3 تبصرے

نہ اُگلی جائے نہ نگلی جائے

اسوقت ایک عجیب مشکل آ پڑی ہے ڈھیٹ لوگوں کی تو کوئی بات نہیں انہیں تو میں نا مانوں والا عارضہ ہوتا ہے شیر افگن کے لیے بھی کوا آج تک سفید بلکہ چِٹا سفید ہی ہے ۔ بات ہورہی ہے دردِ دل رکھنے والے مسلمانوں کی
کچھ عرصے پہلے تک یہ لوگ کہتے رہے کہ بھئی یہ چند شرپسند ہیں انکی حرکات کو اسلام سے جوڑنا قطعًا درست نہیں پھر یہ ہوا کہ کہا گیا کہ جب آرمی اسکولوں میں مورچے بنائے گی تو انہیں تباہ تو کرنا ہی ہوگا ویسے ہی جیسے ان کے ہاں بچوں کی جوؤں کا علاج ٹنڈ کروانا ہوتا ہے۔
پھر خودکش حملوں کو بھی ڈرون کا جواب ثابت کرنے کی بھونڈی  کوشش ایسی ہی باتیں ہیں جیسے کمہار کا غصہ گدھے پر اور اب یہ وڈیو والا قصہ پہلے دن تو بڑے فخر سے اسے اپنایا گیا کئی ایک نام نہاد عمائدین نے اسے عین شریعت قرار دیا اب جب ساری دنیا سے تھو تھو ہورہی ہے تو کہا جارہا ہے کہ یہ سازش ہے۔
شرم کرو ایک دن پہلے قرآن و حدیث سے حوالے دیتے ہو کہ یہ یہ حدود اللہ ہیں (گویا جو کیا گیا درست ہے) دوسرے دن کہتے ہو کہ یہ وڈیو جعلی ہے یعنی وہ تمام حدود جنکا کل آپ نے حوالہ دیا تھا آپ خود اس سے بھاگ رہے ہو۔
واقعی انمیں خارجیوں والی تمام نشانیاں موجود ہیں جب پِٹنے لگتے ہیں تو قرآن پاک کو نیزوں پر بلند کر کے پناہ مانگتے ہیں اور جب ذرا سی شہہ پاتے ہیں تو بھیڑیوں کی طرح درندگی دکھاتے ہیں۔
اس سترہ سالہ لڑکی کی آہ و بکا اور فریاد ایک دفعہ پھر وہی نتائج دکھائے گی جو محمد بن قاسم کی شکل میں ظاہر ہوئے تھے آج یہ لوگ جنکے نام مسلمانوں جیسے ہیں لیکن بر بریت میں یہ چنگیز خان کو شرماتے ہیں( کیونکہ چنگیز خان  کوئی وڈیو بارہ سالہ بچوں کے ہاتھوں مسلمان فوجیوں اور مسلمان کارندوں کو ذبح کرتے ہوئے دستیاب نہیں بنوائی تھی) یہ سب مزہب کو سامنے رکھتے ہوئے کر رہے ہیں لیکن جو غصہ ان سزاؤں کو دیتے ہوئے انکے چہروں اور حرکات و سکنات سے جھلکتا ہے وہ واضح اعلان کرتا ہے کہ یہ سزا دیتے ہوئے وہ اپنی وحشت کی اور انا کی تسکین کر رہا ہے اللہ کی حدود کا بس پردہ ہے۔ اس وڈیو کے اختتام میں بھی لڑکی کو اندر لیکر جانے کا حکم دیتے ہوئے گالی بھی دی جاتی ہے اس شخص کو جو اس لڑکی کو لیکر جا رہا ہوتا ہے۔
اس وڈیو کی تشہیر کا توڑ بھی چنگیزیوں نے خوب سوچا ہے پے در پہ خود کش حملے کرو تاکہ سارے چینل اسی آہ و بکا میں مصروف رہیں واہ رے خونِ مُسلم کی ارزانی۔

سوات میں طالبانائزیشن کے حوالے سے جہانزیب کا ایک تبصرہ مجھے بہت حسبِ حال لگا” میں‌ تو یہی کہوں‌ گا کہ تمام پاکستانی با عمل مسلمانوں‌ کو سوات منتقل ہو جانا چاہیے تا کہ با برکت شریعت سے براہ راست فیض‌ یاب ہو سکیں، اور وہاں‌ بیٹھ کر بلاگ لکھ کر باقی بے عمل مسلمانوں‌ کی اصلاح‌ کا فریضہ انجام دیں‌ ۔“

اسی سلسلے کی کڑی

3 comments on “نہ اُگلی جائے نہ نگلی جائے

  1. مجھے افسوس میڈیا کے ان نمائندگان پر ہے جو اب عوام کو یہ بتارہے ہیں کہ سوات میں اس سے بھی زیادہ بربریت طالبان برپا کرچکے ہیں اور محض ایک لڑکی کی ویڈیو منظر عام پر لانا این جی اوز کی سازش ہے۔ کاش کوئی ان میزبان حضرات سے سوال کرے کہ اگر آپ اس بربریت کے بارے میں پہلے سے آگاہ تھے تو آپ نے اسے کیوں اجاگر نہیں کیا؟ بارہ سالہ کم سن لڑکوں سے پاکستانی جوانوں کے گلے کٹوانے کی ویڈیو کلپس فلمانا اور عورتوں اور غریبوں پر ظلم توڑنا۔ یہ کون درندے ہیں یہ کیسے ہمارے ملک میں گھس آئے کیا یہ واقعی ہم میں سے ایک ہیں؟ کیا ہم واقعی اس قدر مکروہ ہیں؟

  2. مولویوں کی باتوں اور فتووں سے قطع نظر ۔۔۔ اور اس شورشرابے سے بھی قطع نظر جو اس ویڈیو کے بعد ہو رہا ہے۔۔۔ پچھلے 7 سال میں امریکیوں نے 10 لاکھ سے زیادہ شہری مار دئیے ہیں۔۔ افغانستان، پاکستان اور عراق میں ، ان پر ہمارے لبرل اور ”آزاد خیال“ کیوں نہیں‌ لکھتے اور شور مچاتے جیسا اس ویڈیو پر مچایا جارہا ہے ۔۔
    ہے کوئی جو اس سوال کا بھی جواب دے دے۔۔۔۔
    کدھر گئے انسانی حقوق ۔۔۔۔
    کدھر گیا لبرل ازم۔۔۔۔

  3. محترم صرف اتنا واضح کر دیجئے کہ
    آپ کو اختلاف ان لوگوں سے ہے جن کا پاکستانی طالبان کا نام دیا گیا ہے یا کہ اُن احکامات سے ہے جو قرآن شریف اور حیث میں موجود ہیں ؟
    انسانیت کی علمبردار ثمر من اللہ ۔ اس کے ساتھی اور الطاف حسین لندن والا جو کچھ کہہ رہے ہیں اور کر رہے ہیں وہ سو فیصد درست ہے یا اس میں کسی شک یا اس پر اعتراض کی گنجائش ہے ؟

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: