6 تبصرے

کباڑ بازار (چاہ سلطان)

جیسے کراچی میں شیر شاہ گاڑیوں کے سیکنڈ ہینڈ پارٹس کے لیے مشہور ہے اسی طرح راولپنڈی اسلام آباد کے لیے چاہ سلطان (سلطان دا کھوہ) اور باؤ محلہ میں گاڑیوں کے تمام پرزہ جات مل جاتے ہیں رہ گئے دام۔ تو وہ تو پشاور سے لیکر کراچی اور لَنڈا بازار سے لیکر منگل بازار خان صاحب کا ایک ہی اصول دس ہزار مانگ کر سودا پچاس روپے میں بھی کر دینا ہے لیکن نہیں بول دی تو دو روپے کم پر بھی چیز نہیں دینی۔ تمام سامان گاڑیوں کے انجنوں سمیت پشاور سے اور پشاور میں جانے کہاں سے آتا ہے؟؟
سعودیہ اور قطر میں تصلیحہ (جنک یارڈ) ہوتے ہیں جہاں حادثات وغیرہ کی وجہ سے ناکارہ گاڑیاں کھڑی ہوتی ہیں آپ کو جو سامان چاہیے گھوم پھر کر اپنے ماڈل کی گاڑی دیکھیں سودا ہوا تو سوڈانی یا یمنی (پاکستانی بھی) مکینک وہ پرزہ آپ کو نکال دے گا آگے آپ کے نصیب۔
لیکن یہاں پاکستان کا معاملہ الگ ہے یہاں تو  کوئی بھی گاڑی کبھی بھی ناکارہ نہیں ہوتی اس لیے پھر یہ انجن، گیئر بکس اور دیگر پرزہ جات کہاں سے آتے ہیں؟
بات گھوم پھِر کر وہیں آجاتی ہے کیونکہ خریدار موجود ہیں اس لیے سپلائی برقرار رہے گی چاہے میں ہینڈل لاک لگاؤں، سیکوریٹی سسٹم یا خود سیکوریٹی والا کھڑا کردوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 
(تصویر میں پرانے ٹائروں کو چمکا کر کابلی والے بنائے جارہے ہیں)

6 comments on “کباڑ بازار (چاہ سلطان)

  1. دونمبردھندہ توہمارےرگوں میں اترگیاہےکیونکہ ہرچیزمیں دونمبرمال مل جاتاہےبلکہ ابھی توتین اورچارنمبربھی چل پڑےہیں۔ اس کوکیاکہیں کیونکہ ہرایک دوسرےکولوٹنےکےچکرمیں جیسےبھی ہو۔

  2. کیا کریں ہر چیز دونمبر چل رہی ہے بلکہ کئی نمبر چل رہے ہیں
    اب دونمبر مل جائے تو اسے غنیمت سمجھیں کیونکہ اور بھی کئی نمبر ہیں

  3. جب تک ایسے چوکیدار موجود ہیں یہ چوری کا کاروبار چلتا رہےگا!

    قلعہ عبداللہ،کار چوری کے الزام میں ڈی ایس پی سمیت چار افراد گرفتار
    http://www.jang.com.pk/jang/nov2010-daily/01-11-2010/main4.htm

  4. جند سال ايسے آئے تھے جب چاہ سلطان پر بہت سے برزے استعمال شدہ مگر اچھی حالت ميں مل جاتے تھے ۔ اس کی وجہ يہ تھی کہ نواز شريف کے زمانہ ميں نئے اور استعمال شدہ پرزے درآمد کرنے کی اجازت دی گئی تھی تو جاپان سے چار پانچ سال استعمال کی ہوئی يا ايکسيڈنٹ والی گاڑيوں کے پرزے آنے شروع ہو گئے تھے جس سے پرانے پرزوں کے علاوہ نئے پرزوں کی قيمت بھی کم ہو گئی تھی ۔ مگر اس کی حکوت ختم ہونے کے بعد پھر چوری کی کاروں کا کاروبار پہلے کی طرح چمک اُٹھا ۔ ہماری قوم کو نيکی ہضم نہيں ہوتی

  5. سب کھا رہے ہیں تو یہ کیوں نا کھائیں؟
    لوٹو تم بھی لوٹو

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: