2 تبصرے

چیف جسٹس چوہدری افتخار کی بحالی

مبارک ہو تمام جمہوریت پسند، آمریت مخالفوں اور جدوجہد پر یقین رکھنے والوں کو۔
ایسے وقت میں جب سیاسی پارٹیاں تزبزب کا شکار ہوں ٹریڈ یونین اور طلباء یونین کا وجود ہی صاف کردیا گیا ہو مڈل کلاس طبقہ جبر کے خلاف صف آرا ہوکر کچھ چھین لے یہ بہت بڑی بات ہے میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ فیصلہ پاکستان کا “یومِ باسل“ ہے۔
وکلا کی اس جدوجہد میں کتنے ہی مشکل مقامات آئے لیکن آفرین ہے کالے کوٹوں پر جنہوں نے اپنے بے مثال اتحاد اور سیاسی شعور سے ان رکاوٹوں کو عبور کیا۔ یہ فیصلہ جو ایک سنگِ میل ہے ایک پیغام ہے ان قوتوں کے نام جو پاکستان کے عوام کے سیاسی شعور سے مایوس ہوگئے ہیں۔ ایک دفعہ پھر ثابت ہوگیا کہ کوئی جائز ایشو ہو اور قیادت پر اعتماد ہو تو کارکن ہر تعصب سے بالاتر ہوکر اپنے کاز اپنے مقصد کے حصول کے لیے سر دھڑ کی بازی لگا دیتا ہے۔
وکلاء برادری جو پنجابی بھی ہیں سندھی بلوچی مہاجر اور پٹھان بھی، سیاسی طور پر بھی کوئی پیپلز پارٹی کا حامی تو کوئی اے این پی اور ایم کیو ایم کے لیے ہمدردیاں رکھتے تھے بلکہ کئی ایک اپنی اپنی سیاسی پارٹیوں میں بہت زیادہ فعال ہیں لیکن اس ایشو پر اس نکتہ پر بلا کسی تفریق کے کندھے سے کندھا ملائے نظر آئے نہ ایم کیو ایم کوئی دراڑ ڈال سکی نا مسلم لیگ ق کے ابن الوقت کچھ بگاڑ سکے۔ نا کسی وکیل نے شیعہ سنی اور مُلا اور سوشلسٹ کا دائرہ کھینچا اور نا ان اختلافات کا ہلکا سا شائبہ اس تحریک میں داخل ہوسکا۔
یقینًا یہ اسی شعور کا نتیجہ ہے کہ کوئی وکیل پھر بھی وکیل ہی رہتا ہے چاہے وہ کسی نسل کسی مزہبی اور سیاسی گروہ سے تعلق رکھتا ہو اور اگر نصب العین واضح ہو تو چھوٹے موٹے اختلافات خود ہی ختم ہو جاتے ہیں۔ آج بلوچ وکیل ایک طرف اپنے حقوق کے لیے مرکز اور فوجی سرکار کیخلاف صف آرا ہے تو ساتھ ہی عدلیہ کی آزادی کے لیے پنجاب کی وکیل برادری سے بھی جڑا رہا۔ اس تحریک نے اپنے وقتوں کی مزدور تحریکوں کی یاد دلا دی آمریت کے پروردہ ہمیں جتنے خانوں‌میں بانٹ لیں‌ کتنے ہی ٹاؤٹوں کے ذریعے عوام کو ایک دوسرے کے سامنے صف آرا کردیں جب عوام جاگتی ہے تو یہ چوہدری، خان ، ارباب صرف بے غیرتی سے اپنے زخم ہی چاٹتے رہتے ہیں۔ کونسا حربہ انہوں نے اس تحریک کو کمزور کرنے کے لیے نہیں آزمایا دھمکایا گیا پولیس سے اٹھوایا گیا لاتھی چارج تو لاتھی چارج گولیوں سے راستہ روکا گیا بم بلاسٹ رہ گیا تھا وہ بھی کر دیکھا۔ لاکھ آفرین ہو عدلیہ کی آزادی کے متوالوں کو کہ اس ابتلاء اور آزمائش سے سرخرو ہوئے ساتھ ہی اس راہ میں کام آنے والوں کو سرخ سلام جنہوں نے اپنی جانیں وار دیں ان کی عظمتوں پر کوئی شک نہیں۔
جس وقت سپریم کورٹ میں چوہدری افتخار کی بحالی کا فیصلہ سنایا جا رہا تھا تو پہلی ایک دو لائنیں سننے کے بعد ہی وکلا برادری نے پرجوش نعروں سے باقی اعلان سننے ہی نا دیا اور “گو مشرف گو“ کے نعروں سے سپریم کورٹ کی عمارت گونج اٹھی۔ یہ کامیابی یقینًا مشرف کو تو نا بھجواسکے لیکن شاید کئی اور جمہوری تحریکوں کے لیے مہمیز ثابت ہو۔

محفل میں نبیل نے غلام اسحاق خان کے شرمناک کھیل کا حوالہ دیا کہ جب سپریم کورٹ نے نواز شریف والی اسمبلیاں بحال کردیں تو اس پیرِکذب و مکر نے اسمبلیاں توڑ کر دوسرا ہی کھیل شروع کردیا۔ آج کا فیصلہ مختلف ہے کہ فوج اگر ویسا ہی قدم اٹھانا چاہے تو اسے ننگی جارہیت پر اترنا ہوگا۔ دوسرا یہ فیصلہ کسی نے رحم کھا کر نہیں کیا بلکہ وکلا برادری کے بےمثال اتحاد اور قربانیوں کا ثمر ہے۔
جن کا دیں پیرویء کذب و ریا ہے اُن کو
ہمتِ کفر ملے، جراتِ تحقیق ملے
جن کے سر منتظر تیغِ جفا ہیں انکو
دستِ قاتل کو جھٹک دینے کی توفیق ملے

2 comments on “چیف جسٹس چوہدری افتخار کی بحالی

  1. سب سے پہلے تو بہت بہت مبارک ہو رضوان ، بلاگ شروع کرنے پر ، مجھے دلی خوشی ہوئی ہے کہ اب ایک صائب رائے شخص کو پڑھتے رہنے کا موقع ملتا رہے گا۔
    دوسرے مبارکباد لو چیف جسٹس کی بحالی کی ، مٹھائی پکی ہے تمہاری طرف🙂

    آخری قطعہ بھی لاجواب ہے بھئی خدا سب کو ایسی توفیق دے۔

  2. خیر مبارک اور اس فیصلے کے نتائج بھی آنے شروع ہوگئے ہیں جاوید ہاشمی کی رہائی بلاشبہ اس جراتمندانہ فیصلے کا ثمر ہے۔ خدا اس قوم کو باقی آزادیاں بھی نصیب کرے۔ آمین

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: