2 تبصرے

لاڈلے کون؟

ہمارے یہاں دیہات میں کہاوت ہے کچھ لوگ پڑھے ہوئے ہوتے ہیں اور کچھ گُڑھے ہوئے ہوتے ہیں۔ انہوں نے کتابوں کی شکل نہیں دیکھی ہوتی لیکن زندگی کے تجربات انہیں کندن بنادیتے ہیں ۔ انسانوں کو دیکھنے پرکھنے کا ان کا اپنا ہی نقطہ نظر ہوتا ہے۔

ایسے ہی لوگوں میں سے ایک چاچا عنایت مسیح ہمارے کنٹرول روم میں صفائی کے لیے آتا تھا۔ فضائیہ سے ریٹائر تھا لیکن بیٹے کی ملازمت کی وجہ سےابھی وہیں رہتا تھا اور روز آٹھ نو کلومیٹر کا سفر سائکل پر طے کر کے کام کرنے کے لیے کورنگی کے صنعتی علاقے میں آتا تھا۔
نیشنل ریفائنری پاکستان کا ایک بڑا ادارہ ہونے کے باوجود اسوقت تک فوجی اثرات سے محفوظ و مامون تھا۔ ایم ڈی سے لیکر عام ورکر تک ایک ہی کینٹین سے کھانا کھاتے اور تندوری روٹی کے لیے ڈانگری پہنے میکینک اور سوٹ میں ملبوس جی ایم دونوں ہی اپنی باری کا انتظار کرتے ۔ “ سر “  کلچر کا پلانٹ پر کوئی کام نہ تھا۔
کنٹرول روم میں تعلیم پر بحث چل رہی تھی بات ہورہی تھی طبقاتی تعلیم  اور والدین کے رویے پر جسمیں ہمارے یونٹ انچارج بھی زور و شور سے دلائل دے رہے تھے، چاچا عنایت وہیں صفائی کر رہے تھے، کسی نے ان سے پوچھا “ چاچا آپ کیوں نہیں پڑھے؟“ چاچا عنایت نے جواب دیا “ میں ماں باپ کا لاڈلا بچہ تھا۔“ پھر اس کے پس منظر میں یہ حکایت سنائی   “ بادشاہ اور وزیر کہیں جا رہے تھے راستے میں ایک مزدور پر نظر پڑی جو بھاری بوجھ اٹھائے جارہا تھا اسے دیکھ کر بادشاہ نے اپنے وزیر سے پوچھا یہ مزدور اتنی مشقت کے ذریعہ اپنی روزی کماتا ہے اس کے مقابلے میں تم لوگ کہیں کم مشقت کرتے ہو اور ٹھاٹھ سے گزرتی ہے یہ کچھ نا انصافی نہیں ہے؟

وزیر نے جواب دیا کہ حضور یہ اپنے والدین کا لاڈلا بچہ تھا۔

 بادشاہ نے حیرانی سے پوچھا “ یہ کیسے لاڈلا ہوسکتا ہے؟ لاڈ تو ہمارے جیسوں کے اٹھائے جاتے ہیں یا لاڈلے تو تم ہو گے بچپن میں۔“

 وزیر نے جواب دیا “بادشاہ سلامت! بچپن میں مدرسے جاتے وقت مجھ سے جلدی جاگا نہیں جاتا تھا، کبھی کھانا بھی تیار نہیں ہوتا تھا لیکن میری ماں مجھے جگا کر اور باسی روٹی کھِلا کر چاہے میں روتا چِلاتا مدرسے ضرور بھیجتی اور میرا کوئی بہانہ کام نہ آتا، اسی کی بدولت میں علم حاصل کر کے اس مقام پر پہنچا ہوں جبکہ اس شخص کو اسکے بچپن میں مدرسے جانے کے لیے جب ماں جگاتی تو کہتا “ ماں! ابھی نیند پوری نہیں ہوئی “ ماں کہتی “ کوئی بات نہیں سوجا میرے لال“ کبھی کھیل کود کیلیے مدرسے سے چھٹی کبھی بیماری کا بہانہ والدین نے اسکی ضد پوری کی اور اسکے لاڈ اٹھائے ماں باپ تو رخصت ہوگئے اب یہ زمانے کے نخرے اٹھا رہا ہے۔

2 comments on “لاڈلے کون؟

  1. سچ ہے، اسی لیے تو گورے اپنے بچوں کو نکال باہر کرتے ہیں‌کہ جاؤ اور جینے کا سلیقہ سیکھو، ہمارے ہاں‌تو یونیوورسٹی سے ماسٹرز مکمل کرنے تک “بچہ”‌پڑھ ‌رہا ہوتا ہے۔

  2. یہ کہاور بالکل سچ ہے اور ہماری تعلیم کے پیچھے بھی ماں کی محنت کارفرما ھے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: