تبصرہ کیجیے

میں رعایا ہوں

میں  ایک عام پاکستانی ہوں
 آج میں قدرے خوش ہوں
مکرو فریب کا جو نقاب میرے ستم گر نے اوڑھ رکھا تھا
وہ سرک گیا ہے
میں اپنے آپ کو شہری سمجھتا تھا
آج مجھے روزِ روشن کی طرح عیاں ہوگیا
“ میں رعایا ہوں “
مجھے ابھی تہزیب و تمدن کے کئی امتحان پاس کرنے ہیں
پھر میں پا سکوں گا وہ آزادیاں
جو آج کے دور کے آزاد انسان کو نصیب ہیں
وہ تمام آزادیاں جو
جنوبی افریقہ کے باسیوں کو حاصل ہیں
سیلون کے رہنے والے بھی جن سے مستفیض ہوسکتے ہیں
لیکن ابھی مجھے کُندن ہونا ہے
میرے لیے جمہوریت شجرِ ممنوعہ ہے
میرے لیے شخصی آزادی ابھی سِم قاتل ہے
مجھے ابھی سوشل جسٹس کے ہجے یاد کرنے ہیں
مجھے ابھی خاردار تاروں کے باڑوں میں ہی محبوس رہنا ہے
آزاد انسان سے مجھے خطرہ ہے ؟
مجھ سے آزاد انسانوں کو خطرہ ہے ؟
جتنا بتایا وہی سُنو
جو دکھایا جائے وہی دیکھو
زیادہ کی ضد نہیں کرو
کیونکہ
“ تم میری رعایا ہو “
تمہیں ابھی تہزیب و تمدن کے کئی امتحان پاس کرنے ہیں
پہلے بھی “ میرے ہم وطنو“ ہوتا رہا ہے
پہلے بھی “ مائی کنٹری مین “ سُنتے تھے
لیکن پہلے قائد اور اقبال کے آدرشوں کو پامال کیا جاتا تھا
ان کے فرمودات کو من پسند معنی پہنائے جاتے تھے
اب سات سمندر پار سے سند لائی گئی ہے۔

“ لوگ کہتے ہیں تو ٹھیک ہی کہتے ہوں گے
میرے احباب نے تہزیب نہ سیکھی ہو گی“

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: