضوع پر لکھا

  2. شکریہ قیصرانی دراصل “خاص“ موضوعات سے اپنا ذہن ہٹانے ہی کی کوشش کی تھی۔
    معذرت خواہ ہوں کہ تبصرہ پوسٹ ہونے میں میری لاعلمی حارج ہوئی۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: