8 تبصرے

جیے زرداری

دنیا بھر کے ملازمت پیشہ افراد کسی اور بات پر متفق ہوں یا نہیں تنخواہ کے متعلق ہمیشہ یک رائے ہوتے ہیں کہ بڑھنی چاہیے۔
پاکستانی بھی چاہے کہیں کام کرتے ہوں اسی جستجو میں ہی رہتے ہیں کہ تنخواہ بڑھتی رہے۔
ہر سال چاہے بجٹ ہوں یا اداروں کے سالانہ اگریمنٹ مزدوروں اور ملازمین کی ایک ہی خواہش ہوتی ہے “تنخواہ میں اضافہ”
مزدور یونین اور دیگر پریشر گروپس دھرنے دیتے ہیں، ہڑتالوں کی دھمکیاں، احتجاج، پہیہ جام،ڈنڈے، قربانیاں، جلاؤ گھیراؤ جانے کیا کیا پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں پھر کہیں جاکر مرادیں بَر آتیں ہیں لیکن یہ سارے اضافے اپنے ملک کے اندر کام کرنے والوں کے لیے ہوتے ہیں۔
پاکستان کی حکومت دنیا بھر میں منفرد مقام رکھتی ہے اسے تارکین وطن کی تکلیفوں کا اندازہ ہے اور مزدوروں خصوصاً خلیج میں کام کرنے والوں کا تو حد سے زیادہ خیال رکھتی ہے۔
سن تیرانوے ٩٤ میں مجھے یاد پڑتا ہے کہ سعودی ریال سات روپے ٣٥ پیسے کا تھا جب پہلی دفعہ سعودیہ آئے تھے۔ ہماری ملک سے نکلنے کی دیر تھی بینظیر نے ہماری تنخواہ آٹھ دس ہزار بڑھادی۔ پھر اپنے نوازشریف آئے یہ تو تھے ہی بیرونِ ملک پاکستانیوں کے مداح انہوں نے جہاں اورسیز پاکستانیوں کے  لیے رہائشی سوسائٹیاں( جنکے پیسے ادا کرنے کے باوجود مالکان ابھی تک اپنے پلاٹوں کی زیارت سے محروم ہیں) اور سبز چینل شروع کیے وہیں جو پاکستانی مزدور گلف میں دس ہزار کماتا تھا اس کی تنخواہ بڑھا کر پندرہ ہزار کردی۔
جرنیلی حکومت نے جہاں ملک کے اندر عوام کو دبائے رکھا وہیں تارکینِ وطن کے ساتھ بھی زیادتی روا رکھی لیکن نہ نا کرتے ہوئے انہوں نے بھی تنخواہ اٹھارہ ہزار روپے تک بڑھا ہی دی۔
اب مزدور دوست حکومت آئی ہے انہوں نے چار پانچ ماہ میں ہی چھلانگیں لگوادیں ہیں آج کل ہزار ریال کمانے والے مزدور کو بائیس ہزار پاکستانی نصف جنکے گیارہ ہزار روپے ہوتے ہیں کی خطیر رقم مل رہی ہے
پھر بھی ناشکرے تارکینِ وطن اٹھتے بیٹھتے زرداری کی برائیاں کرتے ہیں
ہے کوئی دنیا میں ایسی حکومت جو وطن میں بیٹھے لوگوں کو کچھ دے یا نا دے تارکینِ وطن کی اجرتوں میں اضافہ کرتی جائے۔
اسی حساب سے چلتے رہے تو وہ دن دور نہیں جب سارے تارکین کروڑوں روپے میں اجرتیں وصول کریں گے

جیے زرداری
سدا جیے

(چھوڑیں سب اور اسلام آباد کی ان محنت کش خواتین کی تصاویر دیکھیں تبصرہ آپ کا حق ہے۔)

8 comments on “جیے زرداری

  1. بڑا طنز کیتا جے
    روپے دی بے قدری تے
    ایک پنجابی محاورے کے مطابق
    اے روپیه تے ٹگے دا نئیں رھیا ـ
    یه تصاویر تو ساڈی برادری کی لگتی هیں ـ
    اپنا وی یہی حال هونا تھا جی پاکستان میں اگر جاپان همیں انٹری ناں دیتا اٹھاسی میں تو جی ـ
    رب دے شکر توں بعد جاپان دی مہربانی ـ

  2. تارکین وطن کی تنخواہیں‌تو بڑھ مگر دوسری طرف یورو میں‌بیچے گئے بانڈز کی ادائیگی پر اب اربوں روپے زیادہ ادا کرنا پڑیں گے۔
    ویسے آپ کی تحریر پڑھ کر مزہ آگیا۔ خاور صاحب کی بات سے ہم اتفاق کرتے ہیں آپ نے بہت خوب لکھا ہے۔

  3. اتنی تنخواہ بڑھ رہی ہے لیکن نہ جانے کیوں خوف ہی رہتا ہے کہ کہیں انڈا خریدنے کے لیے زمبابوے کی طرح‌بوریوں میں‌پیسے بھر کر نہ لے جانے پڑیں۔۔۔ ایک ڈالر میں ایک ٹرک روپیوں کا دستیاب ہوگا۔

    گزارش ہے تمام تصاویر طالبان کی پہنچ سے دور رکھیں۔۔

  4. ہاہاہا
    آپ نے چھکا تو لگایا ہی ہے راشد نے بھی چھکا لگا دیا ہے :d

  5. کمال انداز میں بات کی ہے آپ نے!
    بہت خوب

  6. رضوان بہت خوب تحریر ہے۔ بس کیا کہیں کہ یہ قوم ہی ناشکری ہے :what

  7. ستمبر کا مہینہ شروع ہونے سے کوئی ہفتہ بھر پہلے ہمارے بلاگ کے اشتہارات کے پیسے موصول ہوئے۔ مصروفیت ایسی رہی کہ میں انہیں جاکر نکلوا نہ سکا۔ اور اس ڈیڑھ ہفتے کے عرصے میں ان کے بدلے ملنے والے روپوں میں ٹھیک ٹھاک اضافہ ہوگیا ہے۔

    اور جیسے آپ نے اوپر خود ہی لکھا ہے کہ جمہوری حکومتوں کے آتے ہی پاکستان میں یہ ڈرامے بازی شروع ہوجاتی ہے۔ ڈالر کی قیمت بڑھنے لگتی ہے اسٹاک مارکیٹ گرنے لگتی ہے مہنگائی اور دہشت گردی کا سیلاب امڈ آتا ہے یہاں تک کہ کوئی جرنیل عوام کی دادرسی کو پہنچتا ہے اور ان کی منتخب پارلیمنٹ کو تاراج کردیتا ہے۔

  8. خاور صاحب پاکستان میں موجود ساتھیوں کو دیکھتے ہیں تو واقعی لگتا ہے کہ جانے ہماری کونسی نیکی کام آگئی ہے ورنہ ہم سے اچھے اچھے گردشِ حالات کی نظر ہیں۔
    افضل صاحب رونا تو اسی بات کا ہے کہ یورو اور ڈالر سے گلچھرے کوئی اور اڑاتا ہے اور بانڈوں کی میچیوریٹی کے وقت آگے کسی اور کو کر دیا جاتا ہے۔
    راشد کامران صاحب آپ کے اندیشے کسی حد تک حقیقت کا روپ دھار چکے ہیں۔ اشیائے ضرورت نایاب ہیں اور اشیائے تعیش کی قیمتیں بظاہر کم ہیں عام آدمی کی قوتِ خرید کم ہونے کی وجہ سے اور بھائی پاکستان میں بس ایک طالبان ہی کی پیداوار وافر ہے جنکی بیرونی منڈیوں میں کوئی کھپت نہیں یا پھر ان کو جو بیچ سکتے تھے وہ ہی لد گئے ہیں۔
    بدتمیز، شعیب صفدر (یاد رہے بدتمیز اور آپ میں ایک کوما کا فاصلہ ہے) :dsadsad:
    اور ابو شامل صاحب پسندیدگی کا شکریہ

    نعمان معاشی اشاریئے پاکستان میں آمریتی دور میں ہمیشہ اوپر گئے ہیں ماسوائے یحیٰی خان کے دور کے اور ضیاء کا دور بھی کچھ اچھا نہیں رہااور جو ترقی نظر آتی ہے اسمیں آمروں کی فہم وفراست سے زیادہ بیرونی طاقتوں کے مفاد کاحصہ ہے۔ دورِایوبی اور دورِ مشرفی دونوں میں پاکستان پر ڈالر والوں کی مہربانی رہی لیکن معاشرے پر ان کے کیا اثرات مرتب ہوئے اور وراثت میں یہ سب آمر ہمیں کِن لیڈروں کا ورثہ دے گئے یہ ہر سوچنے والے پاکستانی کے سامنے ہے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: