2 تبصرے

سونجھیاں ہو جان گلیاں, وچ مرزا یار پھرے!

حجرے شاہ مقیم کی جٹی! بکرا دان دینے پر تیار تھی لیکن اسلام آباد کی گلیاں عید کے دن بکرا صدقہ کیے بغیر ہی “ سونجیاں“ ہوگئیں اور مرزا یار اکیلا ہی پھرتا رہا۔ تیسواں روزہ ملازمت پیشہ افراد کے لیے عید بونس بن گیا اور سہولت کے ساتھ بچے کھچے افراد بھی اپنے اپنے پیاروں کو پیار کرنے روانہ ہوگئے۔ لوگ رہتے اسلام آباد میں ہیں اور پیار کی پینگیں کہیں اور بڑھائی ہوئی ہوتیں ہیں۔ عیدین کے تہواروں پر یہ بیوفائی کھل کر سامنے آجاتی ہے۔ لیکن ایسا صرف اسلام آباد کے ساتھ ہی نہیں ہوتا کراچی اور لاہور سے بھی پردیسیوں کی ٹرینیں اور نیو خان کی کوچیں بھر کر نکلتیں ہیں سب روزی روٹی کے چکر ہیں روٹی کہیں ملتی ہے “روزی“ کسی اور جگہ بیٹھی ہجر کے نغمے الاپتی ہے اور وصال کی ترغیب دیتی ہے ۔
سُونے شہروں کی فہرست میں 92 سے پہلے جدہ جیسا کوئی شہر نہ ہوگا جہاں حج کے دنوں میں کھوے سے کھوا چھلتا تھا اور عین ایامِ حج یعنی 4 دن خلقت مکہ مکرمہ کو سدھار جاتی تھی دکانیں اور کاروبار میں غالب اکثریت یمنیوں کی تھی جو پاک وہند کے لوگوں کی طرح حج درحج در حج کے مواقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے تھے اس لیے اگر کوئی قسمت کا مارا جدہ میں رک بھی جاتا تو روٹی کے لالے پڑجاتے تھے، وہ تو عراق کویت تنازعہ پر سعودی حکام نے یمن کی حکومت کے عراق کا ساتھ دینے پر تمام یمنیوں کو (جن کا دوسرا گھر سعودیہ کہلاتا تھا) انتہائی محدود وقت میں دیس نکالا دیا اور مقامی سعودی آگے آئے پھر انہیں کاروبار کا ایسا چسکا لگا کہ تمام غیر سعودیوں پر عام کاروبار کے دروازے بند کردیے اور ساتھ ہی ایام حج میں جدہ کی رونقیں بڑھ جاتیں کہ ان دنوں مکہ کے سعودی بھی حاجیوں کے اژدھام سے تنگ ہوکر جدہ آکر مسکراتے ہیں (ابتسم انت فی جدہ )۔
اسلام آباد کی سونجھی گلیوں سے بات کہاں جا پہنچی! اور یہ بے رونقی تو چار دن کی ہے پھر وہی اندھیری رات !!! باسی عید بھی گزر گئی! جانے پاکستان کے باسیوں کے چہرے پر کب رونق لوٹے گی۔ کب وہ دن آئے گا جب ہم بھی کہہ سکیں گے  “ مسکرائیے آپ پاکستان میں ہیں“۔

2 comments on “سونجھیاں ہو جان گلیاں, وچ مرزا یار پھرے!

  1. یہ کیفیت ہر اس شہر کی ہوتی ہے جہاں روزگار کے مواقع اردگرد کے علاقوں سے بہت زیادہ ہوتے ہیں ۔ طربلس لیبیا میں عیدالفطر پر تو رونق ہوتی تھی لیکن عیدالاضحٰے کے دن طرابلس سونم سان ہو جاتا تھا۔
    یہ کچھ اس طرح نہیں ہے ؟
    سانجھیاں ہوّن گلیاں ۔ وچ مرزا یار پھرے
    یہ روزی آپ نے انگریزی والی بنا دی ؟ روزی اور روٹی ایک ہی بات نہیں ؟

  2. شکریہ اجمل صاحب اسی بہانے میری تصحیح ہوگئی، میں اسے سونجھیاں بمعنٰی سُونی سمجھتا تھا۔
    سانجھیاں (مشترکہ، باہم ملی ہوئیں ) بات سمجھ میں آتی ہے شکریہ۔

    انگریزوں کی روزی اور ہماری گلابو لیکن پہلے روٹی 🙂

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: