سفریات

ہمارے حصے کا لاہور

آخر لاہور نے بھی ہمیں اپنی زیارت کا شرف بخش ہی دیا۔ برسات کا تو کیا ذکر یہ ساتھ ساتھ چلتی رہی اور ہم لوگ موٹر وے پر خراماں خراماں CNG بھرواتے لاہور پہنچ گئے۔ اسلام آباد سے صبح سویرے 12بجے کے نکلے سہ پہر چھ بجے لاہور میں آن وارِد ہوئے۔ راستے کا ذکر […]

پاؤں کا چکر

ابھی پاؤں میں چکر باقی ہے۔ سوچا تو یہ تھا کہ ذرا اطمینان اور ٹھہراؤ آجائے تو احوال لکھ دیتے ہیں مگر اس عالم بے ثبات میں تو ایسا ہوتا دکھتا نہیں ہے دوسرے عالًموں کا عِلم ہمیں نہیں ہے۔ نظامی صاحب نے Plumeria کو پسند کیا اور فرمائش کی اس دن میں پردیسی ہوچکا […]

سنگاپور ٢

مجھے تو حد سے زیادہ پھیلے بلکہ پھولے ہوئے سبزے نے حد درجہ متاثر کیا۔ امارات کی پرواز دوپہر کو پہنچتی ہے جب جہاز بے آف ملاکا یا ملایا  میں داخل ہوا تو دوطرفہ سبزے کی بہار، کہاں میں جس نے جیون ریگزاروں میں بِتایا ہو کہاں یہ دُھلا دُھلا سا سبزہ جس میں کسی […]

سنگاپور حصہ ١

خاصا وقت گزر چکا ہے آج کل کرتے کرتے مگر نئی ملازمت کا کام ہے کہ اب تک سر اٹھانے کا موقع نہیں مل رہا۔ اصل میں یہ میری پہلے والی ہی کمپنی ہے جہاں تین سال بعد دوبارہ ملازمت شروع کی ہے۔ اسی سلسلے میں پچھلے تین ماہ میں دو چکر سنگاپور کے لگے […]

منگلا ڈیم

اس دفعہ چھٹی گزارنے کے لیے کافی سوچ بچار کے بعد منگلا ڈیم کا قصد کیا۔  اسلام آباد سے تقریبًا 125 کلومیٹر جی ٹی روڈ پر لاہور کی جانب جائیں تو کھاریاں سے پہلے دینہ نامی قصبہ آتا ہے جسکے 25 کلومیٹر دائیں جانب روہتاس فورٹ اور بائیں جانب اگر جائیں تو میر پور کے […]

شمشاد خان, ریگل چوک کراچی

میرے ایک گزشتہ بلاگ میں ذکر تھا شمشاد خان صاحب کا جو ریگل چوک کراچی میں پچیس تیس سال سے پرانی کتابیں فروخت کرتے ہیں اور اسی فٹ پاتھ پر مستقل ٹھیہہ لگا رکھا ہے۔ اسوقت انکی تصویر بھی لی تھی جو اب شیئر کر رہا ہوں۔

سندھیالوجی میوزیم (Sindhalogy Meseum)

سندھ کی تاریخ اور ثقافت کو آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ رکھنے کا کام سندھیالوجی( Sindhalogy) والوں نے بڑی عرق ریزی سے انجام دیا ہے۔ محدود وسائل اور انتظامی و سیاسی مشکلات کے باوجود تاریخ کے اس گراں مایہ سرمائے کو سنبھال رکھنا اور طلباء و عوام کو رہنمائی فراہم کرنا قابلِ تعریف امر […]