تبصرہ کیجیے

زبردست بہت عمدہ

یادیں بہانے ڈھونڈتی ہیں کسی نہ کسی بہانے سے یاد آنے کیلیے، آج بھولے بھالے پر خلوص مرنجانِ مرنج طارق جسے عقیل مظلوم چڑیا کے نام سے بلاتے تھے خوب یاد آئے۔
ینبع البحر بحیرہ احمر کے کنارے واقع سعودیہ کا ایک قدیم شہر ہے۔ زمانہ قدیم سے مصری حاجی اسی بندرگاہ کو استعمال کرتے تھے اور اب بھی سڑک کےراستے جدہ سے شام اور مصر جانے والے افراد اسی شہر سے گزر کر جاتے ہیں۔ آج کل اس شہر کی وجہ شہرت و رونق یہاں کی صنعتی سرگرمیاں ہیں۔
1994 میں مجھے اور سعید کو ینبع کی ایک ریفائنری میں ملازمت ملی جو ابھی صرف کاغزات میں ہی اپنا وجود رکھتی تھی۔ سال بھر جدہ ہی کی ایک ریفائنری میں تدریب ( ٹریننگ ) کے نام پر روٹیاں کھِلائی گئیں اس دوران  عقیل کو ینبع میں اور طارق کو ہمارے والی ریفائنری(جو اب طارق والی ریفائنری ہے) ہی میں ملازمت مل گئی یوں جب ہم لوگ ینبع شفٹ ہوئےتوچوکڑی پوری ہوگئی ۔ عقیل کی شادی طارق کی بہن کیساتھ ہوئی لیکن ہم سب کی بے تکلفی اور آپس کی چہلوں میں کوئی فرق نہ پڑا اور سب فیمیلیاں ایک دوسرے کیساتھ  مل جُل کر رہتیں اور تفریح کرتیں طارق سب ہی کی عزت کرتا بلکہ سب کو خوب مکھن لگاتا بچوں کو لکھانے پڑھانے اور کرکٹ سکھانے کے علاوہ اس کا محبوب ترین مشغلہ تعریفوں کے پُل باندھنا ہوتا تھا۔ کتابوں کا بیحد شوقین ہے بس الماری بھری اور سجی رہے ادھر کسی نے کتاب مانگی ادھر ایسے پیٹ میں بل پڑتے کہ اندر ہی اندر کُلبلاتا رہتا اوپر ہی اوپر ہنستا رہتا کہ انکار والے دن تو پیدا ہی نہیں ہوا تھا۔ بعد میں دکھڑا مجھے اور عقیل کو سننا ہوتا۔
 بات ہورہی تھی مکھن لگانے کی، طارق بہت مکھن لگاتا ہے لیکن اسکی مکھن بازی فی سبیل للہ ہی ہوتی ہے اکثر اتنا مکھن لگاتا ہے کہ اسے خود ہی پھسلنا پڑتا ہے کہ صرف مکھن باز ہے چاپلوس ہرگز نہیں۔ باہمی دعوتوں میں طارق کا وطیرہ ہوتا تھا کہ چاہے کھانا کیسا ہی کیوں نہ ہو کوئی نہ کوئی پہلو تعریف کا ڈھونڈھ ہی لیتا تھا۔
 ہم مرچوں سے سی سی کیے جارہے ہیں وہ ارشاد فرماتے ہیں “بھابھی! کیا چٹ پٹا حلیم ہے۔“
چکن تکہ ہمارے اناڑی ہاتھوں اور صحرائی بگولوں سے ریت آلودہ ہے۔ لیکن طارق کے بقول کرپس اور کراراپن آگیا ہے۔
حد تو اس دن ہوئی جب اسکی چھوٹی بہن نے کڑاہی گوشت پکایا، سب ہی بیٹھے تھے، طارق صاحب نے پہلا نوالہ توڑا اور ابھی نوالہ ہاتھ ہی میں ہے کہ انہوں نے تعریف و توصیف شروع کردی لاجواب ذائقے کے لیے یہ دیکھ کر عقیل سے رہا نہیں گیا اور بول ہی پڑا “ ابے پہلے چکھ تو لے! پہلے ہی شروع ہو گئے واہ  وا کیا بات ہے۔اتنا مزیدار بنا دیا! تو جتنی بھی تعریف کر دوبارہ نہیں بلانے والے۔“
(آج محفل پر ایک لمبی سی پوسٹ لکھی ابھی تبصرے کے لیے لنک دے ہی رہا تھا کہ ۔۔۔۔۔ پیغام لکھا پایا گیا “ زبردست رضوان عمدہ موضوع چنا ہے!!!!!!!!! “
ارے بھائی پڑھ تو لیتے اتنی بھی کیا جلدی تھی)

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: