6 تبصرے

پاکستانی معیشت

(جانے بی بی سی کو پاکستان کی ترقی کرتی معیشت کیوں نظر نہیں آتی ہمیشہ کیڑے نکالتے رہتے ہیں)

پاکستان کے ایک غیر سرکاری ماہر معیشت قیصر بنگالی کے مطابق ملک میں گندم کا بحران حکومت کی مکمل نااہلی کا ثبوت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پچھلے آٹھ سالوں سے معیشت چند گروہوں کے ہاتھوں میں رہنے کی وجہ سے اب مسائل سامنے آ رہے ہیں۔
قیصر بنگالی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ’حکومت نے پہلے فاضل پیداوار کے غلط اعداد و شمار دیئے اور پھر واضح ہوگیا کہ گندم کی پیداوار اتنی نہیں ہے جتنی بتائی گئی ہے تو پھر درآمد کرنے میں تاخیر کی گئی۔‘

ان کے مطابق وہ وقت مناسب نہیں تھا جب گندم کا پیداواری تخمینہ لگایا گیا۔ ’ایسا اس لیے کیا گیا کیونکہ کسی کو گندم برآمد کرنے کی اجازت دینا تھی۔‘

قیصر بنگالی کا کہنا تھا کہ نیب نے چینی کے بحران کی تفتیش کرنا چاہی تو اسے روک دیا گیا اور یہ سگنل دیا گیا کہ چند لوگ ریاست میں ایسے ہیں جو کوئی بھی حرکت کر سکتے ہیں اور انہیں کوئی پکڑنے والا نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ معیشت کی صحت کا اندازہ اگر صرف سٹاک مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کی بنیاد پر لگایا جائے تو پھر اس طرح کے بحران تو ناگزیر ہیں۔ ’مجھے افسوس سے یہ کہنا ہے کہ ہم اور بھی ایسے بحران دیکھیں گے۔‘

اس سوال کے جواب میں کہ حکومت زرمبادلہ کے ذخائر اور سات فیصد سے زائد سالانہ ترقی کا ڈھنڈورہ پیٹتی آ رہی ہے تو قیصر بنگالی کا کہنا تھا کہ کئی معیشت دان پچھلے پانچ سال سے مستقل کہہ رہے ہیں کہ یہ اعداد و شمار ٹھیک نہیں ہیں اور اس حوالے سے ثبوت بھی پیش کیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ معیشت کو صرف ایک پیر پر کھڑا کیا گیا، جس کا انحصار بینکوں کے کنزیومر کریڈٹ پر تھا۔ ’اس طرح بینکوں نے بے شمار منافع کمایا۔ جس سال معیشت میں آٹھ اعشاریہ چار فیصد اضافہ ہوا تھا اس سال بینکوں کا اضافہ تقریباً تیس فیصد تھا۔ یہ جو قرضہ تھا گاڑیاں خریدنے کے لیے دیا جاتا تھا یعنی آٹو موبیل سیکٹر، اور اس سیکٹر کا گروتھ ریٹ پینتالیس فیصد تھا۔‘
قیصر بنگالی نے کہا کہ جس طرحجنرل ضیاء الحق ایک بہت بڑا قرض کا پہاڑ چھوڑ گئے تھے جو سیاسی حکومتوں کو ادا کرنا پڑا انیس سو نوے کی دہائی میں، اسی طرح (مشرف حکومت) آٹھ سال کی معاشی بدانتظامی اور نااہلی چھوڑ جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ نئی حکومت آئے گی تو اسے مسائل کے پہاڑ کا سامنا کرنا ہوگا اور ان کی پیشگی ہمدردی وزیر خزانہ کے لیے ہو گی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے معاشی بحران پر قابو پانے کے لیے دفاعی اخراجات کو کم کرنا ضروری ہو چکا ہے۔

بی بی سی اردو

6 comments on “پاکستانی معیشت

  1. کئی اور سیکٹرز میں گروتھ ہوئی ہے جس کا ذکر بنگالی بابا نے نہیں کیا۔ جیسے ہاؤسنگ، رئیل اسٹیٹ، ٹیلی کام، ہیلتھ، اور سروسز۔ گندم اور چینی کا بحران چاہے کرپشن کے سبب ہو مگر معیشت کی ترقی کافی واضح ہے۔

  2. نعمان لیکن حالیہ بحرانوں نے وہ تمام شیش محل توڑ دیے ہیں سچ ہے کہ
    بنیاد مین ہی اگر کجی ہوگی تو اوپر سے کسی عمارت کو سیدھا نہیں کیا جاسکتا۔
    میں چلا آٹا لانے
    😉 خالی باتوں سے اب پیٹ بھرتا نہیں

  3. معیشت کی ترقی؟ کہاں‌ہے؟ اگر غور کریں تو سوائے بنکنگ، رئیل سٹیٹ اور ٹیلے کام کے کہیں ترقی تو کجا انوسمنٹ‌بھی نہیں‌ہوئی۔ ٹیلے کام کا سارا پیسہ باہر گیا کہ کمپنیاں‌غیر ملکی تھیں بنک سارے گوروں‌کے یا شیخوں‌کے ہیں۔ پاکستانی پیسہ بس پلاٹوں‌میں‌ہی کماتے رہے۔ اس سیکٹر میں‌ بھی ترقی نہیں‌ہوئی، کتنے نئے شہر بنے؟ کتنا انفرا سٹڑکچر بنا؟ کچھ بھی نہیں۔ یہ سب ان اربوں‌رپوں‌کے باوجود جو پچھلے آٹھ نو سالوں‌میں‌ہمارے ہاں‌آئے۔ میرے خیال میں‌بیلچے کو بیلچہ ہی کہنا چاہیے۔ ❗

  4. فیصل اور رضوان آٹے کا بحران، بجلی کا بحران، سیاسی بحران، اور خودکش عفریتیں۔ یہ بتائیں یہ سب ایک ساتھ ہی کیوں حملہ آور ہوئی ہیں؟ انفیکٹ پاکستانی معیشت اتنی زبوں حال نہیں ہے اور اس میں کافی ہمہ جہتی آئی ہے۔ حکومت کی آمدنی کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔

    ایڈورٹائزنگ، انٹرٹینمینٹ، آٹوموبائل، فرٹیلائیزرز، فوڈپروسیسنگ، ہوم اپلائنسز مینوفیکچرنگ، کے شعبوں میں بھی ترقی ہوئی ہے

  5. نعمان
    آپ بالکل درست دیکھ رہے ہیں کہ پاکستان میں ترقی ہوئی ہے اور اس کی قدر ہونی چاہیے لیکن بھائی میرے اگر خطے کے باقی ممالک کو دیکھیں تو یہ ترقی سات آٹھ گنا زیادہ انکے یہاں ہوئی ہے ہم اس مواصلاتی انقلاب سے زیادہ فائدہ نہیں اٹھا سکے جس کا سبب بد انتظامی کے علاوہ کچھ نہیں اور پھر بھائی ہم نے گھر کے جو برتن بھانڈے بیچے ہیں اس حساب کہاں ہے؟ اسی دور میں سستی منڈیوں کی وجہ سے ترکی انڈیا بنگلہ دیش اور نیپال جیسے ملکوں کی کرنسی مضبوط ہوئی ہے اور ان ملکوں کا گروتھ ریٹ سات سات گنا بڑھا ہے ۔ ہم نے معاشرتی طور پر سات آٹھ گنا تیزی سے ترقی معکوس کی ہے۔
    فیصل پراپرٹی کی گرد اب بیٹھتی جارہی اور یہاں بھی حشر انوسٹمنٹ کمپنیوں کی طرح ہورہا ہے۔

  6. رضوان ہماری ترقی ہمارے ماحول ہماری صلاحیتوں‌ اور ہمارے دستیاب وسائل پر منحصر ہے نہ نیپال یا بنگلہ دیش کے۔ ہر ملک کے معاشی مسائل الگ ہوتے ہیں۔ اگر کسی خاص‌‌‌ حالات میں‌ ہمارے پڑوسی ہم سے تیزی سے ترقیی کرتے ہیں‌ تو اس کا مطلب یہ نہیں‌ کہ ہماری معیشت زبوں‌ حال ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے پاس درکار صلاحیت نہیں‌ تھی۔

    برتن بھانڈے بیچنے ضروری تھا کیونکہ وہ نقصان دہ تھے۔ مجھے حیرت ہے کہ کسی کو انفرا اسٹرکچر پر لگا پیسہ نظر نہیں‌ آتا۔ صرف کراچی میں‌ انفرااسٹرکچر کی بہتری پر اربوں‌ روپے خرچ ہوئے ہیں۔ان تعمیرات سے شہر میں‌ پورے ملک سے مزدوروں‌ کی کھیپ آئی ہے۔ ہزار ہا لوگوں‌ کو روزگار ملا ہے۔ ٹیلی کام اور بینکنگ کے ہی شعبوں‌ میں‌ ہزاروں‌ نئی نوکریاں‌ نکلی ہیں۔ فیصل سمجھتے ہیں‌ کہ پیسہ باہر گیا لیکن یہ دیکھیں‌ ان سیکٹرز سے حکومت کی آمدنی میں‌ کس قدر اضافہ ہوا ہے۔ بینکنگ کی ڈیولپمنٹ سے کئی چھوٹے تاجر ٹیکس نیٹ‌ میں‌ آئے ہیں۔ جی ایس ٹی اور انکم ٹیکس کی وصولیوں‌ میں‌ دسیوں‌ گنا اضافہ ہوا ہے۔ یہ معیشت کی مضبوطی کے اشارے نہیں‌ ہیں؟‌

    اسٹاک مارکیٹ میں‌ اب نہ صرف پاکستانی سرمایہ کار ہیں‌ بلکہ کئی بیرونی سرمایہ کار بھی ہیں۔ اگر ملکی معیشت کھوکھلی ہوتی تو فارن انویسٹر کیوں‌ ادھر کا رخ‌ کرتے۔ پاکستان کی بین الاقوامی کریڈبلٹی ریٹنگ میں بھی بہتری ہوئی ہیں۔ گلاس آدھا بھرا ہوا ہے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: