3 تبصرے

پہلے لڑکیوں کے اسکول نذرِ آتش اور اب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

روزنامہ ڈان میں چھپی یہ خبر؛
دو عورتوں کو بد کرداری کے الزام میں جان سے ماردیا گیا۔
پشاور کے قریبی ضلع چارسدہ میں واقع ایک گاؤں سے چند دن قبل دونوں خواتین کو اغوا کیا گیا تھا۔ بدھ کے روز ان کی لاشیں گُلی گڑھی گاؤں کے قریب سے ملیں جنہیں گولی مار کر ہلاک کیا گیا تھا۔ ان کی لاشوں کے قریب ہی یہ تحریر بھی ملی کہ “ کئی دفعہ وارننگ دینے کے باوجود بدکرداری کا راستہ ترک نہ کرنے پر
 جیشِ اسلامی نے کیفرِ کردار تک پہنچایا۔“
پولیس ابھی تحقیق کررہی ہے۔ پولیس نے کہا کہ خواتین کے رشتہ دار کئی دنوں سے انہین ڈھوڈنڈہ رہے تھے اور ان میں سے ایک کوعثمانزئی گاؤں کی  ٤٠ سالہ صوفیہ کے نام سے شناخت کر لیا گیا ہے جسے اس کے رشتہ دار تین دن سے تلاش کر رہے تھے جبکہ دوسری لاش ٢٢سالہ عورت کی ہے جس کی شناخت نہیں ہوسکی، لیکن لاشوں کے قریب ملنے والی تحریر میں اس کا نام فوزیہ لکھا گیا ہے اس کا تعلق بھی اسی گاؤں سے بتایا جاتا ہے۔ 

روزنامہ ڈان

 
آپ کا کیا خیال ہے کیا یہ درست قدم ہے؟؟؟
کیا اسلام اسطرح کے قتل کی اجازت دیتا ہے؟
کیا اس قسم کے اقدامات سے معاشرہ سُدھرے گا یا انارکی پھیلے گی؟
  

3 comments on “پہلے لڑکیوں کے اسکول نذرِ آتش اور اب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  1. اسلام معاشرہ بنانے کے لیے آیا تھا نہ کے معاشرہ تباہ کرنے کے لیے۔۔ چناچہ اسطرح کے کام دہشت گردی تو کہلا سکتے ہیں‌ اسلام نہیں۔۔ اسطرح ہر اگر فرد اپنے طور پر لوگوں کو سزائیں دینے لگا تو ایک عام فہم انسان بھی سمجھ رکھتا ہے کہ معاشرہ تباہ ہوجائے گا۔

  2. یہ غلط بات ہے بالکل۔
    لیکن حکومت کی کمزوری کا بھی ثبوت ہے اور معاشرتی بے چینی کا بھی۔

  3. […] ۱۔ کیا طالبان مسلمان ہیں؟ ۲۔ پہلے لڑکیوں کے اسکول نذرِ آتش اور اب۔۔۔ […]

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: