1 تبصرہ

“ دکھ جھیلیں بی فاختہ اور کوے انڈے کھائیں “

سرخوں نے ماریں کھائیں
جیلیں جھیلیں قیدو بند کے عزابوں سے گزرے
حسن ناصر جیسوں نے اپنی جانیں واریں
اور
ملاؤں کی جکڑی پاکستان کی سوسائٹی میں
آزادی فکر کی شمع روشن کی
اپنی آزادی کی، عزت نفس اور ووٹ کی طاقت کا احساس دلایا
ملٹری اور مُلا کی دھری مار سہتی مشرقی اور مغربی پاکستان میں بَٹی اس قوم کو جاگیرداری سرمایہ داری کے افسوں سے نکلنے کی راہ سُجھائی
جب نیند کی ماتی قوم ذرا جاگی تو
مشرق کو شیخ ہانک کر لے گیا اور مغرب کو بھٹو
بھٹو تو وڈیرا تھا
سُرخوں نے شعور کی فصل پکائی اور وڈیرا کاٹ کر گھر لے گیا۔ 
اب کالے کوٹ والوں نے ماریں کھائیں دانت تُڑوائے
لاٹھیاں اور بوٹ کھائے
لیکن اس سے زیادہ کالے کوٹ والوں کو نہ کریڈٹ دیا جاسکتا ہے نہ ہی ان کو اور میڈیا کو اقتدار میں حصہ
اس لیے اب
بی بی آگئی میدان میں
ہو جمالو
اسی لیے کہتے ہیں
“ دکھ جھیلیں بی فاختہ اور کوے انڈے کھائیں “
نئے دور کی فاختہ کالے کوٹ پہنتی ہیں اور کوے نے چادر اوڑھ رکھی ہے دوبئی سے آتا ہے انڈے کھا کر چلا جاتا ہے۔
اسے مار کر بھگا بھی نہیں سکتے کہ کوے کی کائیں کائیں سے وہ سانپ جو سوات میں مدین اور بحرین تک پہنچ گیا ہے اسے ڈرانا اور روکنا ہے۔

اوپر عقاب ہے نیچے سانپ ہے اور ہاتھ میں بندوق پکڑے شکاری
فاختہ اب اسی انتظار میں ہے کہ سانپ شکاری کو ڈس لے اور
 اس کا نشانہ خطا ہو کر عقاب کو لگے یوں صدیوں سے چلتی کہانی اپنے روایتی انجام کو پہنچے۔
 

One comment on ““ دکھ جھیلیں بی فاختہ اور کوے انڈے کھائیں “

  1. بھائی صاب اب نئی دنیا ہے سہ جہتی (تھری ڈی) شکاری کو پتہ ہے کہ سانپ موجود ہے اور اس میں زہر نہیں ، اور نشانہ کبھی خطا نہیں ہو سکتا کیونکہ اب لیزر گائیڈڈ بندوق ہے ۔ ۔

    امن کا تریاق چاہے کتنا ہو زود اثر
    مرنا ہے فاختہ کو ،آخر ایک دن ۔۔ ۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: