تبصرہ کیجیے

ہارن دو راستہ لو

یہ جملہ ٹریکٹروں اور ٹرالوں کے پیچھے تو لکھا دیکھا ہی تھا کہ انہوں نے آہستہ خرامی سے “ کے ٹو کی دھن میں مگن “ چلتے ہی جانا ہے اور اپنی گاڑی کا شور تو جو ہوتا ہے ساتھ ہی بلند آہنگ
کھچ میری فوٹو تے بٹوے وچ لادے
کا مطالبہ بھی ہورہا ہوتا ہے۔ انہوں نے ہی جلد باز اتاؤلوں کے لیے “ ہارن دو رستہ لو “ کا مشورہ لکھ رکھا ہوتا ہے۔ راہ چلتے، سیر کرتے ہوئے بھی کچھ لوگ راستے کو یوں گھیر لیتے ہیں کہ نہ خود آگے بڑھتے ہیں نہ ہی دوسروں کو آگے بڑھنے دیتے ہیں۔ اب اگر بندہ اپنے لیے راستہ لینا چاہے تو اسکے لیے سندھ کے ایک بزرگ (انکا نام شیشے کے عکس کی وجہ سے دھندلا گیا ہے اگلے ہفتے ہی میں صاف تصویر لے آؤں گا عملے کی نگاہ بچا کر) کو نہایت عمدہ خیال سوجھا اور سندھیالوجی میوزیم جامشورو والوں نے آئندہ آنے والی نسلوں کے لیے ان کی یہ کارآمد ایجاد محفوظ کر لی ۔

پہلی تصویر میں بھانت بھانت کی چھڑیوں کے درمیان ایک چھڑی کھڑی ہے جس کے ساتھ بیک ویو مرر اور بھونپو منسلک ہے۔ کہیے ہے نا نادر خیال؟

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: