5 تبصرے

قرنطینہ

قرنطینہ کا لفظ بچپن میں شاید سید سجادحیدر یلدرم کی کتاب یا مضمون میں پڑھا تھا۔ جسمیں مصنف عراق کی بندرگاہ پر اترتا ہے اور وہاں ڈاکٹر انہیں ١٥ روز کے لیے قید (قرنطائن) کر دیتا ہے کہ پندرہ یوم تک اس کیمپ سے باہر نہیں جاسکتے اس کے بعد طبی معائنہ ہوگا اور شہر میں داخلے کی اجازت ملے گی۔ یہ اس زمانے کی حفاظتی تدابیر تھیں کہ دور دراز ملکوں سے آنے والے مسافروں کو اپنے ملک میں داخلے کی اجازت دینے سے پہلے اس بات کا اطمینان کرلیا جائے کہ مسافر کسی وبائی مرض کا کیریر تو نہیں (سیاحوں کو بیماریاں وہاں سے لیکر آنے اور اپنے خاندان کو اسمیں مبتلا کرنے کی آزادی تھی) اُس وقت یہ بات کچھ سمجھ میں آئی نہیں تھی اسی وجہ سے یہ لفظ ایک پھانس کی طرح سے  ذہن میں اٹکا ہی رہ گیا۔ پھر سعودیہ جانا ہوا تو دیکھا کہ انکے صنعتی علاقے صناعیہ سے متصل قرنطینہ کے نام سے ایک پورا محلہ آباد ہے جہاں کی اکثریتی آبادی کالوں پر مشتمل ہےواضح طور پر یہ آبادی انہی لوگوں کے دم سے وجود میں آئی جنہیں کاغزوں میں کبھی جدہ میں داخلے سے روکا گیا ہوگا پھر کمپیوٹر سے سوجھ بوجھ ہوئی تو انٹی وائرس پروگرام میں بھی یہ لفظ موجود پایا۔
آج کل میں بھی کچھ اسی طرح کی صورتحال کا شکار ہوں تین دن سے چھٹی شروع ہوچکی ہے لیکن گھر واپس نہیں جاسکتا کیونکہ میری سبز کتاب جسمیں صدر پاکستان نے دنیا جہاں سے میری راہداری اور مدد کی اپیل کی ہے وہ کینیڈا کے سفارتخانے میں ویزے کے لیے قرنطائن ہے اور میں خود ہر ٥ منٹ بعد DHL کی ویب سائٹ پر ائیروے بل نمبر ڈال کر ریفریش کرتا رہتا ہوں کہ ادھر وہ ابوظہبی میں ڈی ایچ ایل کو دیں اور ادھر میں ایرٹکٹ کی بکنگ کے لیے دوڑ لگاؤں تاکہ پاسپورٹ لیتے ہی پہلی فلائٹ سے گھر پہنچ جاؤں۔ بیگم اور بچے دعائیں مانگ رہے ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ کافروں پر تو اپنی دعاؤں، گنڈے تعویزوں کا اثر ہی نہیں ہوتا اور آجکل سبز کتاب میں کچھ ایسا جادو ہے کہ اونگھتا ہوا کلرک بابو بھی ٹھپہ لگانے سے پہلے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر الٹ پلٹ کر دس دفعہ دیکھتا ہے۔ اُن گوروں نے بھی پڑوسی ملک والے دو پاسپورٹ کھٹاک سے ویزہ لگا کر واپس کر دیے اور میرے پاسپورٹ کو پال میں لگا دیا ہے۔
جب آفس میں ہوتے ہیں یا گھر والوں کے ساتھ تو بیسیوں چیزیں  یاد آتی ہیں دوستوں سے معذرت کرتے ہیں مِل نہیں پاتے لیکن ایسی صورتحال ہوجائے تو کچھ بن نہیں پاتا۔ ٹی وی ، انٹرنٹ، گھومنا پھرنا سب زہر لگتا ہے، رہ گیا بلاگ لکھنا تو بھائی ذہنی قبض کی صورت میں تو بندہ کیا لکھ سکتا ہے۔ اس وقت تو پھر بھی اچھے کی امید میں اپنے کام کے لیے بیٹھے ہیں سوچتا ہوں کہ یہی بندش خدانخواستہ اور کسی وجہ سے ہوتی تو پھر تو بس وہی حال ہوتا جو ان بیماروں پر گزرتا ہے جنہیں ڈاکٹر مرچی والا سالن منع کردیتا ہے اور اسی دن گھر والوں کو آلوگوشت پکانے کی سوجھتی ہے سارا دن اس بیچارے کو خوشبوؤں سے رجھا رجھا کر شام کو ساگودانے کی کھیر سامنے رکھ دیتے ہیں۔
اور مجھے ایسا کوئی مسئلہ نہیں ہے کپڑے دھلے دُھلائے ملتے ہیں ٹی وی، انٹرنٹ میسر ہے بستر بچھادیا جاتا ہے، کھانا پکا پکایا دیتے ہیں اور پھر بقولِ شاعر
روٹی پر جب بوٹی مِلنے لگے
پھر حوروں کی تمنا کون کرے
(حوریں شانت رہیں ایسی بیتابی بھی اچھی نہیں ہوتی)

5 comments on “قرنطینہ

  1. روداد اچھی لگی۔ آپ سچ کہتے ہیں جب انتظار ہو رہا ہو تو پھر کچھ سوجھتا نہیں اور انتظار بھی گھر جانے کا۔ خدا آپ کی یہ مشکل آسان کرے اور آپ کو بال بچوں سے جلد ملائے تا کہ حور کی تمنا آپ کے دل سے نکل جائے۔

  2. کنیڈا بھی امریکہ جیسا ہو گیا ہے کیا ؟

  3. I think you are talking about quarantine. I wish you could come to Australia to know about that as Aussies are almost crazy about quarantine issues. they can even ask you to throw your shoes at the air port if these have some foreign dust on them :sd:

  4. جناب افضل صاحب آمین
    محترم افتخار اجمل صاحب سبز پاسپورٹ کو تو اب انڈونیشیاء والے قبول نہیں کرتے جبکہ افغانستان کے لیے انڈونیشیاء “ آمد پر ویزا“ دیتے ہیں گویا
    مرے تھے جن کے لیے والی بات ہو گئی
    کینیڈا والے انڈیا کو تین ورکنگ ڈیز میں ویزا لگا دیتے ہیں ہمارے لیے کم از کم دس دن چاہییں۔
    فیصل صاحب اسی طرح کی صورتحال ہے گویا اس ملک میں نظر بند کردیا گیا ہوں۔

  5. […] ” آج کیا پکانا ہے“ پر ہوتی تھی۔ رضوان صاحب کی کہی گئی ذہنی بیماری کا میں بھی متاثر ہوں۔آفس سے واپس آؤ تو بس دو گھنٹے ہوتے […]

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: