4 تبصرے

ہمارے حصے کا لاہور

آخر لاہور نے بھی ہمیں اپنی زیارت کا شرف بخش ہی دیا۔ برسات کا تو کیا ذکر یہ ساتھ ساتھ چلتی رہی اور ہم لوگ موٹر وے پر خراماں خراماں CNG بھرواتے لاہور پہنچ گئے۔ اسلام آباد سے صبح سویرے 12بجے کے نکلے سہ پہر چھ بجے لاہور میں آن وارِد ہوئے۔ راستے کا ذکر نا کروں تو بات ادھوری رہے گی ایک تو ابر آلود موسم اوپر سے ہرا بھرا حد نظر تک ہموار لینڈ اسکیپ کلرکہار اور سالٹ رینج سے نکلتے ہی نام کو بھی کہیں ٹیلہ یا پہاڑی دکھائی نہیں دیتی گویا پوٹھوہار کے پہاڑی علاقوں کے بعد کسی نے سہاگہ پھیر کر میلوں وسیع میدان کو ہموار کردیا ہو۔ اسلام آباد سے نکل کر پہلا اسٹاپ بھیرہ میں کیا تاکہ گیس ڈلوائی جائے اور بھیرہ سے قریبًا ١٠٠ کلومیٹر آگے حافظ آباد کے نواح میں سکھیکی میں دوسرا اسٹاپ گیس اور چائے کے لیے۔ حافظ آباد اور گردونواح کا علاقہ چاول کی پیداوار کے لیے مشہور ہے۔ یہاں جب گاڑی سے اترے تو سارے میں دھان(مُنجی) کی ایک مسحورکُن خوشبو پھیلی ہوئی تھی۔ شہروں کی اپنی خوشبو اور بد بو ہوتی ہے لیکن مضافات میں فطرت موسم کے حساب سے رنگ و بو بکھیرتی ہے فصلِ گل ہو یا خزاں ہر ایک کی اپنی انفرادیت ہوتی ہے۔
لاہور پہنچ کر وہی شور و غوغا وہی ٹریفک جام ۔ ہمیں ایک جاننے والوں کے یہاں رضوان گارڈن جانا تھا اس لیے نہر والی سڑک جس پر کافی سارے پُل بھی تھے مگر کوئی ہمارا منتظر نہ تھا اسی سڑک پر ہولیے بارش برس کر تھم چکی تھی انڈر پاس خلاف توقع پانی سے خالی تھے ٹھوکر نیاز بیگ (شاید ) سے جلو پارک کی طرف جاتے چلے جائیں بغیر کہیں مڑے یہ ہمیں بتایا گیا تھا اور بالکل درست بتایا تھا یہاں تک کہ ہم رضوان گارڈن کے گیٹ پر پہنچ گئے۔ میزبانوں تک پہنچ کر اپنا تعارف کروایا کہ ہماری پہلی بالمشافہ ملاقات تھی۔  چائے پینےکے بعد ان سے واہگہ بارڈر والی تقریب تک رہنمائی لی لیکر وہاں جاکر پتہ چلا کہ جناب سات بجے آپ کو یہاں پہنچ جانا چاہیے پردیسیوں کا خیال کیے بغیر گیٹ کلوزنگ سرمنی ختم ہوچکی تھی ہم لوگ ٹھنڈے ٹھنڈے واپس آکر کھانا کھانے آ بیٹھے۔
دوسرےدن ١٠ بجے گھر سے نکلے اور راستے ہی میں ہمیں بارش نے آلیا اس لیے بجائے کھلی جگہ جانے کے ہم نے اپنا رخ میوزیم کی جانب موڑ لیا۔ لاہور میوزیم کا شہرہ خوب سن رکھا تھا مال روڈ پر واقع میوزیم تک جانے کے لیے کسی سے پوچھنے کی ضرورت نہیں پڑی لیکن لوڈشیڈنگ نے یہاں بھی اپنا لوہا منوایا ہوا تھا اور ٹکٹ کاؤنٹر سے پتہ چلا کہ ابھی تو بجلی جانے والی ہے بہتر ہے آپ ایک گھنٹہ بعد آئیں لہذا اتنے وقت میں شاہی قلعہ اور بادشاہی مسجد دیکھنے کے لیے  چل دیے ایک رکشہ میں پانچ سواریاں ٹھونسی گئیں کہ گاڑی میوزیم کی پارکنگ میں اچھی لگ رہی تھی اور راستوں کا بھی علم نہیں تھا۔ شاہی مسجد اور علامہ اقبال کے مزار سے معزرت کی کہ اتنے کم وقت میں انکے تقدس کا خیال نہیں رکھا جاسکتا تھا قلعہ کی طرف آئے تو ایک مولانا صاحب نے رہنمائی کی پیشکش کی گو کہ انہوں نے مناسب معاوضہ بتایا لیکن حسبِ عادت میں نے کچھ بھاؤ تاؤ کیا جسے وہ مان گئے انہوں نے رننگ کمنٹری کے ساتھ ہمیں قلعہ کی سیر کرائی اور مخصوص گائیڈانہ انداز میں تاریخی واقعات کو نمک مرچ لگا کر دلچسپ بنایا۔ ممتاز محل سے تو لگتا تھا جیسے انہیں کوئی سسرالی قسم کا بیر ہو بار بار نو لاکھ روپے صرفے کا رونا روتے تھے۔  
میوزیم سے نکل کر فورٹریس میں جوائے لینڈ گئے اور بچوں نے Discovery کو انجوائے کیا اور ہم دونوں میاں بیوی انہیں دیکھ دیکھ کر خوش ہوتے رہے۔
واپسی پر پیس اور اس کے ارد گرد بنے شاپنگ سنٹرز پر بیگم نے قیمتیں پوچھیں اور ان تمام خواتین کی شان میں قصیدے پڑھے جنہوں نے ان کے سامنے لاہور کے بازاروں کی شانیں بڑھائیں تھیں اور میں نے ہر دو کو دعائیں دیں کہ “ جیب بچی تو لاکھوں بچائے“ (گلبرگ تو کراچی اور پنڈی سے مہنگا ہی ہونا تھا)۔
رات ہوچکی تھی اور فوڈ اسٹریٹ سے بلاوے آرہے تھے۔  پوچھتے پاچھتے گوالمنڈی جا پہنچے اور واقعی ارد گرد کی عمارات کو دیکھ کر دل باغ باغ ہوگیا( دل بھی معدے کیساتھ ہی ہوتا ہے)۔
کھانا کھانے کے بعد فیصلہ یہ ہوا کہ بس بہت ہوگیا لاہور اب واپس چلیں۔ رات بارہ بجے لاہور سے نکلے تو مجھے گاڑی میں گیئر آئل کے کم ہونے کا احساس ہوا بیٹے سے پوچھا تو پتہ چلا کہ ڈگی میں دوسری بوتل تو ہے نہیں شاپس بند ہوچکی تھیں ہائی وے پر امید تھی کہ مل جائے راستے میں دو تین جگہ سے پوچھا تو نہیں ملا PSO کے ایک پٹرول  پمپ کے ساتھ بنی ٹک شاپ پر ATF پڑا نظر آگیا  قیمت پوچھی تو ٢٠٠روپے لیٹر یعنی عام بازار سے دگنی۔ لیول دیکھا تو گیج سوکھی باہر آگئی اچھا ہوا مجھے وقت پر احساس ہوگیا ورنہ کلر کہار کی اونچائیوں پر گاڑی شاید ہی چڑھ پاتی۔
پاکستان میں رات کو سفر کرنے سے میں اجتناب ہی کرتا ہوں مگر اچھے موسم اور موٹروے پر پٹرولنگ کی وجہ سے ہم نے یہی فیصلہ کیا کہ تین ڈرائیور ہیں باری باری چلا لیں گے اور صبح تک گھر پہنچ جائیں گے۔ بھیرہ تک تو میں ڈرائیو کرتا رہا پھر گاڑی عمیر کے حوالے کر کے میں پچھلی سیٹ پر بیٹھا بلکہ بیٹھتے ساتھ ہی سو گیا اور میری آنکھ اس وقت کھلی جب چکری پر بنے ریسٹورینٹس کی پارکنگ میں گاڑی داخل ہورہی تھی۔
صبح چھ بجے خیریت کیساتھ اپنے گھر پہنچ گئے لاہور دیکھ کر
آپ لوگ ویڈیو دیکھیے اور تصاویر کے لیے یہاں کچھ اپ لوڈ کردی ہیں باقی کے لیے انتظار۔۔۔۔۔۔  

Shahi Qilla 1 

Shahi Qilla
Shahi Qilla 3
Shahi Qilla 4
Shahi Qilla 6
 Shahi Qilla 7

4 comments on “ہمارے حصے کا لاہور

  1. آجکل سبھی لاہور کے چکر لگا رہے ہیں۔ خدا خیر کرے۔
    اور یہ ویڈیوز کہہ کر کیوں شرمندہ کر رہے ہیں۔ :p یہ تو ننھے منھے کلپس ہیں۔ ویڈیو بنانی تھی نہ۔ اگر سب کے پیچ میں‌ ہونے کا مسئلہ ہو تو پہلے ویڈیو ایڈیٹ کر لیا کریں۔ ونڈوز مووی میکر سب سے آسان ہے۔ اس میں چھوٹے چھوٹے کلپس بن جاتے ہیں۔ غیر ضروری (پرسنل) کلپس نکال دیتے ہیں۔

  2. ان کو اگر ٹوٹے کہوں گا تو بھائی لوگ شوق کے مارے کلک کریں گے اور پھر مایوسی ہوگی۔
    بڑے کلپس کو اپلوڈ کرنا خاصاصبر آزما کام ہے اس لیے چھوٹے چھوٹے ٹوٹوں سے کام چلائیں۔

  3. عمیر غالباً انگلینڈ تھا؟ پڑھائی مکمل ہو گئی کیا؟

    ویڈیوز اور تصاویر اچھی ہیں۔ :smile

  4. شکریہ ماوراء
    عمیر نے یہیں سے ایم ایس سی کی ہے اور اب جاب شروع کر چکا ہے۔
    انگلینڈ والے کا ابھی ایک سال باقی ہے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: