تبصرہ کیجیے

‘ عوام کی شہید ملکہ’

‘ عوام کی شہید ملکہ’
حسن مجتبیٰ
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نیویارک
اگلے جنم موہے بٹیا نہ کیجیو!
وہ چھوٹی سی بچي جس نے المرتضی لاڑکانہ میں اپنے باپ کے ہاتھوں بندوق سے فائر کرکے درخت پر سے ایک طوطے کو مارنے پر دو دن تک کھانا نہیں کھایا تھا وہ قتل ہوگئی۔ قاتلوں اور جرنیلوں، کرنیلوں کی سرزمین پر ایک نہتی اور واقعی بندوقوں سے نفرت کرتی لڑکی قتل ہوئی۔

’پنکی، بے بی، سر، بی بی، محترمہ، وزیر اعظم، بینظیر آخرکار اس خدشے کے سچ ہونے کا نشانہ بنی جس کا اظہار وہ اپنی زندگی کے آخری لمحوں تک کرتی رہی تھی یعنی کہ مشرف حکومت کی مجرمانہ غفلت اس کے شریک جرم ہوکر اپنے قتل ہوجانے کا وہی خدشے جن کا اظہار (مبینہ طور پر) ان کے شوہر آصف علی زرداری اور پارٹی ساتھی ریٹائرڈ جنرل نصیراللہ بابر نے فوج سے ان کی ڈیل پر اپنے اختلافات کرکے ظاہر کیا تھے۔

اپنے قتل سے صرف چند روز قبل اپنی ایک ای میل میں انہوں نے امریکہ میں اپنے دوست مارک سیگل کو لکھا: ’اگر میں قتل ہوجاوں تو اس کا ذمہ دار صدر پرویز مشرف کو سمجھا جائے کہ میرے مانگنے پر بھی انہوں نے مطلوبہ سیکیورٹی آلات مہیا نہیں کیے‘ یہ بات مارک سیگل سی این این پر کہہ رہے تھے۔

’رو میرے دیس رو کہ تیری ایک اچھی بیٹی قتل ہوئی۔‘

اسے القائدہ یا طالبان نے مارا یا پاکستانی فوجی اسٹبلشمنٹ نے لیکن راولپنڈی سے ہمیشہ مقبول لیڈروں کی لاشیں پاکستان کے عوام کو بھیجی گئی ہیں۔
وہ ایسے قتل ہوئي ہیں جسے پاکستان میں پاپولر بھٹو قتل ہوتے ہیں۔ جیسے انڈیا میں اندرا گاندھی قتل ہوئيں۔ جیسے امریکہ میں کینیڈی اور یونانی المیائي کرداروں کا انجام۔

لیکن لوگو! بھٹو ققنس تھے جو اپنی راکھ سے بار بار پیدا ہوۓ-‘

’پاکستان نے بینظیر کو قتل کردیا‘ میرے ایک دوست نےمجھ سے کہا۔

مجھے یاد آئی بہت برس بیتے جب کسی نے کہا تھا ’(بڑے) بھٹو کے بعد پاکستان دنیا کے نقشے سے مٹ جاۓ گا۔‘

میں حیران ہوں کہ بھٹو فیملی اور ان کے کروڑ ہا چاہنے والوں کے ساتھ ایسی کربلائوں کے بعد پاکستان کا باقی رہنا معجزہ نہیں تو اور کیا ہے؟

اسلامی تاریخ میں خاندان رسول کے بعد وقت کےحکمرانوں کے ہاتھوں شاید اتنے بڑے المیے صرف بھٹو خاندان کے ساتھ ہوئے ہیں۔

لوگ سندھ سے لیکر سری نگر یعنی بدین سے بارہ مولا تک ماتم کناں ہے۔ آپ کو یاد ہوگا کہ اس سے پہلے آپ نے یہ نظارہ یا جمال ناصر کی موت پر دیکھا تھا یا بھٹو کی موت پر۔

راولپنڈی میں بھٹو کی پھانسی کی جگہ پرگھاس اور جرنیلوں کے گولف کورس کی ہریالی کو کتنے مقبول اور محبوب سیاسی لیڈروں کا خون چاہیے ہوگا اے ارض وطن!

سی ون تھرٹی اور فوجی ہلی کاپٹروں میں چکلالہ سے سندہ کی طرف مقبول لیڈروں کی لاشیں کب تک!
 
اصل میں بینظیر سر شاہنواز بھٹو کی اس بیٹی کا نام تھا جو وہ جوانی میں ہی جونا گڑھ میں بیماری میں فوت ہوئی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی بڑی بیٹی کا نام اپنی اس چہیتی بہن کے نام پر رکھا تھا۔

سب سے پہلے بینظیر بھٹو اسوقت میرے جیسے عام لوگوں کی نظر میں آئي تھیں جب وہ اپنے والد وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے ساتھ بھارت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی سے شملہ مذاکرات کو جانیوالے وفد میں شامل تھیں۔

اگر کچھ شاعر آنیوالے دنوں کو دیکھ سکتے ہیں تو رئیس امروہی نے بینظیر بھٹو کا مقام تاریخ میں جولائي انیس سو باہہتر میں دیکھ لیا تھا جب مقتول شاعر رئيس امروہی نےقطعہ لکھا تھا:

‘شملہ مذاکرات تھے تاریخ گير بھی
پر عزم اور عظیم بھی لیکن حقیر بھی
آراستہ تھی محفل صدر و وزیر بھی
تاریخ کی نگاہ میں تھی بینظیر بھی-‘

لاڑکانہ کے لوگوں کو یہ بھی یاد ہوگا جب وہ اسی راولپنڈی سے اسی دسبمر کی چھٹیوں میں اپنے لاڑکانہ اور نوڈیرو والے گھروں پر آیا کرتی۔

شیریں امیر بیگم بھٹو کی زمینوں پر گھڑ سواری اور جیسا کہ ذوالفقار علی بھٹو کے بہت ہی پرانےذاتی ملازم ‏عثمان سومرو عرف فلیش مین نے مجھے بتایا تھا المرتضی لاڑکانہ کے منی سینیما ہال میں پروجیکٹر پر ذوالفقار علی بھٹو نے بینظیر کو فلم ’چاند اور سورج‘ ساتھ بیٹھ کر دکھائي تھی۔ ‘جب ہم (ملازموں ) نے بینظیر بھٹو کو دیکھا تو ہم انہیں ’سر‘ کہہ کر مخاطب ہو ر ہے تھے۔ ’عثمان نے کہا تھا مجھے یاد ہے جب وہ آکسفورڈ یونیورسٹی ڈبیٹنگ سوسائٹی کی صدر منتخب ہوئی تھیں اور انکا انیس سو ستر کی دہائي کی بیل باٹم اور فلاور چائلڈ ھپی آوٹ لک تھا۔‘
 
 

عثمان فلیشمین کی ’سر‘ اور بینظیر بھٹو انیس سو چھہتر میں اسلام آباد کی وزرات خارجہ میں بطور آفس بکار خاص بھی مقرر کی گئي تھیں۔

ایک بے فکر لیکن سنجیدہ اور بلیوں سے پیار کرنے والی بینظیر بھٹو کی زندگي کے اسٹیشن پر دکھوں اور حادثوں سے بھری ٹرین اسوقت داخل ہوتی ہے جب وہ جولائی انیس سو ستتر کی گرمیوں کی چھٹیوں پر تھیں اور انکے والد ذوالفقار بھٹو کی حکومت کا تختہ ان کے ہی ترقی دیے ہوئے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل ضیاءالحق نے الٹ دیا۔ اس دن سے لےکر وہ ’بقول شحضے‘ ریل کی پٹریوں پر ہاتھ پاوں باندہ کر پھینکی جانیوالی ہیروئین تھی اور ہر وقت کا صدر اور چیف آف دی آرمی اسٹاف ایک ولن! ضیاء الحق سے جنرل پرویز مشرف اور مسٹر مشرف سے لیکر لیکر کیانی تک آخری دم تک یہی کہانی رہی۔

میں سوچ رہا ہوں کہ صدیوں پہلے چانڈکا پرگنہ (موجودہ لاڑکانہ ) کا والی نواب ولی محمد چانڈیو جب زمین کا ایک بڑا رقبہ بھٹو قبیلیے کی سنگھار نامی ایک عورت کو عطا کررہا تھا تو سندھ کے ان حسین و ذہین لوگوں کےساتھ زندگی کے الیمے اور میرے دیس کے دکھوں کی سمفنی بھی کوئی ان دیکھا لیکن بےپرواہ موسیقار وہیں ترتیب دے رہا ہوگا۔

’اگلے جنم موہے بٹیا نہ کیحيو‘
 
 

امداد علی بھٹو، سکندر علی بھٹو، ذوالفقار علی بھٹو، شاہنواز بھٹو، مرتضی بھٹو اور اب بینظیر!

شاہ لطیف بھٹائی نے کہا تھا ’سامائی تاں سکھ ویا‘ (وہ جب جوان ہوئی تو اسکے سکھ چلے گئے) اور یہی کچھ بینظیر بھٹو کےساتھ ہوا۔
ذوالفقار علی بھٹو کی ضیاء حکومت کے ہاتھوں گرفتاری اور پھر قتل کے مقدمے کے خلاف سندھ میں ان کے احتجاجی دورے کے دوران ہالا کے قریب اسے گـرفتار کرکے نظربند کردیا گيا۔ پی پی پی کے جیالے تب اسے ’بے بی‘ کہتے۔ پہلے وہ ستر کلفٹن اور پھر سکھرجیل میں نظربند کی گئيں۔ سکھر جیل میں بھی انہیں قتل کرنےکی سازش کی گئي۔ جب سکھر جیل کے قیدیوں نے دیواروں پر چڑھ کر ان کے حق میں نعرے بازی کی۔

ستر کلفٹن کی دیواروں تھیں اور ان میں تنہا نظربند بینظیر اور ستر کلفٹن کے باہر آئي ایس آئی کے کرنل امتیاز بلا اور اس کے بھوں بھوں کرتے کارندے۔

محھے یاد ہے وہ بینظیر کی نظربندی کے بعد سندھ میں پہلا محرم تھا جب مجلس میں قدیم مرثیہ ’ہائے ہائے رن میں بی بی بانو سر پر خاک بچھاتی ہے۔ پڑھا جاتا تو لوگ اسے علامتی طور پر بینظیر بھٹو کے دکھوں سے جوڑتے۔
 
 

ستر کلفٹن کی دیواریں، تنہائي اور عجیب ’ہیلیوسینیشن‘ جن میں ان کے کان بری طرح متاثر ہوئے۔ ڈاکٹر امداد علی بلوچ مشہور ماہر ای این ٹی ان کے کانوں کے معالج تھے۔

انیس سو اناسی میں ضیاءالحق نے انہیں نظربندی سے رہا کیا اور انہوں نے بذریعہ خیبر میل کراچی سے لاڑکانہ کا سفر کیا جب تمام راستے ہزاروں لوگ اس کی ایک جھلک دیکھنے کیلئے چلتی ریل کی پٹریوں پر لیٹ گئے تھے۔ ہر طرف ماتم کرتے انسانی سر اور ہاتھ تھے۔ کالے سندھی اجرک اور کالے چشمے میں ریل کے ڈبے سے ہاتھ ہلاتی تقریر کرتی بینظیر۔ لاڑکانہ پہنچتے ہی فوج نے اسے پھرگرفتار کرلیا۔

جلاوطنی میں لندن جاتی ہوئی بینظیر اور عوام سے پریس کے ذریعے یہ وعدہ کہ میدان میں ملیں گے۔

اپنے جواں سال بھائی شاہنواز کی جنوبی فرانس سے لاش لیکر وطن لوٹتی ہوئی ٹوٹی پھوٹی بینظیر۔ اسے لاڑکانہ میں لاکھوں عوام کی طرف سے پذیرائی حاصل ہوئی۔

لندن میں ایک چھوٹے سے فلیٹ سے ضیاءالجق کیخلاف چلنے والی تحریک جلتا ہوا احتجاج کرتا ہوا سندھ۔
 
 

جلاطنی سے واپس آتی ہوئی بنیظیر بھٹو۔ بینظیر کے ساتھ ایک سی ایس ایس خوبرو سندھی افسر کی مجوزہ منگنی اور پھر اس افسر کا خط لکھ کر ضیاءالحق سے اجازت مانگنا جس پر بھٹو خاندان نے رشتہ منسوخ کردیا تھا۔

سندھی قوم پرست رہنما جی ایم سید کےگاؤں کے قریب بھی اس کی پیجارو جیپ پر حملہ کرکے اسے قتل کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا لیکن وہ بچ گئی تھیں کہ دو انتظامی افسران نے انہیں پہلے سے ہی اس سازش سے آگاہ کردیا تھا۔ بینظیر بھٹو نے روڈ کے ذریعے اپنا سفر منسوخ کردیا لیکن اپنی جیپ کو جانے دیا تھا جہاں اسی جگہ ان کی جیپ پر حملہ ہوا تھا۔

بعد میں سندھی قوم پرست رہنما جی ایم سید نے کہا تھا کہ ان کے ڈاکو مریدوں نے انہیں بتایا تھا کہ بینظیر کی جیپ پر انہوں نے حملہ ملٹری انٹیلجنیس ایجنسی کے ایک میجر عباس کے کہنے پر کیا تھا۔

تب سے لیکر آخر دم تک بینظیر کرنیلوں جرنیلوں اور قاتلوں کی سرزمین پر قاتلانہ حملوں کے نرغے میں رہی۔

کچھ لوگ تو کہتے کہ آصف زرداری سے ان کی شادی بھی ضیاءالحق اور اسکی ملٹری انٹیلیجنس کی ہی سازش تھی۔

لیکن ان کے سسر نے آصف علی زرداری اور بینظیر کی شادی کے بارے میں سوال پر اپنے کسی قریبی دوست سے کہا تھا: ‘کوئی ایسا سندھی وڈیرہ بتائو جسکی عمر پینتیس برس ہو اور وہ اب تک غیر شادی شدہ ہو۔‘

سندھ کی اس ہرنی کو پاکستان کے تمام کتوں نےگھیر گھار کر جلاوطنی سے واپس لاکر چیر پھاڑ دیا۔جرنیل طاقتور اور پاکستان کے عوام لاورث ہیں کہ انہیں ہیلی کاپٹروں میں اپنی محبوب لیڈر کی لاش بھیح دی گئي ہے۔

لیکن وہ سیفٹی والو جو صوبوں اور وفاق کے درمیان بینظیر بھٹو کی شکل میں تھا وہ ٹوٹ چکا ہے۔ وہ ایک فرد نہیں تھی وہ کتنی بھی کرپٹ تھی، جھوٹی تھی وہ ایک ملکہ تھی۔ اک سوچ تھی۔ ایک عورت تھی۔ اک لیڈر تھی۔ بھٹو خاندان ملک پر واری گیا اور ملک فوجی جرنیلوں اور انکے کاسہ لیسوں پر۔

کیا اسے ان جرنیلوں اور ملاؤں نے ملکر مارا جو کہتے ہیں تیس روز کے بعد عورت کے بیٹھنے سے کرسی نجس ہوجاتی ہے؟

لیکن یہ قتل کی جانیوالی عورت عوام کی شہید ملکہ بن چکی۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: