3 تبصرے

سرسید احمد خان

اب جبکہ پاکستان کے قیام کو ساٹھ سال ہونے والے ہیں زیادہ تر فکری معاملات میں ہم ابھی تک کولہو کے بیل کی طرح ایک ہی دائرے میں گھوم رہے ہیں وہی رٹی رٹائی گردانیں ہیں وہی مکھی پہ مکھی مار قسم کا تقلیدی رویہ۔ مزہب اور مزارات کے متولیوں کو ابھی بھی سرسید ایک قابوس یا
Nightmare
کی طرح چِپکا ہوا ہے بھئی اب اُسے بخش دو بہت ہو گیا اب کوئی راسخ العقیدہ مسلمان جدید تعلیم کی نہیں سوچے گا اور سوچے گا بھی تو وسائل دوسرے استعمال کریگا آپ کے چندے اور عطیات پر ڈاکہ نہیں مارے گا۔
سر سید کے کام کو گہنانے اور اپنی کوتاہیاں چھپانے کے لیے 1917 عیسوی میں لیے گئے علماء الازھر اور مفتیانِ دیوبند و بریلی کے فتوے گھمائے جارہے ہیں کہ سرسید کی خدمات کا ابطال کیا جاسکے اور ثابت کیا جائے کہ وہ کوئی عالمِ دین نہیں تھا اور اس نے اسلام کی کوئی خدمت نہیں کی۔
اب کوئی ان سے یہ کہے کہ سر سید کو مزہبی پیشوا کو ن مانتا ہے اگر مزہبی پیشوا مانتے تو لوگ سرسید کی قبر کو منبع نور و ہدایت جان کر وہاں منتیں مانتے اور چادریں چڑھا رہے ہوتے اور آپ کے کوئی بھائی بند صندوقچی پر نظر جمائے بیٹھے ہوتے۔
اسمیں شبہ نہیں کہ بلا شبہ علماء بریلی شریف، علماء دیوبند اور علماء الازہر یونیورسٹی دین کی خدمت کر رہے ہیں۔
لیکن سرسید رحمت اللہ علیہ ( یا
God bless him)
کی عظمت کی وجہ خدمتِ مسلمان ہے۔
کیا اس حقیقت سے کسی کو انکار ہے کہ سرسید رحمت اللہ علیہ ( یا
God bless him)
کے لگائے ہوئے بیج نے چھتناور درخت بن کر بریصغیر کے مسلمانوں کو چھتر سایہ دیا؟ اگر علیگڑھ نا ہوتی تو کیا چودہ اگست 1947 کو پاکستان وجود میں آجاتا؟ پاکستان کی تحریک کا ہر اول دستہ علیگڑھ تھا یا دارالعلوم دیوبند اور بریلی؟ کیا یہ سر سید ہی نہیں تھے جو 1857 کے پر آشوب دور کے بعد مسلمانوں کے لیے لڑے یا مولانا قاسم ناتونوی صاحب اور اعلیٰ حضرت عدالتوں میں جاکر معتوب مسلمانوں کی پیروی کرتے تھے؟

” سرسید نے مسلمانوں کی اصلاح و ترقی کا بیڑا اسوقت اٹھایا جب ہندوستان کی زمین مسمانوں پر تنگ تھی اور انگریز اُن کے خون کا پیاسا ہو رہا تھا۔ وہ توپوں سے اڑائے جاتے تھے، سولی پر لٹکائے جاتے تھے، کالے پانی بھیجے جاتے تھے۔ اُن کے گھروں کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی تھی۔ اُنکی جائدادیں ضبط کر لیں گئیں تھیں۔ نوکریوں کے دروازے اُن پر بند تھے اور معاش کی تمام راہیں مسدود تھیں۔”
” وہ دیکھ رہے تھے کہ اصلاح احوال کی اگر جلد کوشش نہیں کی گئی تو مسلمان ” سائیس خانساماں، خدمتگار اور گھاس کھودنے والوں کے سوا کچھ اور نہ رہیں گے”۔
سر سید نے محسوس کر لیا تھا کہ اونچے اور درمیانہ طبقوں کے تباہ حال مسلمان جب تک باپ دادا کے کارناموں پر شیخی بگھارتے رہیں گے۔۔۔۔ اور انگریزی زبان اور مغربی علوم سے نفرت کرتے رہیں گے اُس وقت تک وہ بدستور ذلیل و خوار ہوتے رہیں گے۔ اُنکو کامل یقین تھا کہ مسلمانوں کی ان ذہنی اور سماجی بیماریوں کا واحد علاج انگریزی زبان اور مغربی علوم کی تعلیم ہے۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کی خاطر وہ تمام عمر جدوجہد کرتے رہے۔”
( سبط حسن کی کتاب ” نویدِ فکر” سےچند اقتباسات)
دوسری بات یہ کہ جس چھاپے خانے سے ہماری آپکی دینی کتب چھپ کر آتی ہیں، جن بلبوں اور فانوسوں کی روشنی میں ہم مطالعہ کرتے ہیں جن جہازوں پر بیٹھ کر ہم عمرہ و حج کرنے جاتے ہیں اور طرہ یہ کہ جن کمپیوٹروں کے ذریعے اس وقت ہم لکھ اور پڑھ رہے ہیں کیا وہ کسی مسلمان مزہبی رہنما کی ایجاد ہیں؟ اور کیا ہم ان ایجادات فیض اٹھانا بند کردیں کہ یہ لوگ تو مسلمان نہیں یا صلواۃ و سلام نہیں پڑھتے اور لبیں نہیں کترتے؟
ہم سے جب کچھ بن نا پڑے تو ہم کوسنوں پر اتر آتے ہیں کبھی دین و مزہب کا کہ شیعہ سنی قادیانی وہابی ہندو اور عیسائی اور کبھی قومی و صوباوی کہ سندھی، مہاجر پٹھان

3 comments on “سرسید احمد خان

  1. بہت ہی عمدہ۔ جس طرح سرسید کے کردار کو مسخ کرنے کی کوشش نام نہاد مذہبی حلقوں ہی نے نہیں کی بلکہ حکومتوں نے بھی سرسید کے افکار کو نصاب میں توڑ مروڑ کر پیش کیا۔ جس سے طالبعلموں کے ذہنوں میں شک پیدا ہوتا ہے۔ افسوس کہ سرسید کے گزر جانے کے ایک سو دس سال بعد بھی ہم ابھی تک تعلیم ہی کے میدان میں پچھڑے ہوئے ہیں۔ اگر ان کی تحریک کو مذہبی حلقوں یا پاکستان کے نام نہاد نظریاتی حلقوں کی مدد حاصل رہتی تو ہم آج کہیں اور ہوتے۔

  2. سرسید کی انہی خدمات کی جھلک آپ جیسے بلاگروں کی دینی فکر میں بخوبی دیکھی جاسکتی ہے۔
    جہاں تک انگریزی علوم و فنون کے سیکھنے سکھانے کی بات ہے تو آج تک آج تک کسی صاحب فہم عالم یا دیندار نے اسکی مخالفت نہیں کی ہے۔ البتہ انگریزی تہذیب کو اپنانے کا نسخہ اکسیر جو سر سید نے عطاء کیا تھا اسکا رد ہر ذی شعور اور صاحب دل مسلمان نے ضرور کیا تھا اور کرتا رہے گا چاہے سو کیا ہزار سال بھی گزر جائیں۔

  3. مضمون نگار نے لکھا ہے
    “:اگر علیگڑھ نا ہوتی تو کیا چودہ اگست 1947 کو پاکستان وجود میں آجاتا؟ پاکستان کی تحریک کا ہر اول دستہ علیگڑھ تھا یا دارالعلوم دیوبند اور بریلی؟ کیا یہ سر سید ہی نہیں تھے جو 1857 کے پر آشوب دور کے بعد مسلمانوں کے لیے لڑے یا مولانا قاسم ناتونوی صاحب اور اعلیٰ حضرت عدالتوں میں جاکر معتوب مسلمانوں کی پیروی کرتے تھے؟ ”

    اس بات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یا تو صاحب مضمون پاکستان بننے کی تاریخ سے انتہائی جاہل ہے یا وہ ان علمائے کرام سے خاص قسم کا تعصب ہے ۔ مضمون نگار کو نہ تو مولانا ظفر احمد عثمانی، مفتی شفیع، مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ کا پاکستان بننے میں کردار جسے خود قائداعظم نے بھی سراہا تھا نظر آرہا ہے اور نہ مولانا شبیر احمد عثمانی سے اپنا جنازہ پڑھانے کی قائداعظم کی نصیحت نظر آرہی ہے۔ صرف ایک بات سن لیں سرسید احمد خان کے تعلیمی ادارے علی گڑھ سے صرف دو شخصیات ایسی نکلیں ہیں جن کا تاریخ میں نام ہے وہ ہیں مولانا محمد علی جوہر اور مولانا شوکت علی۔ آپ ان دو شخصیات کی زندگی پڑھیں ۔ آپ کو پتا چلے گا کہ یہ خود علی گڑھ کے سخت خلاف تھے۔ اسکی وجہ یہ تھی کہ جب انہوں نے انگریزوں کے خلاف تحریک خلافت چلانی شروع کی تو سب سے ذیادہ مخالفت علی گڑھ سے آئی تھی، علی گڑھ میں اس طرح صف ماتم بچھ گئی تھی جیسے مولانا برادران نے کلمہ کفر کہہ دیا ہوں یا مسلمانوں کے خلاف اعلان جہاد کردیا ہو، وجہ یہ تھی کہ علی گڑھ انگریز کی آشیر باد سے چلنے والا ادارہ تھا، وہ کیسے انگریز کے خلاف تحریک برداشت کرسکتا تھا۔ دوسری بات یہ دیوبند ہی تھا جس کی تعلیم نے محمد علی کو مولانا محمد علی جوہر بنا دیا تھا۔

    دوسری بات مضمون نگار نے اسی پہرے میں اپنی ایک اور جہلات کا اظہار کیا کہ 1857 کی جنگ آزادی میں سرسید احمد خان مسلمانوں کے لیے لڑے تھے یا مولانا قاسم نانوتوی۔؟

    حد ہوگئی جہالت کی ۔ مضمون نگار صاحب یہ مولانا قاسم نانوتوی تھے جنہوں نے اس جنگ میں شاملی کے مقام پر انگریزوں کے خلاف جہاد کیا تھا، اور یہ سرسید احمد خان تھے جنہوں نے اس جنگ کو غداری کی جنگ ” غدر ” کہا تھا اور مسلمانوں کا دفاع کرنے کے بجائے انگریزوں کو بچایا اور انکا دفاع کیا تھا، جس کے صلے میں انہیں سر کا خطاب ملا اور مرنے تک انگریز کی ان پر عنایت خاص رہی ۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: