تبصرہ کیجیے

برطانوی’بابائےاردو‘ رالف رسل نہ رہے

ایک گورا چٹا معمر شخص مہمانِ خصوصی کی کرسی پر رونق افروز تھا۔ یہ محفل دوہا کے شیرٹن ہوٹل میں عالمی اردو مشاعرے کے نام پر سجائی گئی تھی اس میں کسی انگریز کو مہمانِ خصوصی بنا دیکھ کر ہم نے یہی سوچا کہ کوئی سپانسر شپ کا چکر ہوگا لیکن جب متعارف ہوئے تو اپنے خیالات پر شرمندگی ہوئی۔ سر رالف رسل کے اندازِ تقریر اور عالمانہ موشگافیوں سے اہلِ زبان بھی شرما جائیں۔ دنیا بھر سے اردو کے چیدہ چیدہ نابغے اکٹھے کرنے والے مصیب الرحمان صاحب پہلے ہی چلے گئے اور ان مشاعروں کو لوٹنے والے احمد فراز بھی رخصت ہوئے اور آج بی بی سی نے رالف رسل کے کوچ کی بھی خبر سنادی ہے۔
بی بی سی نے لکھا ہے؛
“ برطانیہ میں بابائے اردو کہلانے والے اردو زبان کے استاد رالف رسل نوے سال کی عمر میں انتقال کرگئے۔ پروفیسر رسل برطانیہ میں اردو زبان سے وابستگی کی وجہ سے جانے جاتے تھے۔
انہوں نے اپنی زندگی اردو زبان میں تحقیق اور درس و تدریس میں گزاری۔ رسل انیس سو اٹھارہ میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے انڈیا اور پاکستان میں کافی وقت گزارا تھا۔

ان کی تصانیف میں ’تھری مغل پوئٹس‘ جو انہوں نے خورشید الاسلام کے ساتھ مِل کر لکھی تھی، ’غالب: لائف اینڈ لیٹرز‘ اور ’اے نیو کورس ان اردو اینڈ سپوکن ہندی‘ شامل ہیں۔ وہ انیس سو انچاس سے انیس سو اکیاسی تک جامعۂ لندن میں اردو زبان کی تعلیم دیتے رہے۔

رالف رسل سولہ سال کی عمر میں کمیونسٹ پارٹی کے رکن بن گئے تھے۔ انہوں نے انیس سو چالیس میں جامعۂ کیمبرج میں تعلیم مکمل کی اور دوسری جنگ عظیم کے شروع ہونے پر فوج میں بھرتی ہو گئے۔ اس دوران انہوں نے ساڑھے تین سال انڈیا میں گزارے۔

رالف رسل نے اپنی ویب سائٹ میں لکھا ہے کہ انہوں نے انڈیا میں فوج کی نوکری کے دوران اردو سیکھی۔ لیکن یہ نوکری کی ضرورت نہیں تھی۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے اردو اس لیے سیکھی کہ وہ ان لوگوں کے کام آ سکیں جن کی خدمت کمیونزم کا مقصد تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ فوج میں رہتے ہوئے ان سپاہیوں میں سیاسی شعور بیدار کرنا چاہتے تھے جنہیں بھرتی ہی اسی لیے کیا گیا کہ وہ ’غیر سیاسی‘ تھے۔

رالف رسل نے ویب سائٹ پر لکھا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کچھ سپاہیوں نے نہ صرف کمیونسٹ پارٹی کے رسالے پڑھنا شروع کر دیے بلکہ چندہ بھی دینے لگے۔ جنگ کے خاتمے کے بعد انہوں نے اردو اور سنسکرت میں ڈگری حاصل کی۔ “

رالف رسل اپنی سائٹ پر اپنی آپ بیتی لکھنے کے بارے میں تحریر کرتے ہیں؛

“Some people think that only famous and important people should write their autobiographies. I’m not famous, except within the small circle of people who study Urdu, and among those of you reading this, there will be some who don’t even know what Urdu is. I’m not important either, in the sense in which ‘important’ goes along with ‘famous’, though I may be important to a small number of people who know me personally. So why am I writing this?

“First, because I think that every human being is important, and that includes me. And second, because anyone who has thought seriously about how they want to live – what they want to live for, if you like – could, and in many cases should, write their autobiography. Whether they do so or not, they are likely to be interested in the experience of others who have lived like that, and can learn things valuable to them through reading about it. So that is why I am writing mine.

“I have recorded all that I regard as significant in my life experience and haven’t regarded anything as too ‘private’ to be written about. My belief, which I don’t expect others to share, is that there ought to be no subject whatever which mature adults should not be able to talk about to each other.”

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: