3 تبصرے

پھول پودے

کچھ باتیں ایسی ہوتیں ہیں کہ جب تک انسان انکا پتہ نہ چلا لے ایک پھانس سی چبھی رہتی ہے۔ Plumeria نامی یہ ایک خوبصورت و سیرت پھول ہے ( خوبسیرت ان معنوں میں کہ بھینی بھینی سی من بھاتی خوشبو ہے) مگر اس کا اردو میں کیا نام ہے اب تک پتہ نہیں چل رہا میں اسے “چنبہ“ سمجھتا رہا ہوں مگر ایک اور صاحب نے جھٹلا دیا ہے کہ یہ چنبہ نہیں ہے تو بھائی پھر کیا ہے؟ اس کا جواب نہیں تھا انکے پاس۔

ہمارے آس پاس بیسیوں پھول پودے ہوتے ہیں مگر عمومی طور پر ہم ان کے نام جاننے کی تکلیف گوارا نہیں کرتے انٹرنیٹ سے نباتاتی نام وغیرہ تو پتہ چل جاتے ہیں مگر اردو میں یا عم بول چال کے کیا نام ہیں یہ کام مشکل ہے۔ “ تلسی“ کا نام بہت سُنا ہے( اسٹار پلس والی نہیں) مگر کم ہی شناخت رکھتے ہیں کہ “ نیاز بو“ کو تلسی کہتے ہیں اور “ تخم ملنگا“ (فالودے میں تیرتے ہوئے کیڑے نما بیج) اسی کے بیج ہوتے ہیں۔
“یوکلپٹس“ جو کتنے ہی قسم کے درد رفع کرتا ہے کا عام فہم نام “سفیدہ“ ہے۔ “اروی“ نامی سبزی جوہڑوں میں پنپنے والے اس چوڑے پتے کی جڑ ہوتی ہے جس پر پرائمری کے زمانے میں چند قطرے پانی کے ڈال کر ان کے موتی نما ہوجانے سے محظوظ ہوا کرتے تھے۔ “ گوکھرو“ کا کانٹا وہی ہوتا ہے جو پی ٹی شو کے پتلے ہوجانے والے سول سے تلوے کو چھید دیا کرتا تھا اور ایک خود رو زمین کے ساتھ چپکی ہوئی بوٹی ہوتی ہے۔ ایک صاحب اپنے گردے کی پتھری کی ساخت بتاتے ہوئے اسی گوکھرو کی مانند کہنے لگے اب بھائی لوگ پتھری بھول کر گوکھرو کی تلاش میں خیالی گھوڑے دوڑانے لگے۔

کانٹے کی بات ہو اور کیکر کی طرف ذہن نا جائے ایسا مشکل ہی ہوتا ہے کیکر اور ببول کے متعلق بھی شک ہی رہتا ہے کہ کراچی میں کیکر پیلی پھلی دار پھل والا درخت کہلاتا ہے جبکہ ببول رنگدار چھال والا اور جس کی کچی پھلی لیسدار ہوتی ہے اور پتے کیکر ہی کی طرح لیکن چھوٹے ہوتے ہیں( ببول کے ساتھ ہی خار مغیلاں بھی ذہن میں در آتا ہے)۔ شیشم (نازیہ حسن والی جس ٹاہلی کے نیچے بیٹھ کر پیار کی باتوں کی دعوت تھی) کے متعلق کہا جاتا ہے کہ گھر میں بیٹی پیدا ہوتی تھی تو باپ ٹاہلی کا پودا لگا دیتا تھا کہ کل کلاں جب شادی ہوگی تو جہیز کے فرنیچر(ہمارا فرنیچرکیا ہوتا تھا؟؟؟) لکڑی گھر سے دستیاب ہوجائے گی۔
گوندی اور جنگل جلیبی کے درخت تو اب ڈھونڈے سے نہیں ملتے، اسی طرح بَڑھ یا برگد کے بڑے بڑے جٹادھاری پیڑ غائب ہوگئے ہیں، کینیڈا والے میپل لیف کو سب پہنچانتے ہیں کوئی پیپل کا نام لے دے تو چہرہ سوالیہ نشان بن جاتا ہے۔
پچھلے سال ایک گلی سے گزرتے ہوئے دیکھا کہ شوخ پیلے رنگ کے انگور نما پھولوں سے ایک درخت مزین ہے بلاشبہ اس قسم کا خوبصورت درخت شاید میری زندگی میں کبھی نہیں گزرا تھا وہاں میں ٹہرا تصاویر اتاریں بچوں کو لا کر دکھایا کیونکہ تصاویر سے منظر کا حق ادا نہیں ہو رہا تھا۔

اب درخت کے ساتھ لگے پھل سے میں درخت کو پہچان چکا تھااور مجھے یہ بھی یاد آرہا تھا کہ بہت بچپن میں اسے میں کراچی میں دیکھ چکا ہوں مگر بہارمیں پھولوں سے لدا پہلی دفعہ دیکھ رہا تھا۔ اس سال والد صاحب کو فیصل مسجد لیکر گیا تو وہاں بھی درخت پھولوں سے لدے ہوئے تھے جنہیں دیکھ کر والد صاحب نے بتایا کہ یہ املتاس ہے اور کراچی میں بھی کافی ہوتا ہے بلکہ تھا۔

چنبیلی، موتیا، گیندا، سدابہار ، ہار سنگھار، عشق پیچاں، نیلوفر( کنول)، رات کی رانی (یا نائٹ جاسمین لکھتے ہوئے بھی سارا اس کی خوشبو میں مہک گیا ہے) جانے کیا کیا نام ہیں جنکے تصور ہی سے ذہن گویا گوشہ چمن بن جاتا ہے۔
پھر ایک نام ہے “ امر بیل“ جانے کیوں طفیلیے قسم کے چاپلوسوں کو دیکھتے ہی ذہن سے چپک جاتا ہے؟؟؟

About these ads

3 comments on “پھول پودے

  1. Plumeria کی خوشبو۔ واہ کیا بات ہے۔ اسلام آباد میں اس کا پودا یا بیج کہاں سے ملے گا؟
    تلسی میرے گھر میں لگی ہوئی ہے جس کی چٹنی بڑے مزیدار ہوتی ہے۔

  2. ایک نرسری سے اس کا پودا مل ہی گیا۔ مالی کے بقول اس کا نام گلِ چین ہے۔

  3. سنگاپور کے سائنس سنٹر میں Plumeria کے تنے پر فرنگی پانی ( FARANGI PANI ) کی تختی لگی دیکھی تھی۔ گلِ چین بھی اسکا نام ہوگا۔ بہرحال مدھر خوشبو کا جواب نہیں۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

Follow

Get every new post delivered to your Inbox.

%d bloggers like this: