8 تبصرے

حامد میاں

قصہ تو بہت لمبا ہے ربڑ کی طرح کھینچنے سے لمبا ہوجاتا ہے اور چھوڑنے سے جائے ہے سُکڑ
حامد سے پہلی ملاقات حالیہ ملازمت کے انٹرویو کے دوران ہوئی کہ وہ میرے ایک کولیگ ثاقب کا پرانا ساتھی تھا پہلا تاثر بھولا بھالا کیوٹ سا نوجوان جو اٹھلا اٹھلا کر باتیں کرتا ہو۔ ثاقب کا پرانا ساتھی تھا اس وجہ سے وہ اس سے ابے تبے کر کے ڈانٹ ڈپٹ کر کے بات کرتا تھا میں اور گیلانی پہلی ملاقات کی وجہ سے احترام دے رہے تھے اور حامد، بھائی جان بھائی جان کا ورد کر رہا تھا۔   کھانا ہم چاروں نے بلوچ کالونی کے ایک ریسٹورینٹ میں آکر کھایا اور ثاقب سے زندگی میں پہلی دفعہ بِل دلوایا۔ انٹرویو ہوگیا اس کے بعد کمپنی میں حامد کا فون آتا تو وہ ثاقب کا پوچھتا اور میری آواز پہچان کر شروع ہو جاتا، جانے کیا وجہ ہے کہ فون پر مجھ سے لمبی چوڑی بات نہیں ہوتی اور میں جان چھڑانے کی کوشش کرتا ہوں۔ حامد مجھے باتونی بلکہ جھَکی لگا جو چھوٹی چھوٹی باتوں کو قنوطی انداز میں ہمیشہ منفی ہی لیتا۔ تسلی دلاسے پر یہ بظاہر میری بات مان لیتا لیکن صاف طور پر اس طرح جیسے اسے یقین نہیں ہے بس آپ کی بات رکھ رہا ہے۔
ہوا کچھ یوں کہ دس پندرہ لوگوں کا ویزہ اور ٹکٹ نہیں آیا باقی ٢٠ ، ٢٥ افراد کی روانگی کی تاریخ طے ہوگئی۔ مجھے بھی یہ بتایا گیا تھا کہ مجھے پہلے بیج کے ساتھ جانا ہے اسی حوالے سے میں استعفٰی دے چکا تھا کہ عین وقت پر پتا چلا کہ صاحب آپ ابھی نہیں جارہے ۔ پہلے تو مجھے کائنات گھومتی دکھائی دی لیکن میرا قطر میں رابطہ تھا اسوجہ سے زیادہ مسئلہ نہیں ہوا ۔ وہ میرا شاید آخری روز تھا پاکستان کی جاب کا کہ حامد کا فون آیا اسے ساری صورتحال بتائی تو گویا ہوئے آپ نے بڑی بیوقوفی کی بھلا پاکستان میں کوئی ری زائن کرتا ہے اور ساتھ ہی بتایا کہ بس اتنے ہی لوگ اُنہیں چاہیے تھے جو لے لیے ہیں اور قصہ ختم سمجھیں۔ آخر ایک ماہ بعد دوبارہ دوبئی ایرپورٹ پر اکھٹے ہو گئے کہ انکی فلائٹ لاہور سے دوبئی اور پھر دوہا تھی اور اپنی کراچی دوبئی دوہا۔ ان لوگوں میں ایک میں ہی تھا جو اسی کمپنی میں ڈھائی سال بعد دوبارہ جا رہا تھا اسی لیے تمام پروسس اور لوگوں سے جان پہچان تھی اس لیے جہاں تک ہوسکی تمام لوگوں کی مدد کی
دوحہ پہنچ کر ہم سات آٹھ پاکستانیوں کا ایک گروپ بن گیا اور وقت اچھا گزرنے لگا ایک دوسرے سے واقفیت ہوئی پتا چلا کہ بھائی حامد کا تازہ بتازہ نکاح ہوچکا ہے لیکن اب بھائی صاحب کچھ خوش نہیں ہیں فون اور نٹ پر بھی بجائے پیار محبت کی بات کرنے کے ڈانٹ ڈپٹ اور آخری وارننگیں دے رہے ہوتے ہیں۔ آگے عید تھی اور ہم سب اکھٹے واپس آرہے تھے خریداری اکٹھی ہوتی انہوں نے چاکلیٹس خریدیں اور ساتھ ہی ایک سونے کا لاکٹ بھی باتوں سے پتا چلا کہ صرف بہن کے لیے ہے تو سمجھا بجھا کر ایک اور سیٹ اور اُسکی پسند کی چاکلیٹس خریدوائی گئیں پھر صاحب یہ شروع ہوگئے کہ بس وہ تو مجھے چپک ہی جاتی ہیں اور مجھے پسند نہیں اور یوں اور ووں۔ مجھ سمیت کچھ اور سینئر دوستوں نے کہا بھی کہ بھئی تمہاری بیوی ہے منکوحہ ہے اس کا حق ہے بلکہ اس دفعہ تو عید ہے اور رسم بھی ہے موقع بھی ہے اس لیے کاروائی ڈال دو جواب ملا نہیں بھئی نہیں توبہ کرو۔  (ایک تو حامد کی ہر بات نہیں سے شروع ہوتی ہے۔ کھانا کھاؤ گے؟ نہیں ابھی کھاتا ہوں۔ حامد والک پر چلو گے۔ نو پرابلم ۔ ریحان اس کے قریب تر تھا اُس نے پوچھا “حامد جب قاضی نے تجھ سے نکاح کے وقت پوچھا کہ قبول ہے تو تونے کیا جواب دیا؟ حامد نے کہا میں نے کہا نو پرابلم تو قاضی کہنے لگا کہ ہاں یا نہیں میں جواب دو نو پرابلم سے کام نہیں چلتا۔)  
ایک ماہ پاکستان میں گزارنے کے بعد واپسی ہوئی تو چوپال میں حامد صاحب سب سے کہہ رہے ہوں کہ بس میں نے فیصلہ کر لیا ہے ۔ کیوں بھئی کیا ہوا ابھی تم نے دیکھا ہی کیا ہے؟ اور بقول خود تمہارے لڑکی میں کوئی خرابی نہیں اس لیے ایسی باتیں نہیں کرتے۔ نہیں بس ابھی تو وقت ہے بعد میں زیادہ مسئلہ ہو جائے گا۔
ہم لوگوں نے ڈانٹا پھٹکارا بھی لیکن صاحب وہاں تو ایک ہی بات تھی۔ اس سے پوچھا کہ اتنا بڑا قدم اگر تمہارے خاندان میں کسی کے ساتھ ہوتا تو؟
کچھ نہیں ہوتا ایسا تو ہوجاتا ہے(پتا یہ چلا کہ صاحب کی جہاں پہلے لائن تھی وہ بھی فارغ ہوکر گھر آچکی ہیں) اور انہیں دُکھ ٥٠ہزار حق مہر اور نکاح پر ہونے والے خرچے کا تھا۔
خیر فون پر ان صاحب نے کچھ ایسی ویسی بات کی اور جب ایک ماہ بعد لاہور آئے تو دوسرے دن لڑکی والوں کی طرف سے لفافہ آگیا
گھوڑے نے پہلے پھونک ماردی۔
حامد کی بہن اور والد جب اُسکے سسرال گئے تو انہوں نے سارا کچا چٹھا کھول دیا کہ ابھی رخصتی بھی نہیں ہوئی اور حامد ہماری بیٹی کو طلاق کی دھمکیاں دے رہا ہے وہ بھی اس بات پر کہ فون کیوں بند ہے؟ صرف ہاں ہوں میں کیوں جواب دے رہی ہو؟ اتنے لمبے SMS کا جواب صرف OK میں اور ساتھ ہی آخر کی جو فون کالیں تھیں وہ اس لڑکی نے لاؤڈ اسپیکر پر سب گھر والوں کو سنادیں تھیں جنہیں سن کر حامد کے سابقہ سسر نے کہا کہ آپ کا بچہ نفسیاتی معالج کے پاس جانا چاھیے۔  ساتھ ہی حامد کو فون کر کے بتا دیا کہ میاں تمہاری لاٹری نکلی تھی کہ میری بچی کے نام اتنی جائداد اور فیکٹریاں ہیں اور تم اس قابل نہیں تھے۔
اب جب واپس دوحہ آئے تو حامد نے یہ خبر سنائی ہم سب سے تو جتنا ہوا اتنی لعن طعن کی۔
اب حامد کے ساتھ دوسرا ہاتھ یہ ہوا کہ وہ کزن جو فارغ ہوکر آئیں تھیں وہ کہیں اور سُدھار گئیں اور انکی سابقہ منکوحہ بھی ہفتہ بھر میں ایک اور پیا کے ساتھ ہنی مون پر روانہ ہوگئیں۔
ہمارے نصیب میں آہیں بھرتا اور ہر بات پر افسوس کرتا حامد رہ گیا۔ اب یہ حال ہے کہ فون نہیں ملتا تو کہتا ہے کہ بس پہلے تو ہمارا گھر اجاڑنے کے لیے Low rate voip سستا تھا۔ کوئی بات ہو اب اپنا رونا اور پچھتاوا لیکر بیٹھ جاتا ہے ریحان کہتا ہے اب تجھے گھر کا دُکھ نہیں ہے بلکہ لاٹری ہاتھ سے جانے کا دُکھ ہے۔
گھر والوں کو ایک اور گھر میں رشتہ کے لیے بھیجا ساتھ ہی کہتا تھا کہ دعا کرو یار یہاں بات بن جائے۔ وہ انکے رشتہ دار ہی تھے انہوں نے ہاں کر دی۔ دوسرے ہی دن حامد میاں آہیں بھرتے ہوئے فرمانے لگے “ یار میں پھنس ہی نا جاؤں ۔ مجھے یہ لڑکی اتنی زیادہ تو پسند نہیں تھیِ۔ “ 

ہمیں سمجھ نہیں آرہا کہ آخر یہ بندہ کس قسم کی چیز ہے؟؟؟؟ 

8 comments on “حامد میاں

  1. ان کے سابقہ سسر کو ان کی بیماری کا علم ہو گیا تھا۔ یہ واقعی نفسیاتی مریض لگتے ہیں۔

  2. صاحب کو فیکڑیاں جائیداد ہاتھ سے جانے کا غم ہے۔ نامرد ہمیشہ نامرد ہی رہتے ہیں۔

  3. آپ دونوں بالکل صحیح کہہ رہے ہیں
    شدید ڈپریشن کا شکار ہے اسوقت صرف یہ سوچ سوچ کر کہ ہائے کروڑوں کا نقصان ہوگیا اور بچی بھی اچھی بھلی بچی تھی۔
    ریحان کا کہنا ہے کہ یار انکا تو کچھ دیا لیا کام آگیا ہم نے کونسا گناہ کیا تھا کہ ہر وقت کا رونا ہم ہی سنتے رہیں۔

    بوچھی شکریہ آپ کے آنے کا لیکن آپکی مسکراہٹ بتاتی ہے کہ آپ حامد کیساتھ ہمدردی رکھتی ہیں 😕

  4. جسٹ ان کیس حق مہر پچاس ہزار لیکن لڑکی کے نام اتنی جائیداد۔ میرا خیال کافی کچھ بتایا نہیں ہے اس نے۔

  5. 😆 جناب مسکرائی تو میں آپکو دیکھکر تھی ، بہت عرصے بعد آپ نظر آئے ہیں اسلئے ، دوسرا کچھ لکھنے لگی تھی کل تو لکھ نا سکی کہ آپ کے بلاگ پے اردو لکھنے والا پیڈ نہیں ہے 😕 ابھی ماورہ کے لکھکر کاپی پیسٹ کر رہی ہوں ، 😆
    حامد کونسا میرآ چاچے دا پتر لگدا اے 😕 جسکے ساتھ ہمدردی ہو مجھے ۔
    سچ بات بتاؤں تو میرا دل کیا تھا اسکا سر پھاڑ ڈالوں ، یہ سرسرا سائیکو کیس ہے 😆 اور مجھے بے حد چڑ ہوتی ہے ایسے ذہنی مریضوں سے ۔ سو جو کچھ ہوا بہت اچھا ہوا ان لڑکیوں بچاریوں کی زندگیاں بچ گئیں 😆 یہ اس قابل ہی نا تھآ کہ اسکو ایک بھی ملتی 😛

    ٹھہریں ،، کہیں حامد آپکا بلاگ تو نہیں پڑھتا ناں 😆 میں نے سوچا مزید براُ بھلا کہنے سے پیشتر پوچھ لوں ۔ 😆

  6. بچے کی عمر کیا ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ بچہ ذہنی طور پر ابھی شادی کے لیے تیار ہی نہ ہو ۔۔ اور زبردستی شادی کروائی جا رہی ہو؟

  7. بدتمیز
    حق مہر ایک لاکھ تھا جسمیں سے پچاس ہزار انہوں نے دیے تھے۔ یہ تمام رقم اور تحائف لڑکی والوں نے واپس کردیے۔ لڑکی اکلوتی ہے بھائی امریکہ سیٹل ہیں اور والد کا بزنس ہے جو داماد ہی کو سنبھالنا ہے 🙂 ۔

    بوچھی
    پھر شکریہ مجھے دیکھ کر مسکرانے کا 🙂 ۔
    حامد بلاگ نہیں پڑھتا اور چاچے کا پتر تو نہیں لیکن ہوتا ہے نا کہ ہائے “ نِمانا“ ۔ اور ہاں زندگی تو کسی ایک کی گلے ہی گلے۔ اب جہاں بات چلی ہے وہ بیچاری کیمیکل انجینئر ہے اور دھن جگرا ہے ماں باپ کا، اتنا پڑھا لکھا کر اور پال پوس کر کس کے پلے باندھ دیں گے۔ جی کھول کر برا بھلا کہیں لیکن کتنے سر پھاڑیں گی؟😳 یہاں ہر دوسرا بندہ کسی نا کسی ذہنی خلل میں مبتلا ہے۔
    ماوراء
    بچہ ٢٦ کراس کر چکا ہے۔ ایم بی اے بھی ابھی کیا ہے۔ فوجی فرٹیلائزر سے اپرینٹس شپ کر کے پانچ چھہ سال ملازمت بھی کر چکا ہے لیکن شاید فوجی کا ماحول ہی اسکی جڑوں میں بیٹھ گیا ہے وہاں بھی لوگ اسے ہاتھوں ہاتھ لیتے تھے اور خاطریں کرتے تھے 😀 اور خاندان میں بھی سب لڑکیاں حامد بھائی کے آگے پیچھے گھومتی تھیں اور حامد بھائی کسی کو لفٹ ہی نہیں کراتے تھے۔ سیدھے لفظوں میں یہ کہ “ ہمیشہ چاہا گیا ہے۔ “ اور زبردستی والا کوئی نہیں والدہ فوت ہوچکی ہیں ایک چھوٹا بھائی اور بہن شادی شدہ ہیں والد صاحب اپنی دنیا میں گم ہیں۔ بس خالہ ہی ہیں۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: