8 تبصرے

اجوکا تھیٹر

اجوکا تھیٹر آجکل اسلام آباد کے
PNCA آڈیٹوریم میں سپرنگ فیسٹیول یا جشنِ بہاراں کے سلسلے میں ڈرامہ دکھا رہے ہیں ۔ ہمیں پہلے تو خبر ہی نہیں ہوئی پرسوں پتا چلا کہ آج بالا کنگ کے نام سے اسٹیج ڈرامہ دکھایا جائے گا کچھ پتا نہیں تھا کہ کیسے داخلہ ہے کیا ٹکٹ ہے بس یہ معلوم تھا کہ سات بجے ڈرامہ شروع ہوگا اور ہم پورا ٹبر بقول شخصے منہ اٹھائے  پی این سی اے چلے گئے انکا سوال تھا کہ کارڈ ہے ہم نے جواب دیا جی ہاں اور نادرا بیگم کا سبز کارڈ انکی طرف بڑھایا ۔ نہیں  جناب کوئی ریفرنس تو ہوگا؟؟
ہم نے بھولپنے سے جواب دیا کوئی نہیں بس دن میں آپکے دفتر فون کیا تھا انہوں نے ارشاد فرمایا کہ تھیٹر ہے اور ہم چلے آئے۔
ان صاحب نے ہم چاروں کیطرف دیکھا اور ارشاد فرمایا  “ اچھا ٹھیک ہے اندر کوئی پوچھے تو کہیے گا سلطان صاحب کے جاننے والے ہیں۔“
ہم نے احساسِ تشکر سے پوچھا اگر خود سلطان صاحب نے ہی پوچھ لیا تو؟؟
ساتھ کھڑے سیکوریٹی اہلکار نے ہنس کر کہا یہ خود ہی یہاں کے سلطان ہیں۔
اندر کسی نے کیا پوچھنا تھا۔ ڈرامہ شروع تھا اور لاجواب تھا “ بالا کنگ“ ہنسی ہی ہنسی میں ہماری سیاست کی چالبازیوں کو بے نقاب کرتا ہے اور بڑے ہی جاندار انداز میں ناظرین کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔
کل “ بلھا “ تھا اور اس کی شہرت تو بہت سُنی تھی لیکن ہم لوگ (میں میری بیوی اور دونوں بیٹیاں ) جتنے پُرجوش تھے اتنے ہی لیٹ لطیف بھی ہیں اور جب سات بجے پی این سی اے پہنچے تو وہاں ایک جم غفیر موجود تھا اور کوئی اپنے مامے چاچے کے عہدے کی اور کوئی اپنی دُھائی نما دھمکی دے رہا تھا مگر عملہ یہ سمجھا رہا تھا کہ بھائی اندر محدود جگہ ہے لوگ سیڑھیوں پر بھی بیٹھے ہیں آپ کو کہاں بھیجیں۔ تھوڑی دیر میں مدیحہ گوہر بھی آ گئیں اور انہوں نے کہا کہ آنے والے تین دنوں میں ہم یہی ڈرامے دوبارہ دکھائیں گے لوگوں نے ہماری توقع سے اچھا ریسپانس دیا ہے اور آپ لوگ آج تشریف لیجائیے اور کل ضرور آئیے گا۔
آج ہم ساڑھے چھ بجے ہی سے جاکر براجمان ہوگئے اور میرے پاس تعریف کرنے کے الفاظ نہیں ہیں کہ کیا غضب کی پرفارمنس تھی میں نا تو بیان کر سکتا ہوں اور نا ہی اس کا عشرِ عشیر حق  کوئی ریکارڈنگ یا سی ڈی ادا کر سکتی ہے تھیٹر تو تھیٹر ہوتا ہے اور اجوکا والوں نے ڈھائی گھنٹے اپنے طلسم میں اسیر رکھا۔ پھر بلھے شاہ کی کافیاں اور انکی زندگی کی عکاسی جواب نہیں ۔
لگتا تھا واقعی ہم آج سے ڈھائی سو سال پرانے بلھے کے عہد میں پہنچ چکے ہیں پھر صداکاری بے مثال۔
کل یعنی ١٠اپریل جمعہ کو “ ہوٹل موہنجو دارو“ اور ہفتہ کو پھر “ بالا کنگ “ پیش کیا جائے گا۔ کوئی ٹکٹ نہیں ہے اور پی این سی اے کی عمارت میریٹ ہوٹل کے پیچھے ہے جہاں یہ ڈرامے اسٹیج ہوں گے شام ساڑھے چھ بجے پہنچ جائیں لیکن اپنے موبائل فون بند کردیجیے گا ہماری سامنے والی قطار میں ایک خاتون ویڈیو بنانے کی کوشش کر رہی تھیں اور باقی لوگ تو بدمزہ ہو ہی رہے تھے میری بیٹی چاھتی تھی کہ ان سے فون چھین کر اسٹیج پر پھینک دے۔

8 comments on “اجوکا تھیٹر

  1. اجوکا کے بارے میں کافی کچھ کہا جاتا ہے اور واقعی یہ لوگ تھیٹر کی خدمت کر رہے ہیں وگرنہ یار لوگوں نے “غلاظت” کو اسٹیج اور تھیٹر کا نام دے رکھا ہے!

    شکریہ رضوان صاحب!

  2. وعلیکم شکریہ افضل صاحب :ww
    جی آیا نوں وارث بھائی
    جس لگن سے یہ گروپ ان مشکل حالات میں کام کر رہا ہے وہ قابل تعریف ہے پھر معیار اعلٰی درجے کا ہے عاصم بخاری جیسے آرٹسٹ لگے ہوئے ہیں۔

  3. بہت خوب۔
    “بلھا” مکمل ڈرامہ کہیں سے ملے گا؟

  4. اب کبھی ان کا کراچی میں تھیٹر ہوا تو ضرور دیکھنے جاؤنگا۔

  5. “اجوکا تھیٹر” کمال کا تھیٹر ہے یہ لوگ سال میں سات یاآٹھ ڈرامے کرتے ہیں اور بہت اعلٰی ہیں آپ نے یہ تو بتا یا نہیں موبالئل فون ٓف کرنے کا حکم ہوتا ہے اور کم عمر (دودھ پیتے) بچے لے جانے کی اجازت نہیں!
    سنجیدہ تھیٹر ان لوگوں نے زندہ رکھا ہوا ہے! ٹکٹ تو ہے ہی مفت! دعوت نامہ کے طور پر ملتی ہے!

  6. کمال کے ہیں یہ لوگ، ایک بار دیکھنے کا اتفاق ہو تھا جس اب تک بھلایا نہیں جا سکا۔
    آپ کا تعلق مس نادرا سے ہے، کم از کم مجھے تو ابھی معلوم ہوا ہے بہرحال میں نے یہاں ڈی جی خان میں نادرا کیاسک فرنچائز لی ہوئی ہے اس لحاظ سے تھوڑا بہت ہمارا بھی تعلق قائم ہو گیا ۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: