2 تبصرے

ہم تو مجبورِ وفا ہیں – فیض احمد فیض

 

تجھ کو کتنوں کا لہو چاہیے اے ارضِ وطن
جو ترے عارضِ بے رنگ کو گلنار کریں
کتنی آہوں سے کلیجہ ترا ٹھنڈا ہوگا
کتنے آنسو ترے صحراؤں کو گلزار کریں

تیرے ایوانوں میں پُرزے ہوئے پیماں کتنے
کتنے وعدے جو نہ آسودہ اقرار ہوئے
کتنی آنکھوں کو نظر کھا گئی بد خواہوں کی
خواب کتنے تری شاہ راہوں میں سنگسار ہوئے

بلا کشانِ محبت پہ جو ہوا سو ہُوا
جو مجھ پہ گزری مت اس سے کہو، ہوا سو ہوا
مبادا ہو کوئی ظالم تیرا دامن گیر
لہو کے داغ تو دامن سے دھو، ہوا سو ہوا

ہم تو مجبورِ وفا ہیں مگر اے جانِ جہاں
اپنے عشاق سے ایسے بھی کوئی کرتا ہے
تیری محفل کو خدا رکھے ابد تک قائم
ہم تو مہمان ہیں گھڑی بھر کے ہمارا کیا ہے

2 comments on “ہم تو مجبورِ وفا ہیں – فیض احمد فیض

  1. بہت خوب۔ لیکن ہمیں حالات سے نظریں چرانے کا بھی کافی شوق ہے۔

  2. جی درست فرمایا
    اور یہ بھی تو دیکھیے کہ اسّی(80) کے عشرے میں فیض صاحب کا فرمایا آج کے حالات پر بھی صادق آتا ہے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: