6 تبصرے

مبارک حیدر کو مبارک ہو

سیلِ رواں کی مخالف سمت تیرنے کا حوصلہ کم ہی لوگوں میں ہوتا ہے۔
جب زمانے بھر میں ایک نظریہ ایمان کا درجہ اختیار کر جائے تو کم لوگ ہی اس کی خامیوں پر قلم اٹھاتے ہیں۔ جب دانشوروں کے پاس اپنی قوم کو دینے کے لیے کوئی امید کی کرن نا ہو تو وہ بھی مایوس لوگوں کے ساتھ جانتے بوجھتے ہوئے سرابوں کے پیچھے دوڑتے رہتے ہیں۔ لیکن سچا انقلابی اپنے آدرش سستی شہرت کے عوض بیچا نہیں کرتا اور نہ ہی جزباتیت کے شکار معاشرے کی ہاں میں ہاں ملا کر تمغہ امتیاز کا تمنائی ہوتا ہے۔ اس کی ایک ہی خواہش ہوتی ہے کہ بصیرت و بصارت کو عام کرے سطحی سوچ کے بجائے حالات و اسباب کا گہری نظر سے مطالعہ کیا جائے اور اگر زمانے کے سردو گرم جھیل طکا ہو تو یہ سہ آتشہ والی بات ہوگئی۔
مبارک حیدر بھی کچھ اسی قسم کے انقلابی ہیں اور انکی کتاب “ تہذیبی نرگسیت “ پر بی بی سی کے عارف وقار نے تبصرہ بھی عارفانہ ہی کیا ہے۔
اقتباس کچھ یوں ہیں
‘ مبارک حیدر نے وقت کے اہم ترین مسئلے ۔۔۔ دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے رجحان ۔۔۔ کی طرف خاص توجہ دی اور اس خطرناک سوچ کی طرف اہلِ وطن کی توجہ مبذول کرائی کہ شمالی علاقوں میں چلنے والی تحریک سے چونکہ بین الاقوامی سامراج یعنی امریکہ پر زد پڑ رہی ہے، اس لئے انقلابی اور عوام دوست قوتوں کو فوراً بنیاد پرست مذہبی عناصر کی حمایت میں باہر نکل آنا چاہیے۔
مبارک حیدر کے خیال میں اسطرح کی سوچ ہماری پوری قوم کی تہذیبی نرگسیت کا شاخسانہ ہے، اسی عنوان سے شائع ہونے والی اپنی حالیہ کتاب میں مبارک حیدر اس اصطلاح کا پس منظر بیان کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ قدیم یونان کی دیومالا میں نارسس نام کا ایک خوبصورت ہیرو ہے جو اپنی تعریف سنتے سنتے اتنا خود پسند ہو گیا کہ ہر وقت اپنے آپ میں مست رہنے لگا اور ایک روز پانی میں اپنا عکس دیکھتے دیکھتے خود پر عاشق ہوگیا۔ وہ رات دِن اپنا عکس پانی میں دیکھتا رہتا۔ پیاس سے نڈھال ہونے کے باوجود بھی وہ پانی کو ہاتھ نہ لگاتا کہ پانی کی سطح میں ارتعاش سے کہیں اسکا عکس بکھر نہ جائے۔ چنانچہ وہ اپنے عکس میں گُم بھوکا پیاسا ایک روز جان سے گزر گیا۔۔۔ اور دیوتاؤں نے اسے نرگس کے پھول میں تبدیل کردیا جو آج تک پانی میں اپنا عکس دیکھتا ہے۔“

“ مبارک حیدر نے اس اصطلاح کو ذاتی سطح سے اُٹھا کر اجتماعی سطح پر استعمال کیا ہے اور ہمیں باور کرایا ہے کہ کسی فرد کی طرح کبھی کبھی کوئی پوری قوم اور پوری تہذیب بھی اس بیماری میں مبتلا ہو سکتی ہے اور اسی اجتماعی کیفیت کو وہ تہذیبی نرگسیت کا نام دیتے ہیں۔ مبارک حیدر اپنی کتاب کی ابتداء ہی میں قارئین کے سامنے یہ سوال رکھتے ہیں کہ مسلم معاشروں میں تشدّد کی موجودہ لہر کے خلاف کوئی احتجاج کیوں نہیں کیا جا رہا؟ اور مسلم اُمّہ بالعموم اس تباہ کاری پر خاموش کیوں ہے؟ مبارک حیدر کا جواب یقیناً یہی ہے کہ اس وقت ہم سب قومی سطح پر ایک تہذیبی نرگسیت کا شکار ہیں۔ مصنف کی زیرِ نظر کتاب دراصل اسی اجمال کی تفصیل ہے اور اسی کلیدی اصطلاح کے مضمرات کا احاطہ کرتی ہے۔“

“’تہذیبی نرگسیت کی اساس نفرت پہ ہے اور منفی جذبوں کے اس شجر کا پھل وہ جارحیت ہے جِسے اکسانے کےلئے ایک چھوٹا سا عیّار اور منظم گروہ کئی عشروں سے ہمارے معاشروں میں سر گرمِ عمل ہے۔۔۔ یہ اقلیت کا اکثریت کے خلاف اعلانِ جنگ ہے۔‘
“ ’تہذیبی نرگسیت کا علاج ممکن ہے لیکن اگر ہم نے خود تنقیدی کا راستہ اختیار نہ کیا تو عالمی برادری کو شاید یہ حق حاصل ہوجائے کہ وہ ہمارے یہ ہاتھ باندھ دے جن سے ہم نہ صرف اپنے بدن کو زخمی کرتے ہیں بلکہ نوعِ انسانی پر بھی وار کرتے ہیں۔‘
بشکریہ بی بی سی

6 comments on “مبارک حیدر کو مبارک ہو

  1. مرے خیال میں یه کتاب نیٹو کے مظالم کے خلاف مزاحمت کرنے والوں کو حمایت اسلامی معارے سے کم کرنے کے لیے لکھوائی گئی هے ـ
    امریکی حمایت سے فلسطین میں هونے والے مظالم افغانستان میں طالبان کا قتل عراق میں خون خرابه ،صومالیه میں قتل عام کے بعد بھی اگر لوگ نرگسیت کا شکار هیں
    تو پھر تو واقعی اس بات پر کتاب لکھوا کر نرگسیت کو شکار لوگوں کو بتا دینا چاهیے که جی هم تو اپنی سی کرنے سے باز نهیں آئیں گے
    تم زرا قاتل سے مزحم ناں کروں
    قاتل کے بازو تھک ناں جائیں ـ

  2. خاور صاحب نے یورپ بھی دیکھا ہے اور جاپان بھی ۔ اور اپنی زندگی اپنی عقل اور اپنے زورِ بازو سے بنائی ہے ۔ اسی لئے ان کے خیالات میں پُختگی پائی جاتی ہے ۔

    اب آتے ہیں موضوع کی طرف ۔ میں نے کتاب تو نہیں پڑھی لیکن جو کچھ یہاں تحریر ہے وہ حقیقت سے دُور ہے ۔ فلسطین ۔ عراق ۔ افغانستان وغیرہ کی حالت تو خاور صاحب نے بیان کر دی ۔ پاکستان اور دیگر مسلمان ممالک میں جن کی آواز سُنی جاتی ہے اُن کی بھاری اکثریت ان نام نہاد دہشتگردوں کے خلاف زہر اُگل رہے ہیں ۔

    آج تک کسی بھی مسلمان حکومت نے درست طریقہ سے تحقیق کی ہے کہ اصل ماجرا کیا ہے اور وہ کون سے عناصر یا عوامل ہیں جن کی وجہ سے پاکستان میں دھماکے ہو رہے ہیں اور سوات میں اسکول جل رہے ہیں ؟ اُنہیں تو صرف اپنے آقاؤں کا حُکم مان کر فوجی کاروائی کرنا ہے ۔ جو بم یا گولہ گرتا ہے اُسے کیا معلوم کہ مرنے والے مُجرم ہیں یا بے قصور ۔ کسی نے کہا تھا

    اُسے تو قتل کرنا اور تڑپانا ہی ہی آتا ہے
    گلا کس کا کٹا کیونکر کٹا تلوار کیا جانے

    اب مبارک حیدر صاحب مزید کیا چاہتے ہیں ؟

  3. دراصل ہر کوئی اپنے مفادات کی جنگ لڑ رہا ہے سوائے مسلمان حکمرانوں کے جو غیروں کے مفاد کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ ہم اکثر کہتے ہیں کہ اگر آئرلینڈ کی جنگ مذاکرات سے بند ہو سکتی ہے تو پھر فلسطین، چیچنیا، کشمیر اور افغانستان میں فوجی چڑھائی کی کیا ضرورت ہے۔ لازمی بات ہے ایک ایشو کو زندہ رکھنا ہے تا کہ یورپ کو ایک دشمن میسر رہے۔

  4. پہلی بات تو یہ کہ دہشت گردی کیخلاف نام نہاد جنگ پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں نہیں لڑی جا رہی۔ یہ اگر مصنف نے لکھا ہے تو انکی علمیت کا اندازہ تو یہیں سے ہو جاتا ہے اور اگر تبصرہ نگار نے لکھا ہے تو انکا جغرافیہ بھی بہت ہی کمزور ہے۔
    دوسری بات یہ کہ میرا نہیں خیال کہ مسلماںوں کی اکثریت اس سب کو جو طالبان کر رہے ہیں، پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ سو یہ نرگسیت والا فلسفہ بھی غلط ہے۔ انھیں اس میں کوئی سازش نظر آتی ہے یہ تو ایسا ہی ہوا کہ چور چوری کر کے چور چور کا شار مچا دے کہ لوگوں کا دھیان بٹ جائے۔ اس ریورس کانسپیریسی تھیوری کا بھی کوئی سر پیر نظر نہیں آتا۔

  5. نرگسیت کا مطلب کیا ہوتا ہے؟ :what

  6. خاور صاحب، افتخار اجمل صاحب، افضل صاحب اور فیصل صاحب شکریہ اظہارِ خیال کرنے کا۔
    طالبان کو اور طالبان کے اسلام کوچاہے ہماری اکثریت پسند نا کرتی ہو لیکن انکی مزمت بھی نہیں کرتی، اور جو پسند کرتے ہیں وہ انہیں اپنے گھروں، محلوں اور ملکوں میں کیوں نہیں لے جاتے آخر صرف سوات، ہنگو اورصوبہ سرحد کے عوام ہی کیوں چکی کے دو پاٹوں میں پِس رہے ہیں۔

    بھائی ڈفر نرگسیت کی اصطلاح خود پسندی اور اپنی ذات کی خود پوجا کرنے والوں کے لیے استعمال ہوتی ہے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: