7 تبصرے

حق با حقدار رسید

بلاول کی نامزدگی پر بھائی لوگ بڑے اعتراضات کر رہے ہیں دوستومیرے وطن میں باقی کونسا کام سلیقے کا ہورہا ہے؟ دنیا میں کونسا ملک ہوگا جہاں اسی نوے فیصد ملکی اداروں کے سربراہوں اور کارپرداروں کے نام کے ساتھ عسکری عہدہ لگا ہوگا؟ ہمارے بیرونِ ملک رہنے والے دوست پچھلے سال تک مشرف بہ پاکستان تھے اور ساری ہریالی اسی کے دم سے دکھائی دیتی تھی۔ انہیں اردگرد کے ممالک کی ترقی دکھائی نہیں دیتی تھی یا چائنا، ترکی، انڈیا اور سنگا پور بھی مشرف کے برکات سے معاشی ترقی کی زقندیں بھررہے تھے یہ تو بھلا ہو چیف جسٹس کا جس کی بدولت بگلابھگت بے نقاب ہوا اور عسکری آمریت بے نقاب ہونے پر مجبور ہوئی۔ پاکستان میں اس وقت حال یہ ہے کوئی کاروباری ہو یا سیاسی مقتدر ہستی دُم اٹھا کر دیکھو تو ریٹائرڈ کی مہر صاف دکھائی دے گی۔    
یہاں اگر سیاسی پارٹیوں میں سیاست (جمہوریت نہیں) کی بات ہو تو پھر جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم ہی دو جماعتیں ہیں جہاں تنظیم اور نظم نام کی کوئی چیز موجود ہے باقی ہجومِ دلبراں ہے اور اگر کوئی یہ سمجھتا ہے پاکستان میں کوئی بھی پارٹی (بمعہ سب سے زیادہ حکومت کرنے والی پارٹی کے جس کا سربراہ ایوب خان پھر ضیاءالحق اور اب مشرف ہے) شخصیات کے بجائے منشور یا نظریات پر چلتی ہے تو دوستو وہ شخص بھولا ہے ۔ اسی لیے اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ پی پی پی بھٹو کے علاوہ کوئی پارٹی ہے تو پھر وہ بھی جتوئی، کھر اور شیرپاؤکو ملاحظہ فرمالے۔
 آئیڈیلسٹک ہوکر بات کرنا بہت آسان ہے دوستو کون شخص ہوگا جس نے سیاست کی الف بے بھی پڑھی ہو اور پھر وہ عملی کارکنوں کے مقابلے میں خاندانی وراثت کو ترجیح دے؟ لیکن ساتھ ہی زمینی حقائق بھی ہوتے ہیں عام ووٹروں کی نفسیات بھی ہوتی ہے یہ پاکستان ہے دوستو جہاں پشاور سے کیماڑی تک مغل شاہی پھر سکھا شاہی اسکے بعد انگریز اور اب فوجی شاہی مقامی وڈیروں اور مًلکوں کو اپنی خلعتیں بخش کر چین و سکون سے حکومت کے مزے لوٹ رہی ہے یہ سارا چلن یہ سارے ہتھکنڈے ہماری رگوں میں سرایت کر چکے ہیں خالی بڑے شہروں میں بیٹھ کر کتابیں پڑھ لینے سے اور دور دیسوں والوں کو دیکھ کر ہمارا معاشرہ تو تبدیل نہیں ہوسکتا۔ یہاں  مزہبی سیاسی پارٹی میں مفتی محمود مُلا فضلو کو جانشین بناتا ہے تو سُرخے ولی خان کی جگہ اسفند ولی کی جے جے کار کرتے ہیں نظریات اور کلمات میں مشرق و مغرب کا بُعد مگر عمل اور رواج ایک جیسے کیونکہ پارٹیاں کتابوں میں نہیں زمین پر ہوا کرتی ہیں جہاں پڑھے لکھے فلاسفر نہیں بلکہ جیالے کوڑے کھاتے ہیں، جیلیں جھیلتے ہیں خود سوزیاں کرتے ہیں آپ اور میں ایک پتھر نہیں کھا سکتے۔ کبھی ملاقات کریں ‌ایسے بندے سے جس نے کوڑے کھائے ہوں وہ آپ کو دیوانہ لگے گا مگر بھائی اس ملک میں جلاد حکومتیں کرتے ہیں وہی پارٹیاں سروائیو کرتیں ہیں جن کے ووٹ بنک میں دیوانے ہوں ان کی دیوانگی قائم رکھنے کے لیے ہمارے لیڈر کیا کیا مضحکہ خیز حرکتیں کرتے ہیں کبھی جبہ و دستار کا گیٹ اپ کرتے ہیں تو کبھی کروٹن کے پتوں اور میزوں کے فارمیکے پر اپنی تصاویر ثبت کرواتے ہیں، کوئی نظامِ مصطفٰی کا نعرہ لگواتا ہے تو کوئی کالا باغ ڈیم کا ایسے میں اگر پی پی پی کے پاس بھٹو نام  کا ایک منتر موجود ہے تو وہ اسے کیوں استعمال نہ کرے اور یہ منتر انہوں نے اپنی جانوں پر کھیل کر حاصل کیا ہے۔  ہے کوئی دوسرا جو اس ملک کی جنتا پر یوں اپنی جان وار دے؟؟   آخر میں ایک بات تقابل پاکستان میں موجود پارٹیوں کا ہونا چاہیے کتابوں اور ڈرائنگ روموں والی پارٹیوں کا نہیں اور بات اسوقت دستیاب لیڈر شپ کی ہے۔

7 comments on “حق با حقدار رسید

  1. “ایم کیو ایم ۔۔۔۔ جہاں تنظیم اور نظم نام کی کوئی چیز موجود”
    اگر تنظیم اور نظم خوف اور دہشت کا نام ہے تو یہ ٹھیک ہے!!!

  2. بھائی چاہے ہم لسانی سمجھیں علاقائی اور فاشسٹ کہیں لیکن ایم کیو ایم کا سیکٹیریٹ ہے انکا ڈیٹا بیس ہے اور ایک مربوط سائنسی نٹ ورک ہے۔ شعیب بھائی پڑھے لکھے لوگوں کو ٹوپی پہنانا کوئی آسان کام ہے کیا؟

  3. ارے ارے یہ کیا ظلم کررہے ہیں رضوان۔ آپ کو پتہ نہیں ہمارے اردو بلاگستان میں ایم کیو ایم کیسا ہاٹ ٹاپک ہے۔ کوشش کریں کہ آپ کی کسی پوسٹ سے ایم کیو ایم کی توصیف کا بالکل اظہار نہ ہو۔

    ویسے ایم کیو ایم پاکستان کی واحد سیاسی جماعت ہے جس کا ویب سائٹ روزانہ اپ ڈیٹ ہوتا ہے۔ ایم کیو ایم دوسری ایسی جماعت ہے جہاں لائبریریاں اور آڈیو ویڈیو آرکائیوز محفوط کرے جاتے ہیں۔ جہاں باقاعدگی سے کارنر میٹنگز ہوتی ہیں۔ جن کے دفاتر پورا سال کھلتے ہیں جو ہر قومی ایشو پر موقف کا اظہار کرتے ہیں۔ اور انہیں بھی یہ طاقت ووٹوں سے ہی ملتی ہے۔ یہ اور بات ہے کہ ہمارے ملک کے لوگ ووٹ کی کچھ اہمیت نہیں جانتے۔

  4. یہ بات تو ماننی پڑیگی کہ ان کی جماعت میں نظم ہے تھوڑا بہت۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ایم کیو ایم اپنی بیوقوفیوں کے باوجود ابھی تک زندہ ہے۔ چند ایک کالم نگار بھی انکی تنظیمی صلاحیتوں پر کافی قصیدے لکھ چکے ہیں۔
    نعمان, اگر آپ نماز پڑھیں، روزہ رکھیں اور ساتھ میں چوری بھی کریں تو ظاہر ہے آپکی اچھائیاں پس پردہ چلی جائینگی۔ ایم کیو ایم والی نظم وضبط میں اچھے، مختلف ایشوز پر ردعمل دینے میں تیز لیکن انکے کرتوت۔۔۔۔۔۔یقیناً آپ مجھ سے بہتر جانتے ہیں۔

  5. نعمان
    اچھا کیا وقت پر بتا دیا آئندہ خیال رکھوں گا۔😉

    ساجد بھائی
    ایم کیو ایم کے کرتوت اور شخصیت پرستی سے صرفِ نظر کرتے ہوئے یہ دیکھیں کہ انکا انتظامی ڈھانچہ اور نظریاتی تعلیم کا سیٹ اپ کیسا ہے اور انکے مقابلے میں باقی تمام سیاسی پارٹیوں کو دیکھیں تو کوئی نظریہ دکھائی دیتا ہے؟ ہر ایک صرف ایک شخصیت کے حوالے سے کچھ لوگوں کا گروہ ہے باقی کچھ نہیں۔

  6. نظم و ضبط تو ہٹلر کی جماعت میں‌بھی بہت تھا، جتنے یہودی مارے تھے، سب کا ریکارڈ‌اچھے طریقے سے رکھا تھا :mrgreen:

  7. فیصل
    ہٹلر سے مشابہت دیکر آپ نے قد گھٹا دیا بڑے بھائی کا۔
    دیکھ لو نعمان پھر ثابت ہوگیا کہ تمام توپوں کا رُخ پی پی سے ہٹ کر پیر جی کی طرف ہوگیا ہے🙂

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: