5 تبصرے

جنت کے سوداگر

جب ٢٠٠٧ میں سوات کی بات ہوتی تھی تو لگتا تھا کہ بس یہ علاقائی مسئلہ ہے  وہیں پر حل ہوجائے گا۔

ویسے بھی ہمیں دنیا کے بڑے بڑے مسائل پر بھاشن بازی کرنی ہوتی ہے یہ مقامی مسائل دراصل ہماری توجہ منتشر کرنے کے لیے  اچھالے جاتے ہیں۔

اب یہ جن بوتل سے باہر آچکا ہے ہم ابھی تک بیرونی ہاتھ اور یہود و ہنود کی سازش کا راگ الاپ رہے ہیں۔

ابھی تک ہماری رٹ یہی ہے کہ طالبان تو صحیح ہیں لیکن کچھ دھشت گرد انکی صفوں میں گُھسے بیٹھے ہیں اور وہی اس ساری خرابی کی جڑ ہیں۔

صبح شام چینلوں پر مُلا یہی کتھا سناتا ہے کہ اسلام رواداری اور امن و آشتی کا مزہب ہے۔

محلے کی مساجد کے خطبے اور معصوم بچوں کے ذہنوں میں انڈیلا جانے والا درس سُنو تو قلعی کھُلتی ہے کہ امن و آشتی اپنے لیے ہے دوسرے مکتبہ فکر (فرقہ و مزہب تو دور کی بات ہے ) کے لیے صرف بارود ہی بارود ہے۔

ہم جب تاریخ پڑھتے تھے تو حیرت ہوتی تھی کہ کیسے مسلمان لشکر ایک دوسرے کے خلاف صف آراء ہو سکتے ہیں لیکن خارجیوں اور یزید سے شروع کریں تو سب ہی نے اسلام کا جھنڈا سربلند کرتے ہوئے مسلمانوں کے خون کی ندیاں بہائی ہیں خارجیوں کا ایجنڈا بھی نفاذ اسلام تھا اور قلعہ الموت کا حسن بن صباح بھی فدائین کو جنت کی بشارت دیکر بلکہ جنت دِکھا کر اکابرین اسلام کا قتل کرنے خودکش فدائین بھیجا کرتا تھا۔

آج اپنی آنکھوں سے یہ مظالم دیکھ رہے ہیں۔

حیرت اس بات پر ہوتی ہے جب طالبان نے اسرائیل کو دھمکی دی کہ ہم تم سے حساب لیں گے ( کہ کس کا اسکور زیادہ ہے) ۔ آج اگر انکا فساد بالارض نہ ہوتا تو اسلامی دنیا کہاں ہوتی ؟ کیا امن و آشتی کیساتھ ترقی کرتے مسلمان ممالک زیادہ طاقتور نہ ہوتے جبکہ اب اندرونی خلفشار اور عصبیت کی شکار قومیں۔ کیا پھر بھی کسی اسرائیلی کی ہمت پڑتی کہ یوں خونِ مسلم سے ہولی کھیلتا۔ رہ گئی اسرائیل کو دھمکی تو مجھے صدام حسین کی بڑھکیں یاد آگئیں جو کویت پر فوج کشی کے بعد اسرائیل کو دیا کرتا تھا اور سام میزائل سعودیہ پر داغا کرتا تھا۔ ہمارے عام بھولے بھالے مسلمان اُسے ہیرو بنا چکے تھے۔ طالبان بھی للکارتے امریکا اور اسرائیل کو ہیں اور گلے پر چھری مسلمانوں کے پھیرتے ہیں۔

اسی سلسلے کی کڑی اکتوبر ٢٠٠٧ میں لکھا گیا ایک بلاگ۔


سوات سفر میں ہے اور جلد آپکے شہر پہنچنے والا ہے۔

5 comments on “جنت کے سوداگر

  1. اس سلسلہ میں ورسٹ نیشن ڈاٹ کام والے صاحب معلوم نہیں کہ ان کی اصلیت کیا ہے لیکن درست لکھتے ہیں کہ ہمارا ملک پاکستان میں جنت و دوزغ یوں بانٹی جاتی ہے جیسے انکی جاگیر ہو۔

  2. آپ کسے موردِ الزام ٹھہراتے ہیں ؟
    طالبان کو
    یا مُسلمانوں کو
    یا دین اسلام کو ؟
    میں زیادہ پڑھا لکھا نہیں ہوں اسلئے از راہِ کرم واضح جواب دیجئے گا ۔

  3. مجھے افتخار انکل کی طرف سے پوچھے گئے سوالوں کے جواب کا انتظار رہے گا.

  4. عبدالقدوس درست کہتے ہیں انہی کی جاگیر تو ہے باقی دنیا تو اللہ نے تخلیق ہی دوزخ بھرنے کے لیے کی تھی۔
    افتخار اجمل صاحب اور شکاری صاحب میں نے اپنے تاثرات واقعات کے حوالے سے لکھ دیے ہیں یہاں ملزمان کا تعین کرنا تو پھر اپنا فیصلہ تھوپنے والی بات ہے قاری کو خود فیصلہ کرنے دیجیے ۔

  5. ye site bht achi ha muje really ye site bht achi lagi ha,,,,,, Good work

    thanxxxxxxx Admin

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: