7 تبصرے

قربانی اور قبولیت

ایک غور طلب تجویز مرحوم حکیم محمد سعید سختی کے ساتھ ہمیشہ نصیحت کے طور پر دیا کرتے تھے کہ چونکہ پوری قوم مقروض ہے اس لیے قربانی کے بجائے قرضہ اتارنے کی سعی کرو۔

میرے ایک دوست سختی سے کہا کرتے ہیں کہ قربانی واجب ہے، پھلے فرائض ادا کرلو اور ان فرائض میں یہ بات شامل ہے کہ بھوکوں کا پیٹ بھرو۔ضرورت مند کی حاجت پوری کرو۔ جانور خرید کر قربانی کرنے کے بجائے کسی ضرورت مند کے گھر اس رقم کا راشن ڈلوا دو۔ ایک مہینہ تو سکون سے اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ بھر لے گا ۔یہاں تو ہزاروں کا جانور خرید کر ایک سو روپے کا ٹیکس
ادا کرنا بھاری لگتا ہے۔ یہ کیوں کر نہیں ہو سکتا ہے کہ جو جانور خریدنے کی استطاعت رکھتے ہیں، جانور خریدیں، قربانی کریں اور ساتھ ہی ساتھ اتنی ہی رقم کسی حاجت مند کے حوالے کر دیں۔ دو ثواب ملنے کی توقع بندھ سکے گی اگر قربانی کو قبولیت حاصل ہوگئی۔ قبولیت کا معاملہ تو اوپر والے کا ہے، نیچے والے تو دیکھ کر سوچتے ہیں کہ قربانی کے جانور کا خون نالی میں بہا دیا
جاتا ہے اور گوشت نئے نئے خریدے ہوئے ڈیپ فریزر میں بھر دیا جاتا ہے۔ قربانی بچوں کی خوشنودگی کے لیے اور ڈیپ فریزر کا گوشت گھر والے اور مہمانوں کی خاطر تواضح کے لیے۔اسی لیے تو دانا کہتے ہیں کہ جو اقوام کہتی کچھ ہیں کرتی کچھ ہیں ان کا اپنی حالت بدلنا ناممکن نظر آتا ہے۔

بشکریہ بی بی سی

7 comments on “قربانی اور قبولیت

  1. ہم تو یہاں تک کہتے ہیں کہ جب تک مسلمان مقروض ہیں ہمیں حج بھی نہیں کرنی چاہیے۔

  2. حج اور قربانی ایک طرح سے انفرادی عبادات ہیں اور جسکی استطاعت ہو اس کے لیے حج فرض اور قربانی واجب ہے۔ جہاں تک قرضوں کا تعلق ہے تو نہ تو انفرادی و اجتماعی طور پر ان قرضوں کا مسلمانوں سے کچھ لینا دینا ہے اور نہ ہی وہ ان کی ذات پر خرچ ہوئے ہیں۔ وہ تو حکمرانوں کے اللے تللوں میں‌ اڑائے گئے ہیں اس کو ادا کرنے کے لیے صاحب استطاعت حلال روزی کمانے والے کیوں اپنی قربانی کی قربانی کریں۔ قربانی کرکے اگر جانور کا تمام گوشت غریبوں میں بانٹ دیا جائے تو ایک کے بجائے دس دن کسی غریب کے گھر اچھا کھانا پک سکتا ہے۔ میرا خیال ہے ہم عبادات کے نظام کو مختلف معاشی مسائل میں خلط ملط نہ کریں‌ تو اپنی اساس میں یہ غریبوں کے لیے زیادہ فائدہ مند ہیں

  3. salam,
    App sab ko hum sab ki tarf se bohat Eid Mubarak ho ,
    ghar mein sab ko salam dua kehy ga ,.. :rose

  4. ہمیں اپنی ناک کا زیادہ اور قربانی کا احساس کم ہوتا ہے یہ واقعی ٹھیک بات ہے۔

  5. السلام علیکم رضوان بھائی ، آپ سب فیملی کو عید مبارک !

  6. افضل صاحب جن پر حج فرض ہے اس کی مناہی تو کوئی نہیں کرسکتا لیکن نفلی، سرکاری حج اور دکھاوے کے عمرے کس کھاتے میں ہیں؟ انکو واقعی بند ہونا چاہیے۔
    راشد کامران صاحب انفرادی عبادات کے پیچھے بھی اجتماعی معاشرتی روح ہی ہوتی ہے اور ذرا وسعت نظر سے کام لیں تو جس قدر غربت اور کسمپرسی اسلامی دنیا میں پائی جاتی ہے اس کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کیا یہ سب اسراف اور دکھاوا نہیں ہے۔ رشتہ داروں کو دیکھیے اور پھر چالیس گھروں والے ہمسائے کا خیال رکھیے تو پاکستان میں کون پیٹ بھر کھانا کھا سکتا ہے؟
    شاکر قربانی کے جانوروں کی کیٹ واک دیکھ کر تو اپنی کم مائیگی کا احساس کچھ زیادہ ہی ہوتا ہے۔
    بوچھی بہت بہت شکریہ سب کی طرف سے خیر مبارک اور آپکو باسی عید والے دن تازی عید مبارک
    الف نظامی صاحب بہت بہت شکریہ۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: