5 تبصرے

Cyber Crime Bill

نعمان کی حالیہ پوسٹ میں مجوزہ  آئی ٹی آرڈیننس (جسے کابینہ کے لمبے بازو قبول کرچکے ہیں ) کو اگر پاکستان کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ واقعی انتہائی تشویش کا مقام ہے۔ اس سے آئی ٹی سے وابستہ تمام ہی شعبے بری طرح متاثر ہوں گے لیکن کاروبار سے وابستہ دیگر افراد کی پشت پر تنظیمیں اور معاشی وسائل موجود ہوتے ہیں اور ان کے ہم پیشہ افراد فعال پریشر گروپس تشکیل دے سکتے ہیں جس کے چھتر سائے میں انہیں احساسِ تحفظ ہوتا ہے۔
بلاگرز کی صورتحال دوسری ہے اول تو معاشرہ ہی اس سے روشناس نہیں ہے پھر ایک قبائلی اور جاگیرداری تنگ نظر طرزِ فکر ہر طرف اپنا پھن لہرا رہا ہے جسے اختلافِ رائے تو رہا ایک طرف اظہارِ رائے تک برداشت نہیں ہوتا۔

سول سوسائٹی اپنی بقاء کے لیے پریشان ہے اسے  آئی ٹی، ماحولیات، بلاگرز جیسے چُچہ بُچہ مسائل کی طرف دھیان دینے کی فرصت نہیں ہے اوراگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اخبارات و نشریات کی آزادی کسی نے بخشیش کی ہے اسے شاید اس کے پیچھے موجود پریشر گروپس اور مفادات دکھائی نہیں دیتے یا شعور ہی نہیں ہے۔

 اس سارے منظر میں پاکستانی بلاگرز نہ صرف یہ کہ غیر محفوظ ہوں گے بلکہ سب سے زیادہ ایکسپوزڈ اور سب کی آنکھ میں کھٹکتے رہیں گے، کیونکہ پاکستان میں نوکر شاہی قانون  اسطرح بناتی ہے کہ شتربچے کو بھی ہاتھی کے شبہے میں پکڑا اور لٹکایا جاسکے۔
اب اگر فعال تنظیم بنے تو اس کا دُھرا فائدہ ہے ایک تو قانونی تحفظ دوسرا بلاگرز بھی ذمہ داری کا ثبوت دیں گے اور معاشرے کے ہاضمے کے مطابق ہی لکھا اور چھاپا جائے گا۔
اس کالے قانون کی روک تھام کے لیے سنجیدہ کوششوں کی ضرورت ہے ورنہ معاشرے کی گھٹن کے زیرِ اثر ہسپتالوں اور قبرستانوں کا اضافہ کرنا پڑیگا جسکے لیے زمین چاہیے جو پہلے ہی شاپنگ پلازوں کے لیے بھی کم ہے۔

5 comments on “Cyber Crime Bill

  1. پاکستانی بلاگرز ابھی تک کچھ خاص توجہ حاصل نہیں کر سکے۔ لیکن اگر کر گئے تب شائد روزانہ ہی کسی نہ کسی کی شامت آئی ہو۔

  2. بلاگرز ہی نہیں اس قانون سے ہر شخص کو خطرہ لاحق ہوگا۔ کسی بھی کمپنی کے دفتر پر چھاپا مارکر ان کے کمپیوٹرز بغیر کسی عدالتی حکم کے ضبط کرے جاسکتے ہیں۔ ای میلز پڑھی جاسکتی ہیں۔ آپ کے ویب استعمال پر نظر رکھی جاسکتی ہے۔ وغیرہ وغیرہ اس سے بزنس کمیونٹی کو زیادہ خطرہ لاحق ہے کیونکہ انہیں ایسے ایسے جرائم میں ملوث کیا جاسکتا ہے جو انہوں نے کبھی کرنے کا سوچا بھی نہ ہوگا۔ بلاگرز کے خلاف حکومتی ایکشن کے لئے فی الوقت موجود قوانین ہی کافی ہیں۔ یہ نئے قوانین پورے معاشرے پر کاری ضرب ہونگے۔ عدالتوں کی موجودہ قابلیت اور استعداد ایسی نہیں کہ وہ اس قانون سے متاثر ہونے والوں کو کوئی ریلیف فراہم کرسکیں۔

  3. ایسے قوانین کے عملی نفاذ کے بارے میں کچھ کہا تو نہیں جا سکتا کیونکہ پاکستان میں سینکڑوں قوانین صرف کاغذات کی حد تک نافذ ہیں۔ لیکن ہمارے ملک میں جہاں انتقام کی سیاست بہت عام ہے، ایسے قوانین واقعی خطرناک ہیں۔

  4. صحیح کہہ رہے ہیں ایسے فضول قوانین کسی کے ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر بن جاتےہی ہیں اور پھر بغیر سوچے سمجھے پاس بھی ہو جاتے ہیں۔ ان کے خلاف سب کو لکھنا چاہیے اور پرزور مخالفت کرنی چاہیے۔

  5. شکریہ ساتھیو
    بات آگے بڑھانے اور زیادہ سے زیادہ مزاحمت پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمارا اکثریتی رحجان یہی ہے کہ کچھ نہیں ہوتا یہ سوچ نقصان دہ ہے۔ قانون بھی بندوق ہی کی طرح کسی کے ہاتھ میں دینا آسان اور اس سے واپس لینا مشکل ہوتا ہے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: