5 تبصرے

وادیِ اردو

جناب راشداشرف صاحب نے میرے کچھ صفحات پر تبصرہ کیا ہے ساتھ ہی اپنا تعارف بھی ارسال کیا تھا۔اس کے ساتھ ایک غمناک خبر بھی تھی کہ ریگل صدر کے فٹ پاتھ پر کتابیں بیچنے والے شمشاد صاحب گزر گئے ہیں۔ اللہ مرحوم کو جنت الفردوس میں جگہ دے عجیب قلندر صفت محنتی مرد تھا۔
راشد اشرف صاحب کے تبصرے کی رسید میں بوجوہ تاخیر ہوگئی انکا دیا گیا ربط جب دیکھا تو ابنِ صفی صاحب کے متعلق ایک خزانہ جمع کیا ہوا ہے نا صرف یہ کہ قدیم مواد بلکہ ابنِ صفی صاحب کے خانوادہ کا حال تک موجود ہے یعنی انکے بچوں (جو خود اب بچوں والے ہیں) کا احوال اور ابنِ صفی کی تصنیفات کا خزینہ انکی سائٹ (وادیِ اردو) کا ربط
جناب راشد اشرف کے نام حالی صاحب کا مصرع تھوڑی سی تصریف کے ساتھ
ہماری باتیں ہی باتیں ہیں راشد کام کرتا ہے

5 comments on “وادیِ اردو

  1. رضوان صاحب کے دلنواز تبصرے پر بیحد شکر گزار ہوں
    وادی اردو چونکہ خالصتا” غیر تجارتی سائٹ ہے، لہذا حوالہ دینے میں مضائقہ نہیں سمجھتا۔ مذکورہ سائٹ پر شامل کام دو سال کی محنت کا نتیجہ ہے اور اس میں میرے ساتھ کوئی اور شریک نہیں۔ لوگوں سے ملنا، انٹرویو کرنا، مضمون کی شکل میں لکھنا، ویڈیو بنانا، یہ سب کام اکیلے کیا جاتا ہے۔ ویڈیو کے ذکر سے یاد آیا کہ یوٹیوب پر کئی ایسے اشخاص کے تاثرات شامل کیے ہیں جو جناب ابن صفی کے پرستار ہیں، ان میں کمال احمد رضوی، جاوید شیخ، شکیل صدیقی، انوار صدیقی (انکا، اقابلا کے مصنف)، عبید اللہ بیگ، شاہد منصورو جان عالم (ابن صفی کے دیرینہ دوست)، وغیرہ شامل ہیں، ان ویڈیوز کا پتہ ہے:

    http://www.youtube.com/user/RashidAshrafzest70pk

    اس کے علاوہ صفی صاحب کو ایک تصویری خراج تحسین یہاں دیکھا جاسکتا ہے:

    خیر اندیش
    راشد اشرف
    کراچی

    راشد

  2. جناب رضوان صاحب!

    مولانا حالی کا مصرع مجھ حقیر کے لیے، کہاں میں اور کہاں یہ مقام — اس کے لیے آپ کا علاحدہ سے شکرگزار ہوں

    خیر اندیش
    راشد اشرف
    کراچی

  3. بہت عرصہ گزرا کہ آپ سے کوئی رابطہ نہ ہوا، کتابوں کے اتوار بازار تواتر کے ساتھ جاناہورہا ہے۔ اپنا ایک مضمون آپ کے ذوق مطالعہ کی نذر کرتا ہوں:

    ایک مہربان کی یاد میں

    خیر اندیش
    راشد اشرف
    کراچی سے

    کہنے والے نے کہا تھا کہ اس بزم ہستی سے کچھ ایسی ہستیاں بھی اٹھ جائیں گی کہ جب زمانہ ان کی تلاش میں نکلے گا تو ڈھونڈتا رہ جائے گا۔ یہ ہستیاں جنہیں شاعر حاصل زیست قرار دیتا ہے ، جب زمین سے اٹھ جاتیں ہیں تو حساس دل رکھنے والے غم و الم کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈوب جاتے ہیں اور پھر تمام عمر قدم قدم پر انہیں یاد کیا جاتا ہے ۔ اکثر یہ اخباری ترکیب پڑھنے و سننے کو ملتی ہے کہ فلاں کے چلے جانے سے ایک خلا پیدا ہوگیا ہے جو اب کبھی ُپر نہیں ہوگا۔ ہر کس و ناکس کے بارے میں یہ جملہ سنتے سنتے اب اکتاہٹ سی ہو چلی ہے۔ ہما شما کے بارے میں اس کے بے دھڑک و بے جا استعمال نے اس جملے کی معنویت کو بری طرح تاراج کردیا ہے ۔ یاروں نے تنگ آکر کہا کہ کسی کے مرنے پر جو خلا پیدا ہوتا ہے وہ محض چند گھنٹوں پر محیط ہوتا ہے اور جو خود مرنے والے کے مردہ جسم سے ُپر ہوجاتا ہے ۔۔۔ رہے نام اللہ کا۔۔۔۔۔۔۔

    ہاں مگر یہ بھی سچ ہے چند شخصیات کے بارے میں اس ترکیب کا استعمال اس طرح موزوں نظر آتاہے کہ گویا یہ جملہ ان ہی کے لیے تخلیق کیا گیا ہو۔ ایسے افراد کا نعم البدل ملنا اگر ناممکن نہیں تو بہت مشکل ہوتا ہے ۔ ایسی ہی نادر روزگار شخصیات میں سے ایک شخصیت جناب سیلم اختر مرحوم کی ہے ۔ہماری کمپنی کے ساتھ آپ کی رفاقت لگ بھگ سترہ برس پر محیط رہی۔ ان سے میری پہلی ملاقات اس وقت ہوئی جب وہ مظفر گڑھ تشریف لائے تھے جہاں میں بسلسلہ ملازمت تعینات تھا۔اس ملاقات کو انہوں نے یاد رکھا اور جب میں سن ۲۰۰۳ میں مظفر گڑھ سے کراچی منتقل ہوا تو دفتر کے کمرے میں استقبال کرنے والے سیلم اختر ہی تھے۔

    مظفر گڑھ میں قیام کے دوران میرے پاس ٹیوٹا کرولا گاڑی تھی جسے میں بہترین حالت میں رکھتا تھا۔ پہلی ملاقات میں انہیں وہ گاڑی بہت پسند آئی۔ میں اس کی خوبیاں بیان کرتے وقت گاڑی پر فدا ہوجارہا تھا۔ کچھ دیر تک وہ سنتے رہے پھر کہا:
    “جتنے پیار سے آپ اس گاڑی کو دیکھ رہے ہیں، اتنے پیار سے کسی خاتون کو دیکھا ہوتا تو اب تک شادی ہوگئی ہوتی”
    ” جی کس کی ? اس خاتون کی ? ” میرا سوال تھا

    وہ ذاتی طور پر ایک انتہائی ہمدردانہ طبیعت رکھنے والے انسان تھے۔ میں نے کئی افراد کو ان سے اپنا دکھ بیان کرکے اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرتے دیکھا اور اس دوران ان کا انہماک دیدنی ہوتا تھا۔وہ نہ صرف کثیر الجہت شخصیت تھے بلکہ شاعر مزاج اور شاعر شناس بھی تھے۔ بہت کم لوگ یہ بات جانتے تھے کہ جوش ملیح آبادی نے اپنی کتاب یادوں کی بارات کے اواخر میں جن اختر علی خان کا ذکر کیا ہے وہ سیلم اختر کے بڑے بھائی تھے ۔جوش اکثر ان کے گھر واقع ایبٹ آباد میں ٹھہرا کرتے تھے۔ سیلم اختر کی ملاقات وہاں کئی نابغہ روزگار حضرات سے تواتر کے ساتھ ہوا کرتی تھی جن میں استاد امانت علی خان، جوش ملیح آبادی و دیگر نامور شعرا حضرات شامل ہیں۔ سیلم اختر نے ایک ہنگامہ خیز زندگی بسر کی۔ ملازمت کا آغاز نیشنل کنسٹرکشن (این سی) سے کیا،نیشنل ریفائنری میں رہے، اردن میں عرصہ ۵ برس مقیم رہے اور پھر سن ۱۹۸۹ میں آئل اینڈ گیس سیکٹرمیں ملازمت اختیار کی۔اپنی زندگی میں پیش آنے والے کئی دلچسپ واقعات وہ اس طرح سے سناتے تھے کہ سماں باندھ دیتے تھے اور یہی وجہ تھی کہ ان کے سامعین ہر دم اس بات کے متمنی رہتے تھے کہ سیلم اختر کوئی اچھوتی بات بیان کریں گے۔ ان کی شخصیت میں ایک نمایاں چیز ان کی آواز تھی، گہری گرجدار آواز میں جب وہ کلام کرتے تو سننے والے کی توجہ خودبخود ان کی جانب مبذول ہوجایا کرتی تھی ۔ احباب اکثر ان کو کہا کرتے تھے کہ سلیم صاحب، آپ کی آواز تو ریڈیو کی آواز ہے۔ ایک روز مجھ سے کہنے لگے کہ بھئی رات ٹی وی پر محمد رفیع کا وہ گانا آرہا تھا ۔ ۔ ” ہم بے خودی میں تم کو پکارے چلے گئے”
    میں اتفاق سے اس وقت اس گانے سے ناواقف تھا، حیران ہوا، اور کہا کہ ذرا تھوڑا سا گا کر سنائیے تو۔ اور پھر یہ ہوا کہ رفیع صاحب کی آواز میں یہ گانا بعد میں سنا، سلیم صاحب کی آواز میں پہلے سنا۔

    سیلم صاحب کو بلامبالغہ ہزاروں اشعار زبانی یاد تھے ۔ کھانے کے وقفے کے دوران وہ اکثر اپنے مخصوص انداز میں کوئی اچھا ساشعر سنادیتے ۔ ایسا ہی ایک روز مجھے یاد ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ اشعار تو وہ اکثر سنایا کرتے تھے لیکن اس روز انہوں نے بتایا کہ گزشتہ شب وہ اپنے ایک ایسے عزیز سے مل کر آئے تھے جنہوں نے ایک بھرپور زندگی گزاری اور پھر کسی ذہنی عارضے میں مبتلا ہوگئے تھے، ان کے اہل خانہ ان کو بچوں کی مانند سنبھال رہے تھے، سیلم صاحب پر اس منظر کا بہت اثر ہوا تھا اور وہ مجھے داغ دہلوی کا ایک شعر سنانے لگے۔

    ہوش و حواس و تاب و تواں داغ جاچکے
    اب ہم بھی جانے والے ہیں، سامان تو گیا

    یہ کہہ کر سیلم صاحب نے تاسف سے اپنا سرہلایا ، پھر کہا کہ آپ دیکھیے کہ اس عمر میں انسا ن مانند طفل ہوجاتا ہے، تاب وتواں جاتے رہتے ہیں ۔۔۔ انسان اپنے جن بچوں کی پرورش اوائل عمری سے کرتا ہے اور جس طرح کرتا ہے، اکثر وہی بچے اسی نوعیت کی دیکھ بھال اپنے بوڑھے والدین کی کرتے نظر آتے ہیں۔ یہ کہہ کر انہوں نے ایک اور شعر پڑھا

    اول شب وہ بزم کی رونق، شمع بھی تھی پروانہ بھی
    رات کے آخر ہوتے ہوتے، ختم تھا ٰ ٰ یہ افسانہ بھی

    وہ بیان کررہے تھے اور میں ان کی طرف غور سے دیکھ رہا تھا۔۔۔’ ختم تھا ٰ ٰ یہ افسانہ بھی‘ ۔ انہوں نے ایک عجب یاسیت کے انداز میں اپنی زبان سے دو مرتبہ ادا کیا اور یہ کہتے وقت ان کا سر ایک جانب ہلکا سا ڈھلک گیاتھا۔

    بس ’اللہ کسی کا محتاج نہ کرے‘ ، یہ وہ اکثر مجھ سے کہتے تھے۔

    دفتر کے اس کمرے میں کیا کیا نہ محفلیں بپا ہوئیں۔ ہم دونوں کو ایک دوسرے کی عادت سی ہوگئی تھی۔ ایک روز وہ کہنے لگے:
    “”بھئی وہ آپ کے والد کی تین نصحیتیں خوب تھیں، میں نے یہ بات کئی لوگوں کو بتائی ہے”
    وہ ایسے ہی تھے، کوئی بات پسند آتی تو ذہن نشین کرلیتے اور پھر کچھ عرصے بعد اس کا حوالہ دیتے تھے۔
    میرے والد مرحوم ایک بینکار تھے۔ انہوں نے مجھے ایک مرتبہ نصیحت کی تھی کہ دیکھو! زندگی میں تین کاموں سے بچنا، کبھی کسی کی ضمانت مت دینا، بینک سے کبھی قرضہ مت لینا اور کبھی کوئی کاغذ پڑھے اس پر دستخط مت کرنا
    ایسی ہی اپنی کہی ہوئی ایک بات مجھے یاد آتی ہے (بات کی تلخی کے لیے پیشگی معذرت خواہ ہوں) جسے سن کر ان کا بے ساختہ رد عمل مجھے آج بھی یاد ہے۔ اس روز موضوع گفتگو تھا بڑھتی ہوئی مہنگائی اور پسے ہوئے غریب طبقے پر اس کے بھیانک اثرات۔
    میں اپنیے موقف کے اختتام پر کہہ رہا تھا کہ سلیم صاحب! دیکھئے یہ ظلم نہیں تو اور کیا ہے کہ جب ہم مزدور کو تعلیم نہیں دے سکے، اس کے بچوں کو علاج کی سہولتیں فراہم نہیں کرسکے، جب ہم اسے پینے کا صاف پانی اور اسے اس کی محنت کا جائز صلہ نہیں دے سکے تو ہم نے اس کی پیٹھ پر تھپکی دی اور اس کی ڈھارس بندھاتے ہوئے کہا کہ بے فکر رہو! ان تمام صعوبتوں کو جھیلنے کے عوض تمہیں جنت میں حوریں ملیں گی اور محل میں رہنا نصیب ہوگا۔

    خدا جانے غریبوں کی چوری چھپے مدد کرنے والے سلیم اختر صاحب پر اس وقت اس بات کا کیا اثر ہوا کہ وہ آبدیدہ ہو کر چپ ہوگئے۔

    اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد بھی وہ مہینے میں ایک مرتبہ ضرور ہمارے دفتر آیا کرتے تھے اور کبھی میرے کے پاس آنا نہ بھولتے ۔ ایسی ایک آخر آخر کی ملاقات میں انہوں نے ہمیں یہ بتا کر حیران کردیا کہ ایک روز قبل جب وہ رات کے وقت شہر کی مرکزی شاہراہ سے گزر رہے تھے اور سگنل بند ہونے کی وجہ سے گاڑی ُرک گئی تھی کہ اچانک فٹ پاتھ پر لگے گھنے پودوں کے درمیان سے ایک ُلٹیرا آیا اور ان کی گاڑی کے کھلے شیشے کے اندر ہاتھ ڈال کر ان کے پہلو سے اپنا پستول لگا کر حصول زر کا مطالبہ کرنے لگا۔ سیلم اختر کی ہمت تو دیکھے کہ بجائے خوفزدہ ہونے کے، اس کا ہاتھ ایک طرف کو ہٹا، اس کو اپنی گرجدار آواز میں جھڑک دیا۔

    “دفع ہوجا مردود”
    ہم اہل کراچی یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ کہ یہ لٹیرے ذرا سی بات پر لوگوں کی جان لینے سے دریغ نہیں کرتے لیکن ‘مردود‘ کے دل میں خدا جانے کیا بات آئی، شاید وہ ان کی بے باکی سے گھبرا گیا یا پھر ان کی شخصیت اور ان کی گرجدار آواز سے متاثر ہوا، سر نہیوڑا کر چپ چاپ اسی تاریک گوشے میں کھسک گیا جہاں سے برآمد ہوا تھا۔

    جب وہ ہمیں یہ واقعہ سنا چکے تو ہم سب ان پر برس پڑے کہ صاحب یہ بہادری نہیں حماقت کہلائے گی لیکن اس میں سیلم صاحب کا کیا قصور کہ کسی سے مرعوب ہونا تو ان کی سرشت میں تھا ہی نہیں چاہے وہ کوئی جان کا درپے راہزن ہی کیوں نہ رہا ہو۔

    وہ ملازمت سے سبدوش ہوکر گھر جاچکے تھے۔ اس سے کچھ عرصہ قبل انہوں نے مجھے اپنے ایک پڑوسی جعفری صاحب سے ملوایا تھا، جعفری صاحب کی عمر 80 کے لگ بھگ تھی اور وہ ایک انگریزی اخبار ‘بزنس ریکارڈر‘ میں ملازم تھے۔ لامبا قد اور بھاری آواز، وہ ایک خوش لباس شخص تھے، کانوں سے اونچا سنتے تھے، ان کے بچے امریکہ میں تھے اور ان دنوں ان کی اہلیہ بھی امریکہ گئی ہوئی تھیں۔ میں ان دنوں ماحولیات کے موضوع پر بزنس ریکاڈر میں مضامین لکھ رہا تھا، ہم دیر تک گفتگو کرتے رہے تھے۔ اس ملاقات کے کچھ عرصے بعد ایک روز سلیم اختر صاحب کا فون آیا۔ دراصل ہوا یہ کہ دو روز سے اخبار والا جعفری صاحب کے گھر اخبار ڈال کر جارہا تھا اور تیسرے روز اس نے محسوس کیا کہ اخبار ویسے ہی پڑے ہیں اور کوئی انہیں اٹھا نہیں رہا، اس نے سلیم اختر صاحب کو اطلاع دی۔ سلیم صاحب نے مجھ سے کہا کہ آپ کی بزنس ریکارڈر میں جان پہچان ہے، کسی سے بات تو کیجیے۔ اخبار میں میری ایک خاتون سے یاد اللہ تھی۔

    یہاں لفظ ‘یاد اللہ‘ کی جگہ ‘شناسائی‘ بھی استعمال کیا جاسکتا تھا لیکن کیا کیجیے کہ خاتون کو دیکھ کر بے اختیار اللہ ہی کی یاد آتی تھی۔

    بہرکیف میں نے اخبار والوں کی اطلاع دی، معلوم ہوا کہ جعفری صاحب دو روز سے دفتر سے غیر حاضر ہیں۔ اخبار کی انتظامیہ نے چند افراد کو معاملے کی چھان بین کی غرض سے جعفری صاحب کے گھر کی طرف روانہ کیا، وہاں سلیم اختر بھی موجود تھے۔ دروازہ توڑا گیا اور جب لوگ اندر داخل ہوئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ جعفری صاحب مردہ حالت میں اپنے بستر پر پڑے تھے، انہیں انتقال کیے دو روز گزر چکے تھے۔ اس تمام معاملے میں بحیثیت پڑوسی پہلے سلیم صاحب کی بے چینی اور بعد کے مراحل میں ان کی ذاتی دلچسپی قابل تعریف تھی۔

    ایک مرتبہ میں ان کے ساتھ کسی کام سے دفتر سے باہر گیا، یہ کراچی کے علاقے پورٹ قاسم کی ایک دور افتادہ جگہ تھی، کام مکمل ہوا اور سلیم صآحب نے مجھ سے کہا کہ یار چلو اپنے ایک انتہائی عزیز دوست سے آپ کو ملواتے ہیں، وہ قریب میں واقع ایک تعمیراتی منصوبے کے نگران تھے۔ ہم لوگ جلد وہاں پہنچ گئے۔ اب دونوں دوستوں کی ملاقات دیدنی تھی۔ ان کے دوست نے چند روز قبل ہی شادی کی تھی، عمر ساٹھ سے کچھ اوپر تھی اور شادی ایک نسبتا کم عمر خاتون سے ہوئی تھی۔ سلیم صاحب کی جملے بازی زوروں پر تھی اور ان کے دوست مجھے کنکھیوں سے دیکھ رہے تھے:
    ” بھئی ماشاء اللہ تہماری بیوی خوش شکل ہے، سگھڑ ہے، یار تم نے تو زیرو میٹر لڑکی سے شادی کرلی” وہ اپنی دھن میں کہے چلے جارہے تھے.
    ادھر اس انوکھی اصطلاح پر ہنسی روکنے کے لیے میں عجیب عجیب سے منہ بنا رہا تھا “”
    ہماری گاڑی کا ڈرائیور بھی تجسس میں یہ گفتگو سن رہا تھا، لفظ زیرو میٹر پر وہ وہاں سے ہٹ گیا۔
    واپسی پر میں نے سلیم صاحب سے کہا، دیکھا آپ نے، ڈرائیور کا چہرہ آپ کی بات پر ہنسی کی وجہ سے سرخ ہوگیا
    “جامنی ہوا ہوگا” وہ بولے
    ہمارے ڈرائیور کا رنگ بالکل سیاہ تھا!

    اپنی ناگہانی موت سے محض ایک روز قبل و ہ ہمارے دفتر آئے اور ہمیشہ کی طرح مجھ سے ملاقات کے لیے بھی آئے تھے لیکن صد افسوس کہ اس روز میں آفس سے باہر ایک ٹرینگ میں مصروف تھا ، ان سے ملاقات نہ ہوسکی۔ انتیس نومبر ۲۰۰۷ کے دن وہ علی ا لصبح کہیں جانے کے لیے گھر سے نکل ہی رہے تھے کہ دل کے شدید دورے کے باعث فرش پر بچھے قالین پر گر پڑے اور آدھ گھنٹہ اسی کیفیت میں پڑے رہے۔ گھرکی اوپری منزل میں موجود ان کی اہلیہ اس واقعے سے بے خبر رہیں۔ گمان ہے کہ انتقال تو ان کا گرتے ساتھ ہی ہوگیا تھا ۔ اللہ تعالی نے ان کی دلی خواہش پوری کردی اور وہ خامشی کے ساتھ، بغیر کسی کو تکلیف دیے اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔ ان کے انتقال کے وقت ان کا اکلوتا بیٹا فیصل، بسلسلہ ملازمت مظفر گڑھ میں مقیم تھا۔

    سلیم اختر ہم دونوں کے درمیان عمروں کے نمایاں کے باوجود ایک شفیق دوست تھے. وہ مجھے اکثر یاد آتے ہیں۔ لیکن نجانے کیوں جب بھی میں ان کو یاد کرتا ہوں تو ایک ہی منظر آنکھوں کے سامنے گھوم جاتا ہے۔۔دفتر کا نیم تاریک کمرہ۔ سلیم اختر صاحب کاُ پرتاسف لہجہ اور کمرے میں پھیلتی ان کی بھاری گونجیلی آواز ۔

    ’رات کے آخر ہوتے ہوتے، ختم تھا ٰ ٰ یہ افسانہ بھی

  4. مندرجہ بالا مضمون اگر آپ چاہیں تو علاحدہ سے آویزاں کردیں

    راشد

  5. راشد صاحب آپکی محبت کا شکریہ۔ ملاقات اور رابطہ نا ہونا بہانہ کام سے زیادہ میری اپنی ناکردگی ہے جس پر باوجود کوشش کے قابو نہیں پایا جا سکتا
    (اب فقرہ نا چست کردینا کہ کسی حکیم سے ملوں)

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: