1 تبصرہ

آج کا احوال

دو تین ماہ پہلے ایک دوست انعام کو یہیں کی کمپنی میں جاب ملی ہے انہوں نے گاڑی خریدنے کے لیے کہہ رکھا تھا کہ ہماری نظر میں کوئی مناسب سیکنڈ ہینڈ گاڑی ہو تو انہیں ضرور بتائیں بلکہ خرید لیں۔ پرسوں ایک کولیگ کہنے لگے کہ کہ انہوں نے گاڑی بیچنی ہے یہ ٢٠٠٤ ماڈل شیورلیٹ کی Lumina ہے جو عباس اور اس نے ساتھ ساتھ نئی لیں تھیں۔ گاڑی ایک ہاتھ کی چلی ہوئی اور ہمارے سامنے کی ہے ساتھ ہی مالک نے یہ بھی بتادیا تھا کہ پچھلی شافٹ کا بیئرنگ تبدیل ہونا ہے انعام سے بات ہوئی تو انہوں نے عباس اور مجھ پر چھوڑتے  ہوئے گاڑی کے پیسے دینے کی بات کی۔ انعام ہم سے ٥٠ کلومیٹر کے فاصلے پر رہتا ہے کوئی بھی اگلی بات کرنے سے پہلے عباس اور میں اسے گاڑی دکھانے  کے لیے لے گئے۔
ہائی وے پر آتے ہی دو پاکستانی سڑک کیساتھ کسی سواری کے انتظار میں کھڑے دکھائی دیئے۔ یہاں لفٹ دینے سے پہلے ڈرائیور کو کافی کچھ سوچنا پڑتا ہے پہلی تو یہ کہ بندہ کہیں الیگل تو نہیں ہے۔ اسے گاڑی میں بٹھا کر آپ اسکی اسکے سامان کی ذمہ داری لے رہے ہیں اور راستے میں اگر حادثہ پیش آگیا تو تیسری پارٹی کا ہرجانہ تو آپ نے بھرنا ہی بھرنا ہے ساتھ والی سواری کا علاج معالجہ اور قانونی اخراجات بھی ڈرائیور کے ذمہ اور سعودیہ جیسا ملک ہو تو آپ اور لفٹ لینے والے کچھ بھی کہیں پولیس والے نے ٹیکسی چلانے کے جرم میں ڈرائیور کو دھرنا ہی دھرنا ہے۔ ان سب باتوں کے باوجود شلوار قمیض راستے میں دکھائی دے جائے تو دامن کھینچ ہی لیتی ہے۔ دونوں خان صاحب نکلے جو واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ پر کام کرتے تھے پوچھنے پر پشاور پھر کوہاٹ اور آخر کار پاراچنار کے نکلے ابھی سال بھر ہی ہوا تھا انہیں یہاں آئے ہوئے۔ پاراچنار کے حالات کا ذکر ہوا تو انہوں نے دوسری ہی کہانی سُنائی کہ فرنٹیئر فورس کے افسران خود طالبان کو اسلحہ فراہم کرتے ہیں۔ ( اس پر یقین نہیں آسکتا کیونکہ وہاں فوج کا اپنا جو جانی نقصان ہو رہا ہے اس کو سامنے رکھتے ہوئے بے ضمیر سے بے ضمیر شخص بھی ایسا نہیں کرسکتا) دوسرا مینگورہ سوات کی پولیس فورس کے ٦٠٠ سات سو افراد استعفٰی دے چکے ہیں۔
سب سے بڑھ کر یہ کہ پاراچنار سے پشاور دو گھنٹے کی مسافت پر ہے لیکن طالبان کے خوف سے لوگ افغانستان جاکر پھر طورخم کے رستے پشاور آتے ہیں۔
تصور کریں کسی مریض یا ضعیف فرد کے لیے اس سفر کی صعوبت۔ ان سے یہی باتیں کرتے انکی منزل آگئی انہیں اتار کر ہم انعام کے پاس جا پہنچے ۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: