1 تبصرہ

بارش

برسات کا حال بھی اس مہمان جیسا ہوتا ہے جسے بڑے چاؤ اور فرمائشوں سے بلایا جاتا ہے اور جب دو دن گزرتے ہیں تو اہلِ خانہ کھسر پھسر کرنے لگتے ہیں کہ اب جاتا کیوں نہیں ہے؟ آواز جان بوجھ کر اتنی دھیمی نہیں رکھی جاتی کہ مہمان کے کانوں تک نا پہنچے۔ پہلے بارش بھی جون جولائی میں گرمیوں کی چھٹیاں گزارنے آنے والے رشتے داروں کے ساتھ آتی تھی اب چونکہ ذرائع نقل و حمل میں کافی ترقی ہوگئی ہے اس لیے اس ٹائپ کے رشتہ دار اور بارش وقت بے وقت ٹپک پڑتے ہیں۔ اب جلدی جلدی کپڑے بستر سمیٹو ادھر ادھر بکھری اشیاء کو ٹھکانے لگاؤ۔ بارش کے پانی اور رشتہ داروں کے بچے ایک سا ہی نقصان کرتے ہیں بلکہ غالب کے کرائے کے مکان کی مانند چھت نہ ٹپکتی ہو تو بارش میں اندرون گیلا ہونے کا امکان نہیں ہوتا بچوں کے معاملے میں یہ گارنٹی نہیں دی جاسکتی کیونکہ سگھڑ مائیں میزبان کے گھر پہنچتے ہی ہونہاروں کو پیمپر کی بندشوں سے آزاد کرنا اپنا فرض اولین جانتی ہیں “ ہا! اب ایسا بھی کیا کہ ہر وقت قید ہی رہے!“ ان نونہالیں کی آزادی کے سیلِ رواں پر میزبان جا بجا بند باندھتے دکھائی دیتے ہیں۔
سچی بات یہ ہے کہ کراچی میں تو بارش ہمیشہ سے ہی ایک قابلِ ذکر چیز اور واقعہ رہی ہے۔ پنڈی اسلام آباد میں بارش اور گاؤں سے آئے رشتہ داروں کو کوئی لفٹ نہیں کراتا۔ کراچی میں بارش کا پہلا قطرہ ٹپکا نہیں اور چھٹی کے لیے بہانہ بازی شروع ہوجاتی تھی اب تو خیر ٹریفک جام اور بجلی کی بندش نے ساون کی جھڑی کا سارا رومانس کرکرا کردیا ہے، پہلے گھنگھور گھٹا چھاتے ہی ریڈیو پاکستان کو ساون کے گیت اور راگ ملہار سوجھتے تھے اب راگ مالکونس میں بلکہ کوس کوس کر برسات کے زمانے کے لیے حفاظتی اقدامات سنائے جاتے ہیں۔
بارش کا ایک اور طرفہ تماشہ یہ ہے کہ اگر کچھ ہفتے نا ہو تو بارانی علاقے اور جنوبی پنجاب والے نماز استسقاء کے لیے صفیں سیدھی کرنے لگتے ہیں اور جس مجذوب و ملنگ کے مستجاب الدعوات ہونے میں رتی بھر بھی شبہ ہو اسے بچا کھچا اناج کھلا کر منت سماجت کیجاتی ہے۔ اُدھر نوابشاہ، خیرپور اور کچے کے علاقوں میں جیسے ہی نمازِ استسقاء کی خبر پہنچتی ہے تو مؤذنین کے گلوں کو تر کیا جاتا ہے کہ تیار رہو بارش رکوانے کے لیے ورنہ بھُگتو گے سیلاب کو۔
پہلے جو تبدیلیاں صدیوں میں آتی تھیں اب عشروں میں ہی کایا پلٹ جاتی ہے پہلے بعد از برسات بیر بہوٹیاں نکلا کرتی تھیں سرخ سُرخ مخملی مخملی سی! اب پلازوں اور کنکریٹ جنگل نے ذرا سی بھی کچی زمین نہیں چھوڑی لیکن سیاہ کیچڑ میں وقت کے ساتھ ساتھ اضافہ ہی ہو رہا ہے جسکے پکے داغ سو طرح کی دھلائیوں کے بعد بھی نہیں جاتے۔ جانے یہ
“ ۔۔۔۔۔۔ دھبّے دھلیں گے کتنی برساتوں کے بعد“

One comment on “بارش

  1. […] رضوان نور صاحب کا بلاگ بھی مجھے بہت پسند ہے ان کی پوسٹ بارش ملاحظہ فرمائیں۔ جہانزیب، شاکر اور شعیب صفدر کے بلاگ […]

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: