3 تبصرے

شب برات کی پھلجھڑیاں

آج شب برات ہے!
جیسے مثالیں دی جاتی ہیں کہ ہر دن عید کا اور رات شبِ برات ہو!
شبرات کے نام سے یادوں میں انار اور پھلجھڑیاں چھوٹنے لگتی ہیں، رنگ برنگی چٹپٹیاں اندھیرے میں چمکتا فاسفورس اور اس کی مہک جیسے ابھی کل ہی بات ہو۔ آتش بازیاں بھی قسموں قسموں کی ہوتی تھیں راکٹ، شُرلی، ڈھبری، چھچھوندر جس کے فلیتے کو آگ دکھانے سے پہلے ذرا اونچی جائے پناہ ڈھونڈھ لیجاتی، دیوار پر پھوڑنے والے پٹاخے اور بم۔ حادثات اُسوقت بھی ہوتے تھے لیکن مکانات فاصلے فاصلے سے ہوتے تھے اور ان مشاغل کے لیے میدان اور کشادہ جگہیں بھی میسر تھیں غرض شبرات کا اہتمام شعبان کی شروع ہی سے کردیا جاتا تھا۔
آج ہدایت و تعلیم کا نور اسطرح پھیلا ہے کہ اب خوشی منانے سے پہلے سوچنا پڑتا ہے کہ یہ کس فرقے کا تہوار ہے؟ میرا تعلق کس فرقے سے ہے؟ کس کو مبارکباد دوں کس کو نہیں؟ حلوہ کِس کے گھر بھیجنا ہے؟ حلیم کہیں غلط پڑوسی کے ہاں نہ چلی جائے؟ کونڈوں سے کہیں باہمی منافقانہ خیر سگالی کا ہی کونڈا نہ ہوجائے؟ بارہ ربیع الاول پر پہلے صرف اسکولوں کی حد تک نعتیہ پروگرام اور سیرت النبّی صلعم کے جلسے ہوا کرتے تھے اب بارہ ربیع الاول کے دن بھی کہ رحمت العالمین کے حوالے سے عید میلاد النبّی صلعم ہے  پولیس کی اسپیشل ڈیوٹی لگائی جاتی ہے اور شام کو مائیں تب سُکھ کا سانس لیتی ہیں جب ان کے لال خیریت سے گھروں کو لوٹ آتے ہیں۔
زندگی کا بیشتر حصہ عرب کے ریگستانی معاشرے میں گزارنے سے کئی ایک سماجی اور سوشل سرگرمیاں ختم ہی ہو گئیں آج  شام بازار میں ایک عجب قسم کی گہما گہمی نظر آئی، مٹھائی کی دکانوں پر کھجلے پھینیاں اور قتلمے پوریاں سجی دیکھ کر یوں لگ رہا تھا کہ رمضان آگیا ہے دکانوں پر بینر لگے تھے اور تیل کی کڑھاؤ فٹ پاتھ پر ہی سجے تھے پنڈی کی کمرشل مارکیٹ کراچی کا برنس روڈ بنی تھی اس منظر کو دیکھ کر یقین آگیا کہ بھلے عام لوگ بھول جائیں کہ آج شب برات ہے مگر جنکے حلوے مانڈے انہی تقریبات کے دم سے ہیں وہ کہاں بھولنے دیتے ہیں۔
گھر لوٹ کر آئے تو بلڈنگ میں داخل ہوتے ہی اگر بتیوں کی خوشبو نے استقبال کیا – یوں لگا کہ ہم کسی مزار کے احاطے میں داخل ہو رہے ہیں کیونکہ ہماری بلڈنگ کی پشت پر قبرستان ہے اور تیسری منزل پر ہمارے کمروں سے تمام قبریں صاف دکھتی ہیں ویسے تو یہ ایک پرانا قبرستان ہے مگر اپنے پیاروں کو یاد کرنے تو اب بھی لوگ آتے ہیں۔ انہوں نے اگربتیوں کی خوشبو سے سارا مہکا رکھا تھا اور اب شام ہوتے ہی کئی قبروں پر دیئے ٹمٹمارہے ہیں جانے کون لوگ ہوں گے جو چلے گئے مگر ان کے قدرداں ان سے پیار کرنے والے اب بھی اپنی وفاؤں کے چراغ لیے آ موجود ہوتے ہیں۔ ان ٹمٹماتے دیوں کی لوء سے یادوں کے کتنے تاریک کونے آج پھر منور ہوگئے۔
اب کے شب رات پر برسوں بعد ہم نے بھی صابونی حلوے کی کڑھائی چولہے پر چڑھوا دی  کہ زبان و دہن کو اسی پرانے ذائقے سے پھر آشنا کریں۔

3 comments on “شب برات کی پھلجھڑیاں

  1. رضوان پڑھنے میں دیر ہوگیئ مگر اچھا لکھاہے اور میاں اسی طرح لکھتے رہو۔

  2. شکریہ محب
    گاؤں میں کہاوت ہے کہ مبارک باد اور فاتحہ خوانی کبھی بھی پرانی نہیں ہوتیں۔

  3. […] گزشتہ شب برات کی پوسٹ “ شب برات کی پھُلجھڑیاں“ […]

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: