12 تبصرے

کاش میرا ماموں بھی باھر ہوتا

نہ کوئی افسانہ نہ کوئی سنی سنائی بات ہے، یہ آنکھوں دیکھی حقیقت ہے اور تُک بندی کرکے تحریر کرہا ہوں۔
کاش میرا ماموں بھی باھر ہوتا
میں اس کا اکلوتا بھانجھا ہوتا
وہ کماتا میں کھاتا
کاش میرا ماموں بھی باھر ہوتا
میں نئے نئے دام بچھاتا
لچھے دار باتوں میں اسکو الجھاتا
وہ کماتا میں کھاتا
کاش میرا ماموں بھی باھر ہوتا
وہ اپنے گاڑھے پسینے سے کماتا
میں نئی نئی فرمائشیں کر کے نوٹ منگواتا
اسکو نئی نئی اسکیمیں سجھاتا
پیسے پر اسکے اپنےیاروں کو عیش کراتا
وہ کماتا میں کھاتا
کاش میرا ماموں بھی باھر ہوتا
باقی سارے خاندان سے ہٹا کر
صرف اپنے جال میں پھنسا کر
نت نئے کاروبار انوکھے
اچھوتے بیوپار بتاتا
وہ کماتا میں کھاتا
کاش میرا ماموں بھی باھر ہوتا
بھر بھر کے جب میرے خسارے
تنگ تنگ وہ آجاتا
ترپ کی چال میں چلتا
مکان بنوانے کا خیال میں اسے دلاتا
خون پسینے سے وہ کماتا
اینٹ گارے میں میں لگاتا
وہ کماتا میں کھاتا
کاش میرا ماموں بھی باھر ہوتا
آدھا مکان اسکا بنوا کر
پوری کوٹھی اپنی بنواتا
جب بھی دیس کو آنے کی وہ کہتا
یہاں کی مہنگائی یہاں کے حالات سے اسے ڈراتا
وہ کماتا میں کھاتا
کاش میرا ماموں بھی باھر ہوتا
بچے جب ہو جاتے اسکے بڑے
چارہ اسکے پاس کچھ اور نہ ہوتا
میری منتیں ترلے کرتا
میری کوٹھی کرائے پر لے کر
بچوں کو وہ اپنے رکھتا
وہ کماتا میں کھاتا
کاش میرا ماموں بھی باھر ہوتا

12 comments on “کاش میرا ماموں بھی باھر ہوتا

  1. 😯
    کاش میرا بھی ماموں باہر ہوتا۔

  2. ‌بہت اچهے ـ! پانکستانی حالات کا اصلی نقشه ـ
    ایسا هی هوتا ہے ـیورپ میں رہنے والے پاکستانیوں کی اکثریت جانوروں سے بدتر زندگی گزار کر پاکستان پیسے بهیجتے هیں اور پاکستان والے اس کو بیوقوف بناتے رهتے هیں اور
    جلاوطن پاکستانیوں کی اکثریت اتنی بیوقوف ہے که سمجهتی ہے که میرے گهر والے ایسے نهیں هیں ـ
    اگر اس کے گهر والے ایسے نہیں هیں تو اس کے لیے کوئی کاروبار شروع کرکے اس کو واپس کیوں نہیں بلاتے؟؟
    اس پر جواب دیتے هیں که اصل میں میرے پیسے لگ گئے هیں ناں اس لیے کاروبار نہیں کرسکتا!ـ
    جهلیا جو لوگ تمہارے پیسے لگاتے رہے هیں ،وه لگاتے هی رهیں گے اور تم رہو گے ڈنگر کے ڈنگر ـ

  3. کاش آپکا ماموں بھی باہر ہوتا :mrgreen:
    ویسے میرے دو ماموں باہر ہیں لیکن ”وہ کماتا میں کھاتا“ والی کوئی صورتحال نہیں۔ 😉

  4. شاکر اب بھی وقت ہے ماموں کو باہر بھیج دو۔
    خاور آپ نے میرے دل کی بات کی ہے کہ ہر بندہ یہی سمجھتا ہے کہ میرے ساتھ ایسا نہیں ہوگا اور اسی ایک ہی بِل سے سب ڈسے جاتے ہیں۔
    شکریہ میرا پاکستان۔
    ساجد اقبال آپ میں وہ صلاحیت نہیں ہوگی ورنہ ایک ہی ماموں کافی ہوتا ہے۔😉

  5. آج ہی ٹی وی پر بتارہے تھے کہ ایران میں‌ ستر پاکستانی یورپ جانے کی کوشش میں‌گرفتار ہوئے۔ یہ ستر پاکستانی بھی کسی کے ماموں‌ ہونگے؟‌

  6. بلکل نعمان اب اُن ستر ماموؤں کے بھانجھوں کو خود کمانا پڑے گا😦
    مجھے بہت کم لوگ ملے ہیں جن کے گھر والوں نے انکی محنت مشقت سے کمائی ہوئی پونجی کی قدر کی اور پردیس سے واپس آکر انہیں سُکھ ملا ہو۔

  7. سلام
    اس میں گھر والوں‌کے ساتھ ساتھ بھیجنے والوں‌کا بھی قصور ہے۔ پہلے تو کچھ ایسا نقشہ سا بنا ہوا ہے کہ جیسے باہر جاتے ہیں دولت برسنے لگتی ہے۔ لہذا باہر بیٹھے بندے کو ضرورت نہیں۔
    اور باہر والے بھی سب کچھ ہی بھیج دیتے ہیں۔ گھر صرف ان کی ضرورت کے پیسے بھیجنے چاہئے۔ باقی سب یہاں اپنے پاس رکھیں۔
    پردیسئے جب تک باہر ہوتے ہیں کسی فنکشن یا ایونٹ پر باقی لوگوں سے زیادہ دینے کا کہتے ہیں۔ بس گھر والے بھی پھر شروع ہو جاتے ہیں۔ پھر وہ بھی کھل کے خرچ کرتے ہیں۔ آخر ان رشتہ داروں میں رہنا تو انہوں‌نے ہے۔ پردیسی نے تھوڑا۔

  8. وعلیکم سلام
    ٹھیک کہہ رہے ہو مسئلہ یہی ہے کہ پردیسی اپنے مسائل اور مشکلات کو چھپاتے ہیں اسی سے نقصان ہوتا ہے۔

  9. تو پھر شب قدر میں دعا کریں کہ اللہ تعالی آپ کے ماموں کو باہر بھیج دیں۔

  10. نصیر میرے کسی بھانجے کی دعا مجھ سے پہلے قبول ہوگئی ہے، اب میں باہر جارہا ہوں۔
    یعنی گھوڑے نے پہلے پھونک ماردی ہے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: