12 تبصرے

ROHTAS DEVELPMENT COMMITTEE کے صدر

مجھے اپنی بیٹی کو ٹیوشن سے واپس لینا تھا اسی وجہ سے کچھ جلدی میں تھا لیکن پھر بھی جب  F-8 کی سروس روڈ پر ان بڑے صاحب نے ہاتھ دیا تو میں نے گاڑی روک دی کہ پشاور موڑ تک ہی انہیں جانا ہوگا ساتھ بٹھا لیتا ہوں۔ ساٹھ پینسٹھ سال کے دیکھنے میں صحت مند بغیر کوٹ لیکن واسکٹ پہنے اور ٹائی لگائی ہوئی تراشیدہ چھوٹی سی ڈاڑھی اور سر پر دوپلی سے ملتی جلتی ٹوپی کڑھائی دار ٹوپی۔
میں نے پوچھا کہ آپ کہاں جائیں گے؟
جواب ملا! رُھتاس سے آیا تھا ایک صاحب سے ملنے مجھے بٹھا کر ابھی تک واپس نہیں آئے اب جمائیاں لے لیکر تنگ آگیا ہوں تو سوچا کھنہ پُل پر ایک جاننے والے ہیں ان تک چلتا ہوں اب واپس جانے کا تو وقت بچا نہیں۔
( رُھتاس کا نام سنتے ہی مجھے تجسس پیدا ہوا کہ چچا میاں کو کھنگالنا چاہیے )
پوچھنے پر انہوں نے بتایا کہ ٹوریسٹ گروپس کو لیجاتے ہیں پہلے مانکیالہ اسٹوپا دکھاتے ہیں پھر چکوال کے پاس جی ٹی روڈ سے ذرا ہٹ کر غوری کا مقبرہ ہے اور روہتاس سے واپس آکر قلعہ روات ہے۔
(یہ سارے میرے لیے انکشافات ہی تھے، مانکیالہ اسٹوپا کے متعلق سُن رکھا تھا مگر لوکیشن اب پتہ چلی۔) ابھی اسٹوپا اور بُدھ پر تبادلہ خیالات ہورہا تھا کہ  G-9 آگیا اپنی بیٹی کو میں نے لیا اور پھر یہ صاحب گویا ہوئے کہ میرا عزم یہ ہے کہ دنیا میں روہتاس کا نام روشن ہو اس مقصد کے لیے مختلف اداروں کو خطوط لکھتا ہوں ڈونرز سے رابطے کرتا ہوں اور کوشش کرتا ہوں کہ  جس کسی سے ملوں اسے اس بات پر راضی کروں کہ وہ بھی اس پیغام کو آگے پہنچائے اس طرح چراغ سے چراغ جلا کر روہتاس اور پوٹھوہار کا جو عظیم ثقافتی ورثہ ہے اس سے ساری دنیا کو روشناس کرواؤں۔
کہنے لگے کہ چالیس سے زیادہ ممالک کا سفر کر چکے ہیں، بیس بائیس سال سے دبئی میں ہیں۔ وہاں کے شیوخ سے کافی پیسہ لگوایا ہے کویت کے شاہ سے کئی بلین ڈالر دلوائے ہیں جس سے روہتاس میں نکاسیِ آب کا پروجیکٹ مکمل ہوا۔ پھر پرویز مشرف اور وزیر اعلیٰ کے ذریعے مختلف تقریبات منعقد کیں جن سے قلعہ میں ٹورسٹ انفارمیشن سنٹر کا قیام عمل میں آیا اور دیگر سہولیات کی فراہمی میں مدد ملی۔ سہیل گیٹ کی تکمیل اور تزئین و آرائش کا پروجیکٹ مکمل کروایا، پھر ٹلہ جوگیاں ہے اس کیطرف دنیا کو متوجہ کیا کہ یہ ہزاروں سال پرانا ورثہ ہے جہاں جانے تک کا رستہ نہیں تھا پھر بھی میلہ جوگیاں منعقد کرواکر تمام اقلیتی ممبران اسمبلی اور شاہانی جیسے تجارتی اداروں سے اسپانسر کروایا لوگوں کو ہیلی کاپٹر، جیپوں اونٹوں پر لیکر گئے۔ آرمی والوں کو قائل کیا ( ؟ ) کہ تم لوگ اپنی شوٹنگ رینج کے چکر میں لوگوں کو وہاں جانے سے مت روکو۔ پھر ذکر ہوا قلعہ نندنہ ( جہلم ) کا کہنے لگے میں عراق گیا جہاں شہر “ بیروں “ ہے جس کا رہنے والا البیرونی جب اس جگہ آیا اور یہاں بیٹھ کر اس نے زمین کا محیط معلوم کیا۔ تو میں نے عراق والوں سے کہا کہ تمہارے یہاں کا ایک فرزند ہمارے اس قلعہ میں آیا اور اس نے اتنا بڑا کام کیا اب اس کے نام کو باقی رکھنے کے لیے اس قلعے کی مرمت ہی کروادو انہوں نے کہا کہ ہم کیا کرسکتے ہیں تو میں نے ان سے تیل مانگا کہ تم مجھے تیل دو میں اسے بیچ کر کام کرواتا ہوں۔ عراق والوں سے تین ملین ( ؟ ) کا تیل لیکر حکومت پاکستان کو دیا کہ یہ لو اور اب قلعہ نندنہ کی مرمت کرو۔
مختصر یہ کہ انہوں نے اپنی اکیلی ذات کے اتنے کارنامے گنوائے کہ اگر ایک فیصد بھی سچ ہو تو انہیں تمغہ امتیاز ملنا چاہیے لیکن خود انکے بقول وہ صرف خط لکھتے ہیں لوگوں سے رابطے کرتے ہیں لیکن میڈیا سے اور جہاں کام ہورہا ہوتا ہے وہاں سے کوسوں دور کسی اور سلسلے میں کسی اور کے ساتھ ہوتے ہیں اسی سال سے اوپر کی عمر بتاتے تھے لیکن ستر سے اوپر کے لگتے نہیں ہیں دو دفعہ سعودیہ کے شاہ کی درخواست پر خانہ کعبہ کی مرمت (؟) کے کام میں حصہ لے چکے ہیں اور مختلف سفارتکاروں کو اسی کام کے سلسلے میں لیکر تقریبًا پورا پاکستان دکھا چکے ہیں۔ ملین سال کی پوٹھوہاری ہسٹری ان کی فنگر ٹپ پر یاد ہے۔ بلوچستان والی ممّی کا معمہ حل کرنے میں مدد دے چکے ہیں۔ مہا بھارت ( کوروؤں پانڈوؤں والی ) کا مقام شاہپور (سرگودہا اور خوشاب کے درمیان ) بتاتے ہیں، اور انکا دعوہ ہے کہ فتح جنگ کا نام اسی نسبت سے فتح جنگ پڑا ( ویسے فتح عربی اور جنگ فارسی کا لفظ ہے کیا پانڈو بھی ہمایوں کی طرح شاہ ایران سے مدد لیکر آئے تھے؟)
انکی دلچسپ باتوں سے متاثر ہوکر انہیں میں اپنے گھر چائے پلوانے لایا انہوں نے اپنا کارڈ دیا ہے جسکے مطابق انکا اسم گرامی ڈاکٹر منیر صفدرخان ہے اور روہتاس ڈویلپمنٹ کمیٹی ( ROHTAS DEVELPMENT COMMITTEE ) کے صدر ہیں جسکے تین پتے لکھے ہوئے ہیں ایک سہیل گیٹ روہتاس دوسرا   F-10/1 اسلام آباد اور تیسرا  Block A North Nazimabad Karachi. اور انہیں چھوڑ کر آیا میں کھنہ پُل پر جہاں انکا گھر تھا۔
کیسے کیسے لوگ دنیا میں موجود ہیں کیا کیا کام کرتے ہیں اور یوں سرِ راہ آپ سے ٹکرا جاتے ہیں۔ 

Rohtas Fort  Taila Jougiaan, Muneer, Safdar, president
 

12 comments on “ROHTAS DEVELPMENT COMMITTEE کے صدر

  1. اسی لیے تو کہتے ہیں‌کہ دنیا گول ہے۔ آپ کی ایسے ایسے لوگوں سے ملاقات ہوتی ہے جن کے بارے میں کبھی سوچا بھی نہیں ہوتا۔
    آثار قدیمہ کی معلومات خاصی متاثر کن ہیں۔

  2. یہ تصویر بھی کافی پرانی اور پراسرار معلوم ہورہی ہے۔

  3. مجھے ڈاکٹر منیر صفدر خان صاحب عظیم محسوس ہوئے ۔ جن لوگوں کو خدمت کی ہوّس ہوتی ہے وہ ایسے ہی ہوتے ہیں ۔ میں ایک دو ایسی ہستیوں سے بھی ملا ہوں جنہوں نے کام سے مطلب رکھا اپنا نام پتہ بھی بتانے سے گریز کیا ۔
    آپ ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب کو صرف ایٹم بم بنانے والا سمجھتے ہیں کبھی کوئی ہم سے پوچھے کہ ذاتی زندگی میں وہ کیا چیز ہیں ۔ صرف ایک بتا دیتا ہوں جس کا ذکر اوپر آپ نے کیا ہے ۔ شہاب الدین محمد غوری کا مقبرہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب نے بنوایا تھا غالباً ڈاکٹر منیر صفدر خان صاحب کے کہنے پر ۔

  4. میرا پاکستان
    جب وہ ملین اور ٹریلین سال اور ڈالر بتا رہے تھے تو میں سوچ رہا تھا کہ ریکارڈ کرلوں ورنہ مجھے کہاں یاد رہنا تھا۔
    نعمان تصویر کی درخواست تو میں نے چائے پلانے کے بعد کی جسے انہوں نے کمالِ شفقت سے قبول کیا اور کئی عمدہ پوز دیے۔ جو نہ ہوسکا اس میں میری نالائقی آڑے آئی 😉

  5. اجمل صاحب
    بالکل درست کہا ہے آپ نے انہوں نے ذکر بھی کیا تھا آج کل وہ ٹلہ جوگیاں والی سڑک اور سہیل گیٹ پر دوسری چو برجی کے سلسلے میں کام کروانے کی کوشش میں ہیں۔
    سچی بات یہ ہے کہ پہلے مجھے صرف باتیں کرنے والے لگے لیکن ایک تو انکے حوالہ جات دوسری یہ بات کہ کسی قسم کے فنڈ نہیں لیتے کام بھی خود نہیں کرواتے صرف رابطہ مہیا کرتے ہیں اور ڈونرز کو قائل کرتے ہیں۔ صرف روہتاس ہی کو دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ کس نے خرچ کیا ہے اور کس نے کروایا ہے۔
    بہت بڑی خدمت کر رہے ہیں۔

  6. انٹرسٹنگ۔ شروع میں آپ کی تحریر پڑھ کر لگ رہا تھا کہ شاید ایسے ہی باتیں کر رہے ہوں۔ لیکن کارڈ دکھانے کے بعد یقین ہو گیا۔ 😛
    آپ کی راہ چلتے اتنے کام کے بندے سے ملاقات ہو گئی۔ شکل و صورت سے بھی پڑھے لکھے اور کافی ایکٹو دکھائی دے رہے ہیں۔ جتنے کام انہوں نے گنوائے ہیں، اس سے تو واقعی انہیں کوئی تمغہ ملنا ہی چاہیے۔

  7. ماوراء
    کیونکہ شروع میں مجھے بھی شک تھا پہلی دفعہ ملے تھے اور وہ بھی سر راہ۔ بعد کو اجمل صاحب نے تصدیق کی اور کچھ میرے جاننے والوں نے ان کی خدمات گنوائیں، قابلِ ستائش ہیں یہ صاحب
    رہ گئی تمغے والے بات تو یہ کوئی محفل والی کمیٹی تو ہے نہیں کہ صرف میرٹ ہی مدِ نظر ہو 🙂 ، کتنی سیاسی مصلحتیں دیکھتے ہیں اور منیر صاحب خود بھی اپنے سے زیادہ رُہتاس اور ٹیلہ جوگیاں کو فوکس کرتے رہتے ہیں۔

  8. زبردست رضوان ،

    کیا ہیرا آدمی مل گیا آپ کو سر راہ چلتے چلتے اور آپ نے ساری معلومات سن کر چھوڑیں یا انہوں نے بتا کر چھوڑی ویسے اتنا کچھ یاد کیسے رہا کیا ساتھ ساتھ لکھ بھی رہے تھے۔

    ّعظیم خدمت ہے انہیں کہیں کہ اس کا عشر عشیر اردو کے لیے بھی کر دیں 😉 تو اردو کے چاہنے والے انہیں تا قیامت دعائیں دیں گے۔

  9. وہ کہہ رہے تھے کہ اردو کے لیے محب علوی ہی کافی ہے😉

  10. بھا ی تم نے ان بوڑھے بابا جی سے پوز کیوں لے؟ وہ بابا جی تھے، بابا سحگل نھیں۔ 😆

  11. بابا جی کتنے ہی جوانوں سے زیادہ توانا اور پر عزم ہیں۔
    ایک حقیقی سیلیبرٹی

  12. وہ کہہ رہے تھے کہ اردو کے لیے محب علوی ہی کافی ہے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    😛 بالکل ٹھیک کہہ رہے تھے۔
    ویسے اتنے زیادہ کام کوئی ایسا بندہ ہی کرسکتا ہے کہ کوئی پھنے خانی یا رعب وغیرہ نہیں۔۔۔ بس، چل پڑے جہاں چاہا۔ اجمل‌صاحب نے عبد القدیر خاں والی بات بھی اچھی بتائی اور حیرت انگیز بھی۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: