4 تبصرے

Haunted City

پرسوں دن کو میری پاکستان واپسی ہوئی اور اس رات جب سپر مارکیٹ اسلام آباد پہنچے تو عجیب ہو کا عالم طاری تھا زیادہ تر دکانیں بھی بند ایسا لگا کہ بہت دیر ہوگئی ہے حالانکہ ہم لوگ تراویح کے بعد نکلے تھے اور عید سے قبل یا ماہ رمضان میں تو یہاں ٹریفک جام رہتی ہے آج معاملہ الٹ دکھائی دے رہا تھا اکا دکا گاڑیاں انمیں بھی نیلی بتی والی زیادہ اور لوگوں میں بھی عام لباس میں سیکوریٹی کے لوگ ہاتھوں میں پکڑے ریڈیو کی وجہ سے صاف پہچانے جارہے تھے۔ پاکستان سے جب چھٹیاں گزار کر سعودیہ جایا کرتے تھے تو پہلے دن یونہی کرفیو جیسا سماں محسوس ہوتا تھا کہ کہاں پاکستان میں بندہ سے بندہ چھلتا ہے اور کہاں ینبع اور جدہ میں سنسان گلیاں۔ آج اسلام آباد کی رونق اسی طرح غائب ہوگئی ہے۔
 پہلے اسلام آباد ایسے سنسان  تو عیدین والے دن ہی ہوا کرتا تھا لیکن اب تو گویا رمضان کا آخری عشرہ نہیں بلکہ عاشورہ چل رہا ہے۔ دھشت کی فضاء اب صاف محسوس ہوتی ہے پولیس اور سیکوریٹی والے اس کا  سب سے زیادہ شکار ہیں یہ تناؤ کی کیفیت اگر زیادہ دیر تک جاری رہی تو بھی خطرناک ہے۔
حیرت کا مقام یہ بھی ہے کہ کسی بھی جید یا صفِ اول کے عالم کی جانب سے ان دھماکوں کی اور خود کش حملوں کی اس طرح سے مخالفت نہیں کی جارہی جتنی موثر طریقے سے یہ طبقہ کرسکتا تھا ۔ الدعوۃ والے حافظ محمد سعید صاحب نے یہاں بھی پہل کی اور ان دھماکوں کو اسلام کیلیے فتنہ قرار دیا میں انتظار کر رہا ہوں کہ کب انکے متعلق اعلان ہوتا ہے کہ حافظ محمد سعید امریکی ایجنٹ ہیں اور واجب القتل ہیں۔ یاد رہے کہ نوے کے عشرے میں جب بھارتی طیارہ ہائی جیک کر کے طالبان کے افغانستان لیجایا گیا اور اس کے مسافروں کی رہائی کے بدلے جن لوگوں کو بھارت سے چھڑوایا گیا حافظ محمد سعید انمیں سے ایک ہیں۔
ملک کے طول و عرض میں پھیلے مدرسوں اور ان کے متولیوں سے تو آجکل امید نہیں کیجاسکتی کہ کوئی ایسا ویسا بیان دیکر اس پِیک کے سیزن کو خراب کریں  یہ وقت تو ختم قرآن کی محافل شبینہ سجانے اور صفوں میں چندے کے لیے رومال گھمانے کا ہے سوات، باجوڑ اور اسلام آباد کے چراہ گاؤں کے یتیموں اور بیواؤں کے نوحے کے لیے تو سارا سال پڑا ہے۔ صرف رمضان کے مہینے میں جو صدقات و خیرات بانٹے جاتے ہیں انکی مقدار باقی سارے سال کے مقابلے میں دوگنی تگنی تو ہوتی ہوگی اس لیے اس سیزن کو کون خراب کرے اور جنکی مساجد اور امام بارگاہوں میں فرقہ ورانہ ٹارگٹ کلنگ کے دھشت گرد پناہ لیتے ہوں اور جان کے خوف سے جو انکے خلاف ایک لفظ نہ بولیں انکا کیسا ایمان کا استحکام اور کیسا کلمہ حق؟
 میری تو یہ ذاتی رائے ہے کہ کراچی کے علماء کنونشن میں دھماکے سے بیسیوں “ پائے کے علماء“ جان بحق ہوگئے مگر بعد والوں نے اس حادثے کے ذمہ داروں کے خلاف نہ تو پرزور مہم چلائی نہ حکومت پر زور ڈالا یہ ویسا ہی رویہ ہے جیسے فارمی مرغیاں ڈربے میں قصائی کا ہاتھ دیکھ کر شور مچاتی ہیں اور انمیں کی جب ایک مرغی کو یہ ہاتھ لیکر غائب ہوجاتا ہے تو دڑبے کی باقی مرغیاں شکر کرتی اور خاموش ہوجاتیں ہیں۔
ہمارے یہ علماء سوء  بھی اپنی نک سک اور عجیب و غریب گیٹ اپ کیے صرف اپنی سلامتی کی دعائیں مانگ رہے ہیں۔
یا شاید میں ہی بھٹک گیا ہوں ؟؟؟؟؟؟؟

4 comments on “Haunted City

  1. علماء کو برا کہنا تو نہیں چاہیے لیکن کیا آجکل کے علماء کو بھی؟ یہ کہوں تو پیٹ میں مروڑ اٹھتا رہے گا اسلئے کہہ دیتا ہوں کہ ہماری قوم میں ہمارے سیاستدانوں کے برابر کا خودغرض طبقہ ہمارے علماء حضرات ہی ہیں اور اگر صرف ڈیزل پہ نظر رکھیں تو آپ کہہ سکتے ہیں سیاستدانوں سے زیادہ کمینہ بی۔ ہماری قوم کو صرف تعلیم اور شعور چاہیے باقی سب خود بخود مل جائے گا لیکن ہمارے حکمرانوں اور علماء نے کبھی ایسا ہونے ہی نہیں دیا۔ ایک کے ووٹر کم ہوتے ہیں اور دوسرے کے مرید

  2. Yes – i do agree with you 100 % – What else they did except deceiving people and filling their pockets —- Mimber o masjid kay taqadus ko jitna inhoon nay pamal kiya hai, shayad hi aur koi ker sakay — Misibat to yeh hai ka yeh log ab power corridors tak poohanch chukay hain —

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: