تبصرہ کیجیے

کیا ہم نے پاکستان کو کچھ نہیں دیا؟

ہم پاکستانیوں سے کوئی اگر یہ پوچھے کہ انہوں نے پاکستان کو کیا دیا؟ تو فوراً ڈیفنسیو چلے جاتے ہیں۔ جی میرا بھی یہی مطلب ہے کہ
جرنیل نی کرنیل نی
اور جب اپنی طرف دیکھتے ہیں تو ساتھ ہی رد عمل میں ایک کوندا سا لپکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔
پاکستان نے ہمیں کیا دیا؟ رشوت، بدعنوانی، ساری دنیا کی نفرت؟؟
ہمیں یہی باور کروایا گیا ہے کہ بس پاکستان کو تو انہوں نے ہی بہت کچھ دیا ہے جنکو ستارہ اور نشانِ امتیاز ملتے ہیں یا جنکو کوٹ مٹھن میں زمینیں الاٹ ہوئی ہیں اور اب تگڑے گاہکوں کی تلاش ہے۔
دکھ جھیلیں بی فاختہ کوے انڈے کھائیں
اپنی خدمات کی ہمیں خود قدر نہیں ہوتی ہم اس قوم کے افراد ہیں جسمیں کام کرنے والے بول نہیں سکتے کیونکہ اس معاشرے میں کمیوں کی کوئی عزت نہیں کمی کون ہیں محنت کش، مزدور، کارکن ، ہاری اور ہر وہ شخص کہ جو پیداواری عمل کا حصہ ہے۔
میرے وطن کی اکثریت مجاہدہ کر رہی ہے گاؤں والی کی محنت و ریاضت تو مسلمہ ہے لیکن شہروں والوں سے بھی پوچھیں کہ سارا سارا دن دفتروں کارخانوں میں کام کے بعد جب گھر پہنچ کر بجلی اور پانی کے لیے ترسنا پڑتا ہے ٹی ری چینلوں پر لاشیں اور زخمیوں کی آہ و بکا سننی پڑتی ہے تو کس حال میں روز شب گزرتے ہیں پھر اکثر شب کو تنہائی میں یہ سب محب الوطن یہ ضرور سوچتے ہوں گے کہ ہمیں پاکستان نے کیا دیا؟ لیکن اس سے پہلے کہ یہ سوچ ان کی زبان پر آئے پوچھ لیا جاتا ہے!
آپ نے پاکستان کو کیا دیا؟
اب تو بڑے بڑے اداروں کی انتظامیہ بھی یہ گُر سمجھ گئی ہے اور سال کے آخر میں خالی اپریزل کارکن کے ہاتھ میں دے دی جاتی ہے کہ میاں سال بھر میں جو تیر مارے ہیں ان کا کچا چٹھا خود ہی کھول دو۔ سوالنامہ اس طرح مرتب کیا جاتا ہے کہ بجائے انکریمنٹ کے تنزلی و سبکدوشی سے جان جھڑانی مشکل ہو جاتی ہےکیونکہ غلطیاں بھی کام کرنے والوں سے ہی ہوتی ہیں سادہ دل بندے ان خطاؤں کو یاد کر کے دہل جاتے ہیں اور باتیں بنانے والے
قرطاسِ ابیض
چھاپتے ہیں۔
ہم میں اتنا حوصلہ نہیں ہوتا کہ بڑھ کر کہہ سکیں کہ میں وہ کارکن اور سپاہی ہوں جس کے کاندھے پر چڑھ کر آپ نے یہ اعزازات اپنے شانہ مبارک اور سینے پر سجائے ہیں۔
اگر کارکن نہ ہوں تو لیڈری کیسے چمکے اور اگر سپاھی نہ ہوں تو سپہ سالار کیسا؟
اسی طرح جیسے کوئی سپاہی گولیوں کی بارش اور دشمنوں کی یورش کے باوجود محاذ پر ڈٹا رہتا ہے اور ساری قوم کے لیے سر مایہ افتخار بن جاتا ہے ویسے ہی معزز اور لائقِ اکرام ہے وہ شخص جو باوجود دھمکیوں کے اپنا فرض ادا کرنے کے لیے اڑا رہے۔ کیا فیض الرحمٰن اس وجہ سے لائق اعزاز نہیں ہے کہ وہ ایک ایمبولینس ڈرائیور تھا اور12 مئی کو شر پسندوں کے عزائم کے خلاف زخمیوں اور لاشوں کو اسپتال لیجانے پر مصر رہا اور آخر کار اپنے فرائض کی ادائیگی پر مصر رہنے کے جرم میں شہید کر دیا گیا۔
اور اس کے علاوہ ایسے کتنے ہی گمنام شہید ہیں جو میرے وطن کی سماجی سیاسی اور معاشرتی آزادی کے لیے راہِ وفا میں مارے گئے۔
ان تمام شہیدوں کی روحیں منتظر ہیں کب اہلِ وطن ان کی قربانیوں کو بھی تسلیم کرتے ہیں۔
ہم نہیں بولیں گے تو کون انہیں سمجھائے گا کہ سادہ کپڑوں کی عزت سے خاکی وردی پر داغ نہیں آئے گا بلکہ خاکی وردی کا مان اور بڑھ جائیگا۔
ان تک بات پہنچانے سے پہلے اپنے آپ کو بھی سمجھانا ہے کہ میں بھی معزز شہری ہوں رعایا نہیں۔
میں جو قطار میں لگ کر ٹیکس اور بل جمع کرواتا ہوں مراعات نہیں لیتا۔
میں جو فصل بوتا ہوں کہ میرے وطن کو اناج کے لیے ہاتھ نہ پھیلانا پڑے۔
میں جو کارخانے چلاتا ہوں کہ میرے وطن کی ستر پوشی قائم رہے۔
میں کہ درس گاہوں و جامعات میں علم کا نور پھیلاتا ہوں کہ میرے وطن سے ظلمت دور رہے۔
میں کہ ۔۔۔۔۔۔۔
میں کہ ۔۔۔۔۔۔
!!!!!!!!!!!!! اب میرا سوال کہ یہ سب جو وطن کو دیا جارہا ہے آخر جاتا کہاں ہے؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: