تبصرہ کیجیے

چلی کے 33 کان کن

چلی کے 33 کان کن 5اگست سے سطح زمین سے سات سو میٹر (پون کلومیٹر تقریبًا) گہرائی میں پھنسے ہوئے ہیں۔ جب کان بیٹھنے کا حادثہ ہوا تو ابتدا میں خدشہ ظاہر کیا گیا کہ شاید کوئی بھی زندہ نہیں بچا لیکن ان کان کنوں کے اہلِ خاندان اور دوستوں کو امید کی جوت ایک 63 سالہ کان کُن گومز کے پیغام نے جگائی کہ 33 لوگ زندہ ہیں پھر کہانی شروع ہوئی عزم اور جستجو کی ان کان کنوں کو واپس اپنے پیاروں سے بحفاظت ملانے کی۔ یہ کوئی آسان کام نہیں تھا کتنے خطرے کتنے ہی خدشے اس راہ میں حائل تھے ایک طرف امید و بیم کی سولی پر لٹکے ان کان کنوں کے اعزاء اور دوسری طرف 33 زندگیاں جن کی جسمانی اور نفسیاتی حفاظت مکمل طور پر درست ریسکیو کاروائیوں پر مشتمل تھی۔ سب سے پہلے تو ان محصور لوگوں کی ہوا اور غزا کا بندوست کیونکہ ابتدا ہی میں یہ بات واضح تھی کہ یہ کوئی ایک دو دن کی نہیں ہفتے کی نہیں بلکہ مہینوں پر محیط کاروائی ہوگی جس کے بعد ہی یہ لوگ بحفاظت اپنے پیاروں کو مل پائیں گے۔ پوری قوم نے پھنسے کان کنوں اور ان کے خاندانوں کا حوصلہ بڑھایا۔ اندر پھنسے کان کنوں سے کیمروں کے ذریعے ان کے پیارے مستقل رابطے میں رہے اندر موجود لوگ ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھاتے رہے اور ساتھ ہی حکومت نے ان تمام کو قومی ہیروز کا درجہ دیا ساری قوم نے ان خاندانوں سے یکجہتی کا اظہار کیا تمام دنیا کے کان کنی کے ماہر اپنے تجربات اور مہارتوں کے ساتھ انکی مدد کو آئے۔ ایک طرف یہ پیشہ ورانہ کاروائیاں چلتی رہیں دوسری جانب لمحہ بہ لمحہ کا احوال اوپر خاندانوں اور نیچے محصور لوگوں تک آتا جاتا رہا دن رات کی پرواہ کیے بغیر دوست رشتہ دار مستقل رابطے میں ہیں۔
اب تک تو یہ کہا جارہا تھا کہ کرسمس سے پہلے ان لوگوں کی واپسی ممکن نہیں ہے لیکن کل 9 تاریخ کو ریسکیو ٹنل کامیابی کے ساتھ کان کنوں تک پہنچ گئی ہے گو کہ ابھی کئی مرحلے باقی ہیں۔۔۔۔ 
دیکھیں کیا گزرے ہے قطرے پہ گہر ہونے تک
زمین پر ایک خیمہ بستی آباد ہے 33 جھنڈے گویا آزادی کے پھریرے لہرا رہے ہیں یہ مہم انسانی عزم و ہمت کے لیے جہاں ایک چیلنج ہے وہیں اقوامِ عالم کے باہمی اتحاد و ربط کی بھی مثال ہے کہ ایشیا افریقہ امریکہ اور آسٹریلیاء سے پیشہ ورانہ امداد و مشاورت کیساتھ ریسکیو مشن چل رہا ہے۔
ٹائم لائن:
  5 اگست سان جوس کی سونے اور تانبے کی کان میں 33کان کن سطح زمین سے 700 میٹر گہرائی میں پھنس گئے۔
22 اگست کو ایک پیغام موصول ہوا کہ ہم 33 ایک شیلٹر میں موجود ہیں۔ غذا اور طبی ترسیلات نیچے بھیجی گئیں۔
30 اگست اے ،بی، سی میں سے پہلی ریسکیو شافٹ بھیجنی شروع کی۔
5 ستمبر شافٹ بی کو منتخب کر کے کام جاری رکھا گیا۔
24ستمبر کو 50 دن پورے ہوئے۔
9 اکتوبر کو ریسکیو ٹنل کے لیے ڈرل کی گئی شافٹ کان کنوں تک پہنچ گئی۔   

روابط

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: