4 تبصرے

سائنس اور سوشل سائنسز “جاہلانہ علمیت”

’جاہلانہ علمیت بالخصوص سائنس اور سوشل سائنسز کی گرفت مسلم ذہن پر مضبوط ہوتی جا رہی ہے اور معاشرہ میں بہت سی ایسی چیزوں کو برداشت کیا جا رہا ہے جو پہلے معیوب سمجھی جاتی تھیں۔ اس میں سب سے خطرناک رجحان عورتوں کی پبلک لائف میں شرکت ہے۔… غیرمسلم سیکولر حکومتوں اور استعماری ذرائع سے چلنے والی، فحاشی پھیلانے والی اور حقوق کی سیاست کو عام کرنے والی NGOsکا معاشرتی اثر بڑھ گیا ہے۔ کئی مسلم اکثریتی ممالک    میں غیرمسلم اقلیتوں کو، بالخصوص آغاخانیوں، عیسائیوں، قبطیوں اور ہندوؤں کو (انڈونیشیا میں) معاشروں کو سیکولرائز کرنے کی ذمہ داری استعمار اور اس کے مقامی ایجنٹوں نے سونپ دی ہے۔… جن اقوام نے اس جاہلانہ علمیت کو قبول کیا وہ آج اجتماعی خودکشی کر رہی ہیں۔…آبادی میں اضافے کی رفتار تیزی سے گر رہی ہے۔ عورتیں بچہ پیدا کرنے اور پرورش کا بوجھ اٹھانے کو تیار نہیں۔ نسوانیت اور مردانگی تباہ ہو رہی ہیں اور انسانیت ہیومن رائٹس کے قالب میں ڈھل کر سسک کر دم توڑ رہی ہے‘۔

مندرجہ بالا اقتباس کراچی یونیورسٹی کے شعبۂ تصنیف و تالیف و ترجمہ کے زیراہتمام شائع ہونے والے ’عہد ساز تحقیقی و تجزیاتی مطالعات پر مشتمل‘جریدے کے شمارہ 37 کے صفحہ 815 سے لیا گیا ہے۔ یہ ’تحقیقی و تجزیاتی مطالعہ‘ جس کے ’عہدساز‘ ہونے میں بھی قطعی شبہ نہیں کیا جا سکتا، ڈاکٹر جاوید اکبر انصاری کے زورقلم کا نتیجہ ہے۔ انصاری صاحب کے نام کے ساتھ ڈاکٹری کا لاحقہ خاصے تعجب کا باعث بنتا ہے، وہ اس لیے کہ اوپر نقل کیے گئے زریں خیالات کی روشنی میں ان کی نسبت یہ گمان کرنا انتہائی گستاخی کی بات معلوم ہوتی ہے کہ انہوں نے ’جاہلانہ علمیت‘ یعنی سائنسی یا سماجی علوم کی جہل افروزی میں خود کو پی ایچ ڈی کی اسفل سطح تک آلودہ ہونے دیا ہو گا۔

ڈاکٹر انصاری کے ایک خوش گمان پڑھنے والے کی رائے ہے کہ ان کی ڈاکٹری شاید ہومیوپیتھی کا کرشمہ ہے، لیکن اس خوش گمانی پر یقین کرنا یوں ممکن نہیں کہ ہومیوپیتھی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ جرمنی کے باشندوں (غالباً یہودیوں) کا پروان چڑھایا ہوا علم (یا جہل) ہے، اور جرمنی – – – – – – –

 بشکریہ بی بی سی باقی پڑھیے

4 comments on “سائنس اور سوشل سائنسز “جاہلانہ علمیت”

  1. آپ کو اپنے کئی ہم عصر اردو بلاگرز میں یہ جاہلانہ علمیت بدجہ اتم مل جائے گی جس کا وہ کافی تواتر سے اظہار بھی کرتے نظر آتے ہیں۔

  2. نبیل
    علم و نور کی جو ” ضیاء ” پاشیاں ہماری نسل پر ہوئی ہیں ان ظلمتوں کا بھگتان تو بھگتنا ہے۔

  3. سلام
    نبیل کی رائے سے اختلاف کرونگا۔ بہر حال ان لوگوں میں شعور ہے۔ یہ لوگ کم از کم سٹینڈ آؔٹ کرتے ہیں کیونکہ یہ اپنی فہم اور ادراک کے مطابق اپنے خیالات کا (چاہے جیسے بھی ہیں) کا اظہار کرتے ہیں۔ اگر کسی کی بات بچگانہ ہے تو میرے خیال سے اس کی تصحیح کرنی چاہئے۔
    اس کی سب سے بڑی مثال محفل پر موجود ہی کچھ لوگ ہیں جو کسی نہ کسی طور اپنے آپ کو بدل رہے ہیں۔

  4. ویسے اردو بلاگران کی بہت کم تعداد ایسا کر رہی ہے اور اگر چند پوسٹس میں کسی نے کیا ہو تو تبصرہ جات کی سہولت کا فائدہ باقی لوگ اٹھا سکتے ہیں اور ایسے لوگوں کو مباحث میں شامل کیا جا سکتا ہے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: