تبصرہ کیجیے

صرف گنگا نہیں نیلم بھی میلی ہو چکی ہے!

گنگا تو میلی پہلے ہی تھی نیلم کا دامن بھی داغدار کیا جارہا ہے۔ یہ مناظر ہماری عام زندگی کا حصہ بن گئے ہیں جہاں صاف شفاف بہتا پانی دکھائی دیا لگے گند گھولنے۔ میں نے یہ تصاویر تو مظفرآباد میں دریائے نیلم پر لیں ہیں جہاں دریا ابھی شہر میں داخل ہی ہوتا ہے کہ یہ سروس اسٹیشن اسمیں موبل آئل اور گاڑیوں کا گند عین انتظامیہ (؟؟) کی ناک کے نیچے ملاتے رہتے ہیں۔


ایسے ہی بیشمار مناظر بالاکوٹ سے کاغان کی طرف بھی دیکھنے کو ملیں گے۔ جانے کون لوگ ہیں ہم؟ ہمیں اپنے آپ پر بھی ترس نہیں آتا؟ یوں یہ سلسلہ منبع آب سے جو شروع ہوتا ہے تو فیصل آباد، شیخوپورہ ، کالا شاہ کاکو، روہڑی سکھر سب حسبِ توفیق اسمیں گند ملاتے جاتے ہیں اور پھر بیحسی سے گیسٹرو کی اموات کی گنتی سنتے جاتے ہیں۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ آج 37 کا ہندسہ تھا اور جانے کتنے کھلے دالانوں والے ہسپتال کہلائے جانے والے احاطوں میں نیم جان بلک رہے ہوں گے۔ لیکن میری قوم تو ایک نازک دور سے گزر رہی ہے!!!!

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: