1 تبصرہ

میر جعفر اور میر صادق

مزمت و مدحت کس کی کیجائے؟ کوئ ذمہ داری لے کوئی کہے کہ “ ہاں ان معصوموں کو ( عوام کیطرح نچلے رینکس کے اہلکار بھی تو معصوم ہی ہوتے ہیں جنہیں فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں صرف مُہرے ) ہم نے اگلے جہاں روانہ کیا ہے ان زخمیوں اور معزوروں کی باقیماندہ زندگی ہم نے اندھیر کی ہے۔“
لیکن یہاں تو ایک معروف نام ہے “ نامعلوم “
اور صرف نوحہ ہے متاثرین کے لیے،
 گریہ و ماتم ہے پسماندگان کے لیے،
 اپنی پھر وہی صبح ہے پھر وہی شام ہے کہ ہم تک اس عفریت کے پَنچے ابھی نہیں پہنچے پھر اپنے معمولاتِ زندگی کو کیوں برہم کریں۔
سازشیں اغیار کی ہیں اور ہم محو تماشا
وادی بولان میں چمن ہو یا خیبر میں سوات اور وزیرستان جہاں جہاں کرگسوں نے موت برسائی وہاں وہاں الزام میرے شاہینوں پر بھی آیا۔
میر جعفر و میر صادق نے اپنے ڈالر اور سویڈش کرونہ کا ڈھیر پہلے گِنا پھر دور دیس میں اپنے بچوں کی خیریت دریافت کی اس کے بعد خم ٹھونک کر یہ اعلان کیا کہ ہمارے ہوتے کسی اور کی کیا مجال کہ تمہاری طرف ٹیڑھی آنکھ سے دیکھ سکے ( ہم کس لیے ہیں؟ )
یہاں بھی میر جعفر نے ایک لشکر کی کمان سنبھالی ہوئی ہے اور میر صادق نے ایک اور گروہ کی ہلہ شیری اور سازشوں پر کمر باندھ رکھی ہے۔ دونوں طرف آگ بھڑکائے رکھنا انکا مشن ہے جبتک کمپنی بہادر کی راہ میں روڑے اٹکانے والے موجود رہیں گے میر جعفر و میر صادق بھی میرے بھائی بندوں کو تیل کی طرح اس آگ میں جھونکتے رہیں گے۔
 ایک طرف اسکول و مدرسے کو جاتے معصوم بچے تو دوسری طرف کرگسوں کا کیا بھگتتے شاہین،
شاہینوں کی لاشیں بھی کوہاٹ، مردان، جہلم، سرگودہا، بدین اور سمگلی (کوئٹہ ) میں بیٹھی مائیں اور بہنیں وصول کرتیں ہیں جو کل اپنی پڑوسنوں کو انکے رشتہ داروں کی سوات سے اطلاع آنے پر پُرسہ دینے گئیں تھیں۔
میروں کا کیا بگڑتا ہے؟؟؟
بس یہی کہ بچہ بچہ
“ننگِ ملت ننگِ وطن “
کے نعرے لگاتا پھرتا ہے لیکن کَب؟ سالوں بعد جب انکی پشتیں گندھارا انڈسٹریز اور خزانے کی وارث بھی بن جاتیں ہیں۔
وقت کے میر جعفر اور میر صادق کو کبھی بھی ساتھیوں اور ہمنواؤں کی کمی نہیں رہی۔
میروں کا ساتھ دینے مہران و بولان سے کتنے ہی ارباب، خیبر سے امیر اور زرخیز میدانوں سے چودھری و ٹوانے حاضر رہتے ہیں۔
ہم کیا کرسکتے ہیں؟
کندھا دے سکتے ہیں!
غائبانہ نمازِ جنازہ پڑھ سکتے ہیں!
قبریں پہلے کھود کر تیار رکھ سکتے ہیں کہ میتیں جلد سنبھال لی جائیں دیر نہ ہو جائے۔

One comment on “میر جعفر اور میر صادق

  1. آہ،
    ہمارے نصیب میں اب یہ نوحے لکھنے ہی رہ گئے ہیں۔😦

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: