3 تبصرے

گمک ( Resonance )

گمک
کوئی پوچھے کہ ادھیڑ عمر مردوں کا محبوب ترین موضوع کیا ہے؟ جواب ہوگا دوسری شادی۔
جن اداروں میں ذرا بے تکلف ماحول ہوتا ہے تو چاہے میٹنگ ہو یا کینٹین، کام کی بات ختم ہوتے ہی ہلکا پھلکا ہنسی مزاق شروع ہوجاتا ہے۔ تختہ مشق نوجوان کنوارے ہوتے ہیں ان کو نشانے پر رکھ کر اپنی نا آسودہ حسرتیں بیان کیجاتیں ہیں یا دوسروں سے اگلوائی جاتی ہیں ۔
کچھ لوگ خاصے کم گو ہوتے ہیں ان کو بلوانے کے لیے مختلف تجربات کیے جاتے ہیں بالکل ایسی ہی جیسے طبیعات1  میں گُمک2  کی مدد سے دوشاخہ3  کا قدرتی تعدد4  معلوم کیا جاتا تھا اسی طرح اپنی خواہشات ومشکلات سنائی جاتی ہیں کوئی ایک مقام آتا ہے کہ کم گوء بھی بول اٹھتا ہے دوسری شادی کا ذکر بھی ایک ایسا ہی جادو ہے جو گونگوں کو بھی بلوادیتا ہے۔
موازنہ ہو رہا تھا موجودہ وقت کی ٹکنالوجیکل سہولیات کا پرانے زمانے سے تو ایک صاحب نے کچھ یوں انکشاف کیے: “ عجیب وقت تھا اب تو موبائل آگئے ہیں پہلے ٹیلیفون بھی کسی کسی کو نصیب ہوتا تھا ہاں فون میں ایک سہولت تھی کہ سی ایل آئی کی “ پکھراہٹ “ نہیں ہوتی تھی۔ جہاں پیغام رسانی مقصود ہوتی تو کبوتر پالے جاتے یا عمومًا نکڑ والا کھمبا مخصوص ٹون سے بجایا جاتا اگر شنوائی ہوئی تو درشن ہوجاتے ورنہ کوئی بڑے  میاں بالکونی میں نمودار ہوتے اور کھانس کھنکھور کر بلغم کا گولہ گلی میں اگل دیتے۔ عیدوں تہواروں پر ملنے کے بہانے ڈھونڈھے جاتے اور میلے ٹھیلوں پر خواری کاٹی جاتی کی کہیں تو ملاقات کی سبیل نکلے اور بفرض محال ایسا ہو جاتا تو رقیبوں سے زیادہ محلے کے بڑوں سے جان جاتی کہ کوئی چچا ہے تو کوئی ماموں۔ آجکل کی طرح ڈیٹوں والی سہولت بھی نہیں تھی کہ انڈرسٹنڈنگ ہو رہی ہے، منگنی کے بعد ملاقات تو کجا شادی کے بعد بھی دن میں امّاں ابا کی موجودگی میں  کھُلے بندوں بات کرنے کی ہمت نہیں پڑتی تھی اور بات بھی کیا ہوتی تھی “ میرا کرتا کہاں رکھا ہے مِل نہیں رہا؟“ دو بچے ہوگئے تو کہیں جاکے اتنی  ، انڈرسٹنڈنگ ، ہوئی کہ انہیں پتہ چلا کہ ہمیں آملیٹ پسند ہے یا فرائی اور ہمیں یہ آگاہی ہوئی کہ خاتون کو وہ چوڑیاں بہت اچھی لگیں تھیں جو پچھلی عید پر امّاں سے چھپا کر ہم نے انہیں لا دیں تھیں۔ یہ معاملہ تو ہمارا جائز نکاحی بیوی کے ساتھ تھا باقیوں کا ذکر ہی کیا۔“
پھر مزید کریدنے پر کہنے لگے “ سچی بات ہے کہ اب بھی کھلے بندوں یا ڈھکے چھپے دعوتیں تو ملتیں ہی ہیں کہ عمر ڈھل رہی ہے لیکن اسٹیٹس تو ہے“
“ پھر دوسری شادی کیوں نہیں کرلیتے “
“ بہت سی باتیں دیکھنی سوچنی پڑتی ہیں سامنے کی بات ہے مہنگائی کا زمانہ ہے اور جب ایک گاڑی کا پٹرول ڈیزل جب مشکل سے پورا ہوتا ہو تو پھر دوسری گاڑی کیسے چلے گی۔ “ 

1 ( Physics )
2 ( resonance )
3 ( Tuning Fork )
4 ( natural frequency )

3 comments on “گمک ( Resonance )

  1. رضوان، یہ تو آپ نے مردوں کا راز فاش کر دیا۔ اب جن کی بیگمات کو معلوم بھی نہیں ہو گا کہ شوہر حضرات باہر کیا باتیں کرتے ہیں، ان کو تو آپ کی پوسٹ پڑھ کر شک لاحق ہو جائے گا۔

    “دوسری شادی کا ذکر گونگوں کو بھی بلوا لیتا ہے۔” ہاہاہاہا۔

    اچھا لکھا ہے۔ آخر میں مردوں کو ہدایت کی دعا بھی کر دیتے نا۔:p

  2. ماوراء ہمت افزائی کا شکریہ
    بیویوں کو فکر کرتے رہناچاہیے یہ دونوں کے حق میں بہتر ہوتا ہے۔
    اور سوچ لو حقوق نسواں کا چارٹر اور ہدایت الگ الگ راستے ہیں۔

  3. ہاہاہا
    کیا زمانہ تھا۔ بیچارے۔ اماں ابا بھی وہیں رہتے ہونگے ذرا نہیں ہلتے ہونگے نہ ہلنے دیتے ہونگے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: