3 تبصرے

شبِ برات یا یومِ نجات

شبِ برات یا یومِ نجات
ہجری حساب سے آج رات شبِ برات ہے اور عیسوی دن 17 اگست جو پہلے بھی ایک دفعہ یومِ نجات ثابت ہوا تھا۔
یہاں بھی معاملات تو اب لبِ بام آچکے ہیں دیکھیں کمند کس کی ٹوٹتی ہے کمر تو بلاشبہ خیبر سے لیکر کراچی تک عوام کی ٹوٹ چکی ہے۔ 
اسی لیے ہمیں بھی آج سارا دِن ایک عجیب سا انتظار رہا۔  دن تو تمام ہوا لیکن خبر ںہیں آئی۔
 ویسے بھی بندہ ڈھیٹ ہو تو خبر جلدی نہیں آتی۔ ڈھٹائی بھی ایک عجب “ وصف “ ہے جس کے لیے کہاوت بھی ہے کہ “ کسی نے نشاندھی کی کہ  پودا اُگ رہا ہے ڈھیٹ نے ارشاد فرمایا اچھا ہے چھاؤں میں بیٹھیں گے۔“
عمر ایوب اور اعجازالحق ان کے بڑے شکر گزار ہیں کیونکہ اِن کی ڈھٹائی دیکھ کر لوگ اب اُن کے آباء کا ذکر نسبتًا اچھے لفظوں میں کرتے ہیں۔ آجکل کالموں میں ایوب کو غیرت مند دکھایا جارہا ہے کہ بس اس کے گھر کے بچوں نے جب ایوب کتا کے نعرے لگائے تو اُس نے اقتدار کو خیرباد کہنے میں ذرا دیر نہیں لگائی۔
یار لوگوں نے تو کل رات کے چاند گرہن کو بھی شگون کے طور پر لیا ہے اور رہے سہے “ ق “ لیگیوں کو رات بھر گرہن لگا چاند دکھا کر پھر سے توبہ تائب ہونے اور پرانی پارٹیاں کی طرف رجوع کرنے کی تلقین کرتے رہے۔  لیکن “ق “ والے لگتا ہے اب پکے سیاہ ست دان ہوگئے ہیں۔ ستر پچھتر فیصد تو حکومتی چھاؤنی میں ڈیرہ ڈال چکے ہیں باقی نے اپنے ذمے “ ہلہ شیری “ کا کام لے لیا ہے۔ آج کی جنگ میں انکی جانب سے ایک مشورہ تھا کہ “ صدام حسین کی مثال سامنے رکھیں وہ عوام میں سخت ناپسند کیے جاتے تھے لیکن بھاگنے کے بجائے پھانسی چڑھ جانے پر وہ عوام میں ہیرو بن کر ابھرے“
“ ق “ والے آمروں کے زیرِ سایہ رہ کر گھاگ سیاہ ست دان بن چکے ہیں اور پاکستانی عوام کی اس نفسیاتی کمزوری کو سمجھ چکے ہیں کہ یہاں سیاہ ست میں کامیابی اسی کو ملتی ہے جس کے پاس جنازہ ہو۔ انہوں نے بھی بڑے صاحب کو آسانی سے ہاتھ سے جانے نہیں دینا ویسے بھی ریٹائر صدر سفید ہاتھی ہی ہوتا ہے۔
 لیکن آپ بتایئے کونسا ہاتھی  قیمتی ہوتا ہے؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
(سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا۔ یقین نا آئے تو وزیرستان سے لیکر کوئٹہ تک قبرستانوں میں بنی پچھلے آٹھ سالوں کی قبریں دیکھ لیں پیشتر میں دفنانے کے لیے میتیں بھی مکمل نہیں تھیں۔ 17 اگست کو جانے والا کلاشنکوف بردار دے گیا یہ والا خودکش بمبار)
 تیری یاد“ آئیگی“ تیرے جانے کے بعد  

 

گزشتہ شب برات کی پوسٹ “ شب برات کی پھُلجھڑیاں“

3 comments on “شبِ برات یا یومِ نجات

  1. کیسے ایک شخص کروڑوں انسانوں کو تباہ کردیتا ہے ۔ اللہ ہمیں ایسا بننے سے محفوظ رکھے ۔

  2. میں نے ابھی دیکھا ، آپ کی بلاگ رول میں میرے بلاگ کا پرانا ایڈریس ہے ۔ پلیز اسے اپ ڈیٹ کر دیجیے ۔
    شکریہ

  3. قدیر صاحب لنک اپڈیٹ کردیا ہے۔
    شکریہ

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: