تبصرہ کیجیے

یہ کونسا انتقام ہے؟

ڈیرہ اسماعیل خان میں اسپتال کے باہر دھماکہ ٣٠ افراد جان بحق
واہ کینٹ میں دو خود کش دھماکوں میں ستر افراد جان بحق
ان خودکش دھماکوں کی جتنی بھی مزمت کی جائے کم ہے۔
ان  جان بحق ہونے والوں کا بھی تو کوئی منتظر ہوگا۔ ان کے بچے بھی آنکھوں میں سپنے سجائے ان کی راہ دیکھ رہے ہوں گے۔ یہ بھی تو کسی والدین کے بڑھاپے کی لاٹھی ہوں گے۔ کسی سہاگن کا سہاگ اور کسی بہن کا مان ہوں گے۔ روزی کمانے گھروں سے نکلے اور اب کبھی لوٹ نہ سکیں گے اور وہ جو زخمی ہوکر ہسپتالوں میں پڑے ہیں اپنی باقیماندہ زندگی میں سسکتے رہیں گے یہ سب لوگ ایندھن بنے ہیں ایسی انتقام کی آگ کا جو دور کسی نے جلائی تھی اور ہم اسے اپنے گھر تک لے آئے ہیں۔
کوئی کہتا ہے کہ یہ ایمان کی جنگ ہے اور کوئی کہتا ہے یہ پاکستان کی جنگ ہے۔
لیکن یہ جنگ ہے جسمیں نہتی جانیں ضائع ہو رہی ہیں- دیر، سوات ، کرم ایجنسی ، ہنگو، ڈیرہ، پشاور، یا واہ کینٹ خون کس کا بہہ رہا ہے؟؟
ہزاروں لوگ بے گھر ہو رہے ہیں۔ اسی وطن میں گھرتباہ اور پناہ گزین بن کر خیمہ بستیاں آباد ہو رہی ہیں۔
حکومت نے رِٹ کی رَٹ لگائی ہوئی ہے اور مسلح گروہ نظریاتی بلیک میلنگ کر رہے ہیں۔
مجھ سمیت اکثرعام آدمی یہ جانتے ہیں کہ سالوں پہلے کسی نے بیج بویا تھا اس کی خار دار فصل ہم اور ہماری نسلیں کاٹ رہی ہیں۔ 

 

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: