6 تبصرے

ایک گزرا ہوا دن!

 گھر سے آتے ہوئے آخری دن ہمیشہ سے ہی اداسی کا غلبہ رہتا ہے کہ اب پندرہ دن کے لیے مجھے دور چلے جانا ہے۔

 اس دفعہ کا سفر خاصا خوشگوار رہا۔  اس پندرواڑے میں گھر پر رہتے ہوئے کچھ ایسے کام آن پڑے تھے  جو سرکار سے کروانے تھے اور سرکاری دفاتر سے کام کروانا گویا کارِسرکار میں مداخلت ہوتی ہے اس پر ہرجانہ و سزا دونوں لاگو ہوتی ہیں۔
 ایرپورٹ پر کچھ معمول سے زیادہ ہی رش تھا وہ بھی بین الاقوامی آمد کی طرف۔ خیر مجھے اپنے ای ٹکٹ کے سلسلے میں لاؤنج میں موجود پی آئی اے کے دفتر سے نمبٹنا تھااس لیے میں اسطرف کو چلدیا، اسی دوران جیوے جیوے پاکستان کے نعرے گونج اٹھے جو اس سیاسی صورتحال میں جب ہر کوئی اپنی ذات اپنے نام کی جے جے کار پکار رہا ہو پاکستان کا نعرہ لگنا عجیب سی بات محسوس ہوئی۔ جب پوچھ تاچھ کی تو پتہ چلا کہ پاکستانی کر کٹر سہیل تنویر واپس لوٹے ہیں اور ان کے استقبال میں یہ نعرے لگائے جارہے ہیں سہیل تنویر کو پھول پتیوں سے سجا کر ایک چھوٹے سے جلوس کی شکل میں ایر پورٹ سے لیجایا گیا یہ لوگوں کا 20 ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے فائنل میں پہنچنے اور اچھی کارکردگی دکھانے پر خراجِ تحسین تھا ساتھ ہی ٹولیوں میں کھڑے لوگوں میں گفتگو ہونے لگی مصباح اور تنویر کے چھکوں پر اور یونس خان کی پھُسپھسی کارکردگی پر، اس گفتگو اور باہمی اظہارِ خیال نے تھوڑی دیر کے لیے اسلام آباد ایرپورٹ کے تنے ہوئے مغرور ماحول کو بے تکلف ریلوے اسٹیشن بنادیا اور صرف کھیل کی باتوں ہی سے کتنے لوگوں کے چہروں سے تناؤ غائب ہوگیا۔
صبح سویرے سویرے مختلف دفاتر سے اپنے کام بھگتائےاور بارہ بجے نڈھال پی سی پہنچا کہ کچھ آرام کر لوں یہاں بھی آج معمول سے کہیں زیادہ سیکوریٹی دکھائی دی، پتہ یہ چلا کہ جنوبی افریقہ کی کرکٹ ٹیم کچھ ہی لمحوں بعد پدھارنے والی ہے اس لیے یہ سب ہوشیار باش دِکھ رہے ہیں ابھی میں کاؤنٹر پر موجود ہی تھا کہ ٹیم کو لیے بس آموجود ہوئی  ویلکم ٹو پاکستان اور گڈ مارننگ، ہیلو پاکستان کیساتھ ہی کیمروں کے فلاش بھی چلنے لگے اس موقع سے میں نے بھی فائدہ اٹھانا چاہا اور اپنے موبائل سے کھٹا کھٹ تصاویر بنانی چاہیں مگر ہر تصویر کے بعد گول گیند گھومنے لگتی اور دو تین تصاویر ہی بن پائیں کہ پوری ٹیم غائب۔ شام میں کافی ٹیم ممبرز جانگیہ بنیان پہنے لاؤنج میں نظر آئے۔
کراچی پہنچوں تو دوستوں رشتہ داروں سے ملنے کے بعد اہم کام ریگل چوک پر پرانی کتابوں کے ٹھیہے کا چکر لگانا ہوتا ہے،پہلے تو پرانی کتابوں کا ایک پورا بازار لگتا تھا اب بھی شاید اتوار کو ایسا ہوتا ہو لیکن عام دنوں میں تو بس ایک شمشاد اللہ خان صاحب پرانے وقتوں سے بیٹھتے چلے آرہے ہیں ان کے پاس بھی اب پرانی کتابیں کم ہی ہوتی ہیں ورنہ ساقی، فنون وغیرہ کی کافی قدیم کاپیاں ان کے پاس سے مِل جایا کرتی تھیں اب کی دفعہ کچھ وقت بھی زیادہ تھا اور رمضان کی وجہ سے فٹ پاتھ پر رش بھی نہیں تھا تو میں وہیں آلتی پالتی مار کر بیٹھ گیا اور شمشاد صاحب کی باتیں سنی کہ پرانے وقتوں سے کتب فروشی کا کام کر رہے ہیں اور بتاتے ہیں کہ کئی لوگ جو ان سے کتابیں لیا کرتے تھے ٹرانسفر ہوگئے اندرونِ ملک اور کچھ ایسے بھی ہیں جو کئی سالوں بعد آ نکلتے ہیں امریکا سے انگلینڈ سے ” شمشاد بھائی پہنچانا؟ آپ سے فلاں فلاں کتابیں لیں تھیں اور فلاں آپ نے کہیں تھیں کہ لا دوں گا۔” انٹرویو بھی ہوئے جنگ مڈ ویک میں اور ایکسپریس نے بھی انکا احوال چھاپا۔ انکی تصاویر میں نے بھی بنائیں ہیں اور موبائل کی کیبل ملتے ہی آپ کو بھی زیارت کر وادوں گا۔ ان سے کچھ کتابیں بھی مل ہی گئیں۔
واہ کیا بات ہے میں اپنی قسمت پر نازاں تھا کہ کل سے بس سیلیبرٹیز سے ہی ملاقاتیں ہورہی ہیں۔
پانچ بجے زینب مارکیٹ سے فارغ ہوکرسوچا کہ کیوں نا نعمان کی نگری چھانی جائے شاید اس سے ملاقات ہو جائے لیکن – – – 
روزہ تھا
اور لگ رہا تھا
اس لیے واپس پی آئی ڈی سی کا کہہ کر رکشہ پکڑا اور ہوٹل کی مارکیٹ سے کھجوریں پکڑیں اور کمرے میں
 ‌پہنچ کر اکیلے ہی ” شو موویز”  لگا کر افطار کا انتظار کھینچتے رہے۔
ایک عرصے کے بعد اکیلے بیٹھ کر افطار کیا بہت عجیب لگا لیکن ہمت نہیں تھی کہ باہر جاسکتا۔
رات کے کھانے کے لیے جب پتہ کیا تو ” چاندنی ” بند تھا اور دیگر تمام بوفے بھی مختلف پارٹیز کے لیے بُک تھے سوچا اتنا عرصہ ہوگیا جاپانیز کھانا کبھی نہیں کھایا چلو آج سوشی پر ہاتھ صاف کرتے ہیں۔ مینو سارا کا سارا ہی عجیب و غریب تھا اس لیے ویٹر سے مینو میں میں مدد چاہی اور اس کا کافی دماغ کھانے کے بعد ” مگرا سوشی ” کھائی ساتھ ہی جھینگا سلاد، حقیقتًا لطف آگیا۔ 

6 comments on “ایک گزرا ہوا دن!

  1. خوب سفر ہو رہے ہیں رضوان کیا کہنے۔

  2. افسوس کے میرے گھر کے اتنے قریب آکر آپ پلٹ گئے۔ خیر انشاءاللہ ملاقات تو طے ہے۔

  3. آپ کے سفرنامے دلچسپ اور معلوماتی ھیں۔ امید ہے سفریات کا سلسلہ چلتا رہے گا۔

  4. محب جہاں دانہ پانی لے جائے گا وہیں چڑیوں کی طرح چلے جائیں گے۔

    نعمان اب آپ کی باری ہے اور امید ہے کہ آپ مایوس نہیں کریں گے۔

    میرا پاکستان بہت بہت شکریہ پسندیدگی کا۔

  5. […] ایک گزشتہ بلاگ میں ذکر تھا شمشاد خان صاحب کا جو ریگل چوک کراچی میں پچیس […]

  6. جناب والا! آداب
    آج ہی یہ تحریر دیکھی اور اتفاق ہے کہ 2007 کی بات پرانی ہوئی لیکن ریگل پر آج بھی اتوار کی صبح جانا گویا ایک فریضہ ہے جس میں ناغہ نہیں ہوتا۔ کیسی کیسی نادر و نایاب کتب وہاں سے ملیں۔ ان میں ایک قیمتی کتاب مہندر سنگ بیدی کی یادوں کا جشن بھی ہے جس پر کنور صاحب کے دستخط ہیں

    بہر کیف، ایک مضمون تیار ہے، ان پیج میں ہے، آپ کہیں تو آپ کو ارسال کردوں
    چند مضامین مندرجہ ذیل لنکس پر دیکھے جاسکتے ہیں:

    http://www.zaviah-e-nigah.com/Kamal.html
    کمال احمد رضوی سے ایک ملاقات

    http://www.hamariweb.com/articles/article.aspx?id=8412
    زمانہ بڑے شوق سے سن رہا تھا – جناب ابن صفی پر ہمارا تازہ مضمون جو اگست 2010 کے نئے افق میں شائع ہوا تھا

    http://hamariweb.com/articles/article.aspx?id=7778
    والد مرحوم کی یاد میں


    جناب ابن صفی کو ویڈیو کی شکل میں خراج تحسین (چند انتہائی نادر تصاویر کے ساتھ)

    خیر اندیش
    راشد اشرف

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: