7 تبصرے

منگلا ڈیم

اس دفعہ چھٹی گزارنے کے لیے کافی سوچ بچار کے بعد منگلا ڈیم کا قصد کیا۔  اسلام آباد سے تقریبًا 125 کلومیٹر جی ٹی روڈ پر لاہور کی جانب جائیں تو کھاریاں سے پہلے دینہ نامی قصبہ آتا ہے جسکے 25 کلومیٹر دائیں جانب روہتاس فورٹ اور بائیں جانب اگر جائیں تو میر پور کے راستے میں منگلا ڈیم واقع ہے ۔کچھ پوچھ گچھ اور انٹرنٹ پر سرچ کرنے سے بھی معاملات اور راستہ واضح نہیں ہوا نہ ہی یہ معلومات ملیں کہ وہاں کس قسم کی تفریحی سہولیات ہیں۔ پھر بھی یہ سوچ کر چل دیے کہ چل کر دیکھیں گے ورنہ مچھلی کھا کر واپس آجائیں گے۔   جی ٹی روڈ پر آتے ہی گاڑی کی پچھلی بریک سے آواز آنے لگی حالانکہ چلنے سے پہلے ہی گاڑی مکمل چیک کر چکے تھے لیکن یہ معاملہ کچھ اور لگتا تھا گوجر خان پر ایک میکینک سے رجوع کیا اور جسنے کافی محنت کی لیکن بریک پسٹن ہی جام تھا جسکی وجہ سے ایک وھیل کی بریک ہی نہیں لگ رہی تھی۔ تقریبًا ایک گھنٹہ یہاں صرف کرنے کے بعد دینہ پہنچے اور جی ٹی روڈ پر لگے بورڈ کو فالو کرتے ہوئے بائیں مڑ گئے کچھ ہی دیر بعد کھیتوں سے ہوتے ہوئے منگلا کینٹ اور اسکے بعد ایک پل کراس کر کے منگلا ڈیم کی چڑھائی شروع ہوگئی یہاں ایک صاحب سے معلومات لیں کہ ڈیم پر کوئی ایسی جگہ ہے جو پکنک اسپاٹ کے طور پر استعمال ہوتی ہو اور وہاں کیا سہولیات ہیں بندہ جانکار نکلا اور انہوں نے بتایا کہ آپ میر پور والے راستے پر ہی چلتے جائیں چڑھائی چڑھنے کے بعد بائیں جانب ایک پھاٹک ( بیریئر ) لگائے پولیس کے جوان بیٹھے ہوں گے وہاں شناختی کارڈ جمع کروائیں اور آگے چلے جائیں۔ اس کاروائی سے گزر کر آرمی واٹر اسپورٹس کلب کے بورڈ کا پیچھا کرتے ایک پارکنگ تک جا پہنچے جہاں ایک فوجی جوان کو مبلغ 40 روپے ( 10 روپے گاڑی اور پانچ روپے فی فرد ) ادا کیے۔ پارک اور منگلا جھیل کا نظارہ کیا تو تمام کلفت دور ہوگئی یہی پچھتاوہ ہوا کہ اتنی عمدہ سیرگاہ پر ہم پہلے کیوں نہ آئے۔ کافی لوگ کھانے پینے کا سامان اپنے ہمراہ لیے موجود تھے اور کچھ لوگ وہیں باربی کیو کر رہے تھے۔  واٹر اسپورٹس بمعہ حفاظتی اقدامات موجود تھیں یہی سب سے عمدہ اور منفرد بات تھی۔ عام طور پر چھوٹے بچوں کی دلچسپی کے کھیل تماشے اور جھولے تو کئی جگہ مل جاتے ہیں لیکن ٹین ایجر بچے کیا کریں؟ یہاں اسپیڈ بوٹ، یاچنگ، بڑی کشتی اور سب سے بڑھ کر واٹر اسکوٹر موجود تھے جسے بچوں نے خوب انجوائے کیا۔ واٹر اسکوٹر 250 روپے اور اسپیڈ بوٹ چھ افراد کےلیے تین سو سے آٹھ سو روپے میں فوجی جوان کرایہ وصول کر رہے تھے اور فوجی افسران کی فیمیلیاں اپنے حوالے سے اپنے رشتہ داروں اور دوستوں کو سیریں کرارہی تھیں۔ لکھت پڑھت اور ٹکٹوں کا انتظام بھی دیسی سا تھا جس سے صاف ظاہر ہورہا تھا کہ فوجی دال کالی ہے۔ ہاں بڑے اسٹیمر بھی موجود تھے جنکا ٹکٹ فی کس 40 روپے تھا اور خراماں خراماں تقریبًا ساری جھیل کی سیر کراتے ہیں۔ 

Mangla lake ,

مغرب کے وقت واپسی ہوئی اور منگلا کینٹ کراس کر کے “ شاہ مچھلی فرائی “ کے جھونپڑے کے پچھلی طرف چارپائیوں پر بیٹھ کر مزیدار مچھلی کا ڈنر کھا کر رات ساڑھے نو بجے گھر واپس آگئے۔ اگر دیکھا جائے تو ٹوٹل 550 روپے کی سی این جی جلا کر چھ افراد نے ایک بہترین پکنک منائی۔  

7 comments on “منگلا ڈیم

  1. آہ منگلا ! میرے خوابوں کی زمین 😦
    اس جگہ سے میرے بچپن کی بہت سی یادیں وابستہ ہیں ، تیرہ سال ہو گئے اسے دیکھے ہوئے ۔
    جس جھیل کو آپ نے دیکھا ہے ، میں اس کے پوشیدہ مقامات تک گیا ہوا ہوں ، اس جھیل میں جی بھر کر نہایا ہوں ۔

  2. زبردست، یعنی مہنگا سودا نہیں۔ 😉
    تصاویر لینے میں آپ نے اتنی کنجوسی سے کیوں کام لیا؟ 😥

  3. سلام
    پاور سٹیشن نہیں گٕے؟وہی تو سب سے مزے کی جگہ تھی۔
    ہم سب پتھروں سے نیچے گٕے تھے۔ گاڑی دوسرے راستے سے بھجوا دی تھی۔۔

  4. قدیر منگلا کینٹ واقعی زبردست جگہ ہے اگر فوجی نہ ہوں تو😉
    ساجد ڈیر تصاویر بہت ہیں لیکن پھر بلاگ بھاری ہوجاتا ہے ڈائل اپ پر تو بندہ کھولنے سے رہا۔
    بدتمیز تعمیراتی کام کافی ہورہا تھا اسوجہ سے راستے بند کیے ہوئے تھے اور بڑی بات یہ کہ کوئی بتانے والا بندہ نہیں تھا۔ اب رستہ دیکھ لیا ہے آئندہ باجماعت جائیں گے بس دسمبر آلینے دیں۔ 🙂

  5. آہ۔۔قدیر کی طرح مجھے بھی سب کچھ یاد آ گیا۔ کھاریاں، قلعہ روہتاس، منگلا ڈیم ساری یادیں تازہ ہو گئی ہیں۔ بس آپ نے تصویریں کم اور چھوٹی پوسٹ کی ہیں۔ کہیں اور اپلوڈ کر کے لنک ساتھ دے دیں نا۔

    اور رضوان” کینٹ” صرف فوجیوں کی وجہ سے ہی اچھا ہوتا ہے۔ اگر فوجی نہیں تو کچھ بھی نہیں۔

  6. ماورا کل مجھے ایک بابا ٹکرا گئے روہتاسی ان کا ذکر کل کروں گا خاصی دلچسپ شخصیت۔
    ہاں یہ اچھا آئیڈیا ہے محفل پر تصاویر پوسٹ کر دیتا ہوں ۔
    اور اگر فوجی ہی پسند نہ ہوں صرف کینٹ ، جیسے انہیں بنگالی نہیں صرف زمین چاہیے تھی؟؟

  7. ضرور۔۔!!

    پسند یا نا پسند کی بات نہیں ہے۔ حقیقت یہی ہے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: