تبصرہ کیجیے

جذبہ کہاں گیا؟

جذبہ کہاں گیا؟
کئی دنوں بعد ایک ٹرک امدادی سامان لوڈ کرواتا نظر آیا وہ بھی ایک جاپانی تنظیم کی طرف سے تھا اور جاپانی صاحب خود کھڑے نگرانی کر رہے تھے۔
2005 کے زلزلے میں ایک اور ہی منظر تھا لوگ باگ گلی گلی محلے محلےامدادی اشیاء اکٹھے کر رہے تھے یا پھر خود رضا کار بنے کیمپوں میں مصروف تھے۔ سڑکوں پر امدادی سامان لے جانے والے ٹرکوں کا تانتا بندھا ہوا تھا۔ حکومت اور فوج کی طرف کوئی نہیں دیکھ رہا تھا
لیکن آج ایسا نہیں ہے کیا ہم بےحس ہوچکے ہیں یا کوئی اور وجہ ہے؟
شاید یہ وجہ ہے کہ پچھلے کئی سال سے مستقل موت کا رقص دیکھ رہے ہیں ،اک ہنگامہ شب و روز بپا ہے‘ پھر زلزلہ تو سب نے بھگتا تھا درودیوار سب کے لرزے تھے اسی لیے کسی کو کچھ زیادہ کہنے کی ضرورت نہیں پڑی لیکن سیلاب جس نے آبادیاں نیست نابود کردیں اسکی مصیبت تو وہی جانے جنکی جان پر گزر رہی ہے۔
وہ بھی رمضان ہی کا مہینہ تھا اب بھی رمضان چل رہا ہے مگر فلاحی تنظیمیں نوجوانوں کو متحرک نہیں کر پا رہی ہیں اور جب تک نوجوانوں کو سامنے نہیں لایا جائے گا امدادی کام آگے نہیں بڑھے گا اور سب سے اہم عنصر کراچی کے حالات!
کراچی سے مسافر چلیں گے تو قافلے خود بخود تشکیل پائیں گے مگر شاید وہی بات ہے کہ
احساس زیاں جاتا رہا

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: