5 تبصرے

ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے

پی پی پی سے اختلاف ہوسکتا ہے بینظیر کی مخالفت کیجاسکتی ہے لیکن عوام کی جان لینا انہیں دکھ پہنچانا کوئی بھی ذیشعور مہزب شخص اس کی حمایت نہیں کر سکتا۔ بینظیر کی مشرف کے ساتھ مفاہمت پر خود پی پی والے خوش نہیں تھے لیکن اس بات کی سبکو خوشی تھی کہ محترمہ واپس تو آرہی ہیں۔ باہر بیٹھ کر ہدایات دینے اور ساتھ رہ کر ان کے نتائج بھگتنے میں بڑا فرق ہوتا ہے۔
 جن قوتوں کو عوام سے چڑ ہے جو خود کو عقلِ کُل سمجھتے ہیں اور ان کے وہ آفاقی ساتھی جو اپنی ہوس اقتدار  کےلیے کتاب سے تاویلیں تراشتے اور جمہور کو بھیڑ بکریوں سے زیادہ اہمیت دینے پر تیار نہیں ہیں ان سب کے لیے کسی بھی جمہوری لیڈر کا یوں عوام کے درمیان موجود ہونا اور عوام کا متحرک ہونا اس لمحہ تاریخ میں قابلِ قبول نہیں ہے۔ کتنی محنت کی ہے ان قوتوں نے عوام کے شعور کا گلا گھوٹنے کے لیے ان کی آنکھوں پر مزہب اور عصبیت کی پٹی باندھی ہے، اسّی کے عشرے سے ایک مخصوص سبق پڑھایا جارہا ہے اب وہ طوطے بڑے ہوگئے ہیں اور اس معاشرے کے تاروپود بکھیرتے چلے جارہے ہیں ان کی راہ میں کچھ من چلے، کچھ جیالے کچھ سر پھرے ابھی بھی کھڑے ہیں اس عزم کے ساتھ کہ وہ وقت کا پہیہ پیچھے کی جانب نہیں لے جانے دیں گے۔ جو طاقت عوام کو ایک دفعہ مِل چکی اسے دوبارہ چھیننے نہیں دیں گے۔ جہاں ایک دفعہ علم کا اجالا پھیل چکا ان ذہنوں کو دوبارہ جہالت کی تاریکیوں میں نہیں دھکیلنے دیں گے کتنے ساحر وردی پہن کر آئے لیکن نظر بندی سے سحر سے بھلا حقیقت کہیں چھپ سکتی ہے، پہلے وردی والوں کی ٹیم میں جبہ و دستار والے بھی شامل تھے اور نظر بندی کے ایکٹ کے دوران یہ اہلِ جبہ و دستار ایک طرح کی افیون کے زریعے عوام کی عقل کو ماؤف کرتے تھے  تاکہ وردی والوں کو نظر بندی میں مشکل پیش نہ آئے پھر یوں ہوا کہ اہلِ جبہ و دستار کی وردی والوں سے عوام کی لوٹ کی بانٹ پر بظاہر لڑائی ہوگئی اور دونوں ٹولوں نے جمہور کو الگ الگ لوٹنا شروع کردیا لوٹ تک ہی بات رہتی تو بھی ایک تھا لیکن دونوں ہی نے معصوم عوام کا قتلِ عام بھی شروع کردیا ہے۔
ایسے حالات میں بینظیر امید کی کرن بن کر چمکی ہیں۔ کیماڑی سے خیبر تک عوام جو بزعم خود دانشوروں کے نزدیک بے حس ہوچکی تھی باہر آنے پر تیار نہیں تھی وہ عوام سیکوریٹی کی وارننگز کے باوجود اپنی جانیں ہتھیلیوں پر رکھے انکے استقبال کو سرحد، سندھ، پنجاب اور بلوچستان سے آن موجود ہوئیں۔ یہ عوام باشعور ہیں انہیں پتہ ہے کہ انکے باہر آنے سے کن قوتوں کو پس پردہ جانا ہوگاسورج نکلتا ہے تو ظلمتوں کے پجاری منہ چھپانے لگتے ہیں۔ سورج پر انکا بس نہیں چلتا تو آنکھوں پر پٹیاں باندھتے پھرتے ہیں۔
اجالے کے متلاشیوں کو سلام۔ انکی عظمتوں کو سلام جنہوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دیا۔ اپنے خون کی سرخی سے قوم کے مقدر کی سیاہی دھونے کی کوشش کرنے والوں کو لاکھوں سلام 
فیض آج پھر بے طرح یاد آئے

قتل گاہوں سے چُن کر ہمارے علَم
اور نکلیں گے عُشّاق کے قافلے
جن کی راہِ طلب سے ہمارے قدم
مختصر کر چلے درد کے فاصلے
کر چلے جن کی خاطر جہاں گیر ہم
جاں گنوا کر تری دلبری کا بھرم
ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے

5 comments on “ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے

  1. سبحان اللہ، جزاک اللہ

    شکر خدا کا کسی نے تو اسے اس نگاہ سے دیکھا۔ یہاں‌ تو لوگ کرپشن مخالفت بی بی مخالفت پی پی مخالفت میں‌ کچھ دیکھنا ہی نہیں‌ چاہتے۔

  2. یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ بی بی سے آس لگانا درست تھا کہ نہیں۔ اگر بی بی کے ماضی پر نظر دوڑائی جائے تو کم از کم ہمیں‌ امید نہیں‌کہ وہ ملک کیلیے کچھ کرنے کیلیے آئی ہیں۔ جس طرح جنرل مشرف نے عوام کی امیدوں کا خون کیا اسی طرح بی بی بھی کرے گی۔

  3. وه تاریک راہوں میں کیوں مارے گئے؟؟
    ان کے باپوں نے ان سے جهوٹ بولا تها!ـ

  4. میرا خیال ہے کہ جتنا بھی سنگ دل انسان ہو، وہ اس خون ریزی کی حمایت نہیں کرے گا اور نہ ہی خود کش حملوں کی۔۔۔ ہاں، اس کے ذمہ داران کون ہیں، اس حوالہ سے تو مختلف آراء ہوسکتی ہیں نا۔
    پاکستان میں خود کش حملوں کی حمایت کرنے والے انتہائی بے وقوف، جاہل اور بہت ہی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہیں۔

  5. اللہ تعالٰی مرحومین کے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ جانے والے اللہ سے قوی امید ہے کہ اسکے ہاں اعلٰی مقام پائیں گے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: