تبصرہ کریں

صومالی قزاقوں سے یرغمالیوں کی رہائی

پاکستان کے متعلق یہاں کی اخبارات میں کم ہی مثبت خبریں ہوتیں ہیں ویسے بھی پاکستانی اخبارات خود بھی کچھ نہیں چھاپتے لگتا ہے سوائے ماردھاڑ کے اور بڑھکوں کے لگتا ہے پاکستان میں سولہ سترہ کروڑ لوگ کچھ نہیں کرتے سوائے وزیروں مشیروں کے باقی لوگ احتجاج اور ہڑتالوں میں مصروف ہیں ۔

پاکستانی اخبارات کو بھی فلاحی و سماجی اداروں کی سرگرمیوں کو نمایاں کرنے اور ان کی تشہیر کرنے کی توفیق اسی وقت ہوتی ہے جب اس کے ساتھ کچھ اور مفاد بھی وابستہ ہوں  یا زکاۃ کی طور پر کچھ روشنی ڈال دی حالیہ صومالی قزاقوں سے یرغمالیوں کی رہائی والا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی تھا لیکن لوگوں کی دلچسپی اور پھر انصار برنی کی اپنی کاوشوں سے اخبارات اور چینل بھی متحرک ہوئے، یہی حال سرحد پار بھی ہے لگتا ہے بریصغیر کی گھٹی میں یہ عادت ہے کہ جو پیدا ہوگئے ہیں انکی پروا نہیں ہے اسی وجہ سے انسانی جانوں کو وہ اہمیت ہی نہیں دی جاتی۔ بہرحال صومالی قزاقوں سے یرغمالیوں کی رہائی کو لے کر انصار برنی نے بھارت کی عوام کوپاکستانی عوام کے متعلق ایک مثبت پیغام دیا ۔وہ کام جو ہماری حکومتیں نا کر پائیں وہ سماجی اور فلاحی اداروں نے کر دکھایا ۔ ایک دفعہ پھر یہ پیغام کہ ہمارا  پاکستانی/ ہندوستانی سے بڑھ  کر ایک انسانی ناطہ بھی ہے۔

گللف نیوز کی خبروں کے عکس منسلک ہیں۔  

تصاویر

بھارتی یرغمالی

پاکستانی قیدی

بھارتی نیوی

3 تبصرے

بے نام

آج اپنی بیٹی کے  IELTS کے اسپیکنگ ٹسٹ کے لیے  برٹش کونسل جانا ہوا تو مقامی معاشرے کے تیزی سے بدلتے خدوخال کا ایک اور مظاہرہ دیکھنے میں آیا، مجھے اور میری بیوی کو تقریبًا ایک ڈیڑھ گھنٹہ وہاں بیٹھنا پڑا اس دوران ایک بات نوٹ کی کہ صرف تین لڑکے امتحان دینے کے لیے آئے اور باقی تیس سے پینتیس لڑکیاں تھیں ان میں ‌سے چند کو چھوڑ کر سب ہی قطری تھیں اور لڑکوں میں ایک قطری، ایک مصری اور تیسرا فلپائنی۔ تعلیم بلکہ اعلیٰ تعلیم کے لیے یہ سب تیاریاں ہیں۔ دفاتر اور تجارتی مراکز میں تو ویسے ہی مقامی خواتین کی اکثریت دکھائی دیتی ہے۔ قطر کی خواتین  ثابت کر رہی ہیں کہ قابلیت اور صحتمند مقابلے میں وہ پیچھے نہیں رہنے والیں۔
بیٹھے بیٹھے انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا کی ورق گردانی کرتے ہوئے میری نگاہ“ پشاور“ پر رک گئی آپ بھی پڑھیے (جن کا حال اور مستقبل واضح نا ہو ان سے ماضی میں زندہ رہنے کا حق تو کوئی نہیں چھین سکتا)

4 تبصرے

پھر وہی روزنامچہ

جانے کب تک معمولات معمول پر نہیں آتے لیکن ہم اپنی سی کوشش کر دیکھتے ہیں، روابط بحال ہوں زندگی پرانی ڈگر پر واپس آجائے
گو کہ پھر بہت سا پانی بہہ چکا ہے کچھ پلوں کے نیچے سے اور کچھ پُلوں کو بھی بہا لے گیا اب پرانا وقت تو لوٹ آنے سے رہا اسی نئے وقت کو اپنی کاہلی اور ناکردگی سے زنگ لگاتے ہیں یہی پرانے سے بھی زیادہ بوسیدہ ہو جائے گا۔ 
لیکن اس سے پہلے احوال کہ نٹ دوستوں کے روزمرہ سے تو کافی واقفیت رہی مگر خود میں غائب رہا وجہ کچھ ملازمت کا شیڈول تبدیل ہوگیا پہلے جو ماہ بماہ پاکستان جاتے تھے وہ سلسلہ موقوف ہوا اب مستقل دوہا ہی جائے رہائش ٹھہری اور اہلِ خانہ کو بھی اسلام آباد سے یہیں منتقل کردیا۔  اسلام آباد والے گھر کو سمیٹنے بلکہ سارا سامان اور گاڑی صرف ایک ماہ کے قلیل وقت میں بیچنے میں ہم لوگ کامیاب نا ہوتے اگر ہمارے اہلِ محلہ ہماری مدد نا کرتے شکریہ ان تمام لوگوں کا جو اس آڑے وقت میں کام آئے۔
میرے بچے 2005 تک یہاں رہ کر گئے تھے واپس آئے تو جو تبدیلی انہوں نے محسوس کی پہلی تو عمارتیں بے تحاشہ بن گئیں ہیں دوسری جہاں جی ایم سی کی پیلی بسیں استعمال ہوتی تھیں وہاں ٹاٹا کی بھرمار ہے اور عام زندگی کے شعبوں میں انڈین افرادی قوت کے اضافے کے ساتھ حیرت انگیز طور پر فلپائنی بہت ہی زیادہ بڑھ چکے ہیں اس تناسب سے پاکستانی بہت ہی کم ہوئے ہیں۔
ہم خود کو جو طفل تسلیاں دیتے رہیں لیکن ہمارے مستقل حالتِ جنگ میں رہنے کے کچھ اور نقصانات بھی سامنے آرہے ہیں مثلاً وسط ایشیاء کی ریاستیں ( ترکمانستان، آذربائیجان ) تیل کی ترسیل کے لیے ایران اور مشرق وسطٰی کی طرف دیکھ رہی ہیں کہ افغانستان کے مسئلے نے تو حل ہونا نہیں ہے گوادر کو سمیٹ رکھیے ہمیں راہداری ایران ، قطر اور عمان دے گا ( بحوالہ گلف ٹائم 26 اپریل )گویا
مرے تھے جن کے لیے وہ رہے وضو کرتے 
اور بھئی لڑتی بلیوں کی روٹی ہمیشہ بندر ہی کھاتے ہیں۔

6 تبصرے

ایک اور حادثہ

ایک تو نائٹ شفٹ کی تکان اوپر سے پلانٹ سے نکلتے ہوئے یہ دُکھ بھری خبر کہ میرے ہم پیشہ 20 افراد اپنی روزی کمانے گھر سے نکلے تھے لیکن وہاں جا پہنچے جہاں جاکر واپس نا آیا کوئی
وہ بھی اپنے دوستوں گھر والوں سے کہہ کر گئے ہوں گے کہ بس چودہ ہی تو دن کی بات ہے لیکن یہ چودہ دن تو معلق ہی ہوگئے ہیں کبھی ختم نہ ہونے والا انتظار شروع ہوگیا۔
آئل فیلڈ کی ملازمت جہاں دوسروں کے لیے قابلِ رشک ہوتی ہے وہیں کام کرنے والوں کو پتہ ہوتا ہے کہ ہم ایک خفتہ آتش فشاں کے پیٹ میں سے ہیرے نکالتے ہیں ذرہ برابر غلطی اور یہ دیو جاگ جائے گا پھر مفر ممکن نہیں
لیکن یہ بھلے لوگ تو راستے ہی میں کسی دوسرے کے شارٹ کٹ، قصداً یا سہواً غفلت کا شکار ہو گئے، جانچ پڑتال کرنے والوں نے سوچا ٹھیک ہی ہوتا ہے یا پھر علم ہونے کے باوجود سینسر یا پرزہ “ پھر تبدیل کر لیں گے“ ارے کچھ نہیں ہوتا“ یا پھر “ سر یہ پاکستان ہے ایسا ہی چلتاہے اتنے چکر لگا چکا ہے کچھ نہیں ہوا“  لو میرے جیسے انجینئرو اور ٹیکنیشنو جس کو تم روک سکتے تھے وہ حادثہ ہوگیا اب کبھی ان خاندانوں سے آنکھ ملا پاؤ گے جن گے پیارے اس دنیا سے صرف اس لیے چلے گئے کہ تمہاری چائے ٹھنڈی ہورہی تھی یا پرواز روک دینے پر بڑے صاحب کی سننی پڑتیں لیکن ان خاندانوں پر تو قیامت نا ٹوٹتی۔
کل ہی سنگاپور میں 450 مسافروں کے ساتھ آسٹریلین ایر بس نے ہنگامی لینڈنگ کی اور تمام مسافر بخیریت رہے اس کے بعد کنتاس نے اپنے پورے بیڑے میں شامل ایربس 380 کی پروازیں جانچ پڑتال کے لیے روک دیں ہیں۔
ہم نے ایر بلو کے حادثے سے کیا سیکھا؟ 
بھِٹ ضلع دادو کے گیس پلانٹ میں میرے تو نہیں لیکن میرے کئی جاننے والوں کے دوست کام کرتے ہیں آج ان سب کے لیے دل انتہائی افسردہ ہے کاش اس ہونی کو کوئ ٹال دیتا لیکن کاش تو پھر کاش ہے اس کے ذریعے ہم اپنی کوتاہیوں اور نااہلیوں کو تھپکیاں دیتے ہیں۔

1 تبصرہ

بوٹسوانا کا مسافر

میں عمومًا آن لائن ہی چیک ان کرتا ہوں اور میری کوشش ہوتی ہے کہ کھڑکی کی طرف والی سیٹ لوں کہ ہمراہی کو نقل و حرکت کی اور مجھے آرام کی آزادی رہے لیکن اس دفعہ جانے کیوں میں نے اگلی جانب راہ داری کی نشست کو منتخب کیا۔ دوحہ کیونکہ قطر ایر ویز کا بیس اسٹیشن ہے اس لیے دنیا جہاں سے مسافروں کو پہلے یہاں لایا جاتا ہے پھر اگلی منزلوں کو اڑان بھری جاتی ہے اسی لیے قطر میں پاکستانی نسبتًا کم ہونے کے باوجود کراچی اسلام آباد آنے والی  کوئی بھی پرواز خالی نہیں ہوتی اور دور دراز والے لوگوں سے ہمسفری کا موقع ملتا ہے۔ میں ابھی نشست پر بیٹھا ہی تھا کہ چھوٹی چھوٹی داڑھی (پاکستانی مارکہ) والے ایک صاحب جنکی عمر 40 بیالیس کے لگ بھگ ہوگی تشریف لائے میری ساتھ والی نشست پر بیٹھنے کے لیے۔
 جب میں نے انہیں آگے بڑھنے کے لیے راستہ دینا چاہا تو انہوں نے پیشکش کی کہ اگر آپ کونے پر بیٹھنا چاھیں تو کوئی حرج نہیں۔ یہ عمران صاحب تھےجن سے تعارف کے بعد بات چیت شروع ہوئی تو پتہ چلا کہ جنوبی افریقہ کے پڑوسی ملک بوٹسووانا سے آرہے ہیں ان کا وہاں بیڈنگ (ٹیکسٹائل) کا کاروبار ہے چھ سال سے جنوبی افریقہ میں کوشش کی اور پھر اب دوسال سے کہیں جاکر بوٹسووانا میں سیٹ ہوئے ہیں اور خاندان بھی ہمراہ ہے۔ میرے کچھ ساتھی جنوبی افریقہ اور موزمبیق سے تعلق رکھتے ہیں ان کے حوالے سے مجھے کچھ تو معلومات تھیں لیکن ایک پاکستانی سے وہاں کے حالات جاننے کی بات ہی کچھ اور ہے اس لیے اب گفتگو شروع ہوئی تو اسلام آباد  لینڈنگ کے وقت ہی جاکر سلسلہ ختم ہوا۔ 
پہلی بات جو اُن سے پوچھی وہ جنوبی افریقہ کی یونیورسٹی کے حوالے سے تھی کہ میرے ایک دوست اپنی دو بیٹیوں کو وہاں تعلیم کی غرض سے بھجوانا چاہ رہے ہیں وہاں امن امان کی کیا صورتحال ہے آیا اکیلی بچیاں وہاں اپنی تعلیم جاری رکھ پائیں گی؟ پہلے تو انہوں نے چھوٹتے ساتھ ہی کہہ دیا کہ نا بھئی نا وہاں کلب ہیں کیسینو اور شراب خانے ہیں۔
 لیکن عمران صاحب یہ سب تو یوکے امریکہ میں بھی ہے آپ سلامتی کے حوالے سے بتائیں؟ 
پہلے حالات بہت خراب تھے اب بہت تبدیلی ہے جنسی ہراسمنٹ نہیں ہے ہاں لوٹ مار ضرور ہوتی ہے سگنل پر کھڑی گاڑی سے موبائل پرس وغیرہ چھین لے جاتے ہیں۔ پھر کہنے لگے کہ اگر سوشل نا ہوں تو کوئی خطرہ نہیں ہے اپنی اسلامی کمیونیٹی بہت مضبوط ہے۔
پہلے تو جنوبی افریقہ جانے کے لیے ویزہ بھی نہیں لینا ہوتا تھا ایرپورٹ پر آمد کے وقت ہی ویزہ لگا دیتے تھے لیکن پھر کراچی میں آپریشن ہوا اور اپنے بھائی لوگ بھی وہاں بھی پہنچ گئے۔
انہوں نے ایسا کیا کردیا( میں بھی بھولا بَن گیا)؟
ان میں سے جو پڑھے لکھے تھے انہوں نے تو جنوبی افریقہ کا پاسپورٹ پکڑا اور کینیڈا اور آسٹریلیا چلے گئے جو یہاں رہ گئے وہ لوٹ مار میں کالوں سے بھی آگے ہیں۔ خوجہ برادری (میمن) جنوبی افریقہ میں عشروں سے رہ رہے ہیں اور انکے کاروبار بھی جمے جمائے ہیں پاکستان اور انڈیا دونوں سے تجارتی روابط ہیں یوں کاروباری برادری میں نمایاں نظر آتے ہیں گو کہ سیاسی جھگڑوں سے دور رہتے ہیں لیکن کراچی سے روابط کی وجہ سے انہی لوگوں نے بھائیوں کی مدد بھی کی اور اب بھائی لوگوں کا تر نوالہ بھی بنے ہوئے ہیں۔
باقی اندرونِ ملک سے گجرات، پنڈی بھٹیاں سے  بھی تو لوگ آتے ہوں گے وہ ساؤتھ افریقہ میں کیا کرتے ہیں کیا وہ لوگ ان جرائم میں شامل ہوتے ہیں یا کوئی اور کام؟

انکے لیے یہ پڑاؤ ہے، ایجنٹ پیسے لیکر انہیں یہاں لاتے ہیں پھر کاغز وغیرہ بنوا کر یورپ بھجوادیتے ہیں یہاں کام ملنا تو مشکل نہیں ہے لیکن جو بندہ ولایت کے لیے گھر بار چھوڑ کر آتا ہے وہ بھلا یہاں کہاں رکے گا۔
کام کیسے ملتا ہے خود افریقی اتنے زیادہ ہیں؟
بھائی صاحب بوٹسوانا کی مثال دیتا ہوں کہ کالے کام کرتے نہیں لوگ انڈین کو ملازمت دینا پسند کرتے ہیں لیکن گورنمنٹ کی سختی ہے کہ مقامی افراد کو رکھنا ہی رکھنا ہے چاہے بٹھا کر کھلاؤ۔ پھر ایڈز بہت زیادہ ہے اس کی وجہ سے مردوں کی شرح اموات زیادہ ہے۔
 پھر ذراء جوش سے بولے بوٹسوانا میں آپ کو موٹر مکینک تک عورتیں ہی ملیں گی کہ تنہا مائیں ہیں اور بچے پال رہی ہیں۔          
   اچھا آپ یہاں قطر کی سنائیں آپ تو اسلامی ملک میں رہتے ہیں۔ یہاں کم از کم چوری چکاری کا تو آرام ہے پھر بچوں کی تعلیم کا مسئلہ ہے۔
عمران صاحب میں نے تو سنا ہے کہ کمیونیٹی کے اسلامی اسکول ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہاں جیسے نور اسکول سسٹم (نام کچھ ذہن سے محو ہوگیا ہے)جہاں باقی تمام بچے بھی پڑھتے ہیں لیکن دوپہر میں چھٹی ہونے کے بعد صرف مسلمان بچوں کو روک لیتے ہیں اور دو گھنٹہ
دینی تعلیمات دیتے ہیں ظہر کی نماز بھی وہیں ہوتی ہے تو بچوں کی عملی تربیت بھی ہوجاتی ہے ۔
آپ نے بتایا کہ انڈیا سے کافی لوگ ہیں وہاں ؟ بوٹسوانا نے انڈیا، پاکستان، سری لنکا وغیرہ سے انگلش سکھانے کے لیے ٹیچر مانگے تھے پاکستان سے تو کوئی نہیں پہنچا ہاں انڈیا نے پوری کھیپ بھجوادی اور آج اسکا پھل کھا رہے ہیں۔تجارت، دفاتر ٹرانسپورٹ ہر جگہ آپ کو انڈین ملے گا اور مصنوعات تو پھر ہوں گی ہی انڈیا کی۔
اچھا عمران صاحب پاکستانی تو پھر کافی کم ہوں گے تو میل جول اور تقریبات وغیرہ بھی نہیں ہوں گیں؟
بوٹسوانا میں پاکستانی کم ہیں ساؤتھ افریقہ میں کافی ہیں کچھ جان پہچان کے خاندان ہیں ان کے ساتھ مل بیٹھتے ہیں۔ بوٹسوانا میں انڈین کافی دوست ہیں ابھی بھی ہمارے پڑوس کی ہندو فیملی ہے انہوں نے باقیوں کے دیکھا دیکھی افطار پر مدعو کر لیا۔ اب ہماری یہ مشکل کہ کھانا کھانا اور بات ہے لیکن روزہ افطار کرنا عجب سا لگ رہا تھا گھر سے لیٹ نکلے اور راستے ہی میں کھجور سے روزہ افطار کر لیا۔ یوں تو کھانے کے معاملے میں بھی بہت صفائی پسند ہیں اور  کہیں ہمیں برا نا لگے اس لیے میری بیوی کو شروع شروع میں بھابھی اپنے ساتھ کچن میں رکھتی تھیں اور دونوں مل کر پکاتیں تھیں اب بھی تسلی دے رہے تھے کہ گھر اور بچوں کی طرف سے بے فکر رہیں پردیس میں ہم زبان مل جانا ہی بڑی نعمت ہوتا ہے۔
پردیس میں بچوں کو اکیلے چھوڑ کر آنا بھی کافی مشکل ہے اب بھی مجھے ایک تو کاروبار کے لیے اور دوسرا اپنی بچی کی تعلیم کے لیے آنا پڑ رہا ہے کہ میڈیکل کالج وغیرہ خود دیکھ آؤں۔
میرے استفسار پر کہ کوئی ڈائرکٹ فلائٹ بھی پاکستان آتی ہے ساؤتھ افریقہ سے تو کہنے لگے کہ پاکستانی ایر پورٹس پر اگر پتہ چل جائے کہ میں افریقہ سے آرہا ہوں تو محکمہ صحت والے بہت تنگ کرتے ہیں اسی لیے گھوم گھما کر ہی آنا بہتر ہے۔
عمران صاحب کو چاول ، تولیے، ٹی شرٹس اور ہوزری آئٹم درکار تھے لیکن بی کوالٹی تاکہ مقامی مارکیٹ کی قوت خرید میں ہوں جب کراچی میں اپنے بھائی اور کزن وغیرہ سے میں نے معلومات کیں تو پتہ چلا کہ جناب فیکٹریوں میں الو بول رہا ہے مال بن ہی نہیں رہا تو سپلائی کہاں سے ہو؟
(یہ تحریر 2009 رمضان کی ہے )

6 تبصرے

کباڑ بازار (چاہ سلطان)

جیسے کراچی میں شیر شاہ گاڑیوں کے سیکنڈ ہینڈ پارٹس کے لیے مشہور ہے اسی طرح راولپنڈی اسلام آباد کے لیے چاہ سلطان (سلطان دا کھوہ) اور باؤ محلہ میں گاڑیوں کے تمام پرزہ جات مل جاتے ہیں رہ گئے دام۔ تو وہ تو پشاور سے لیکر کراچی اور لَنڈا بازار سے لیکر منگل بازار خان صاحب کا ایک ہی اصول دس ہزار مانگ کر سودا پچاس روپے میں بھی کر دینا ہے لیکن نہیں بول دی تو دو روپے کم پر بھی چیز نہیں دینی۔ تمام سامان گاڑیوں کے انجنوں سمیت پشاور سے اور پشاور میں جانے کہاں سے آتا ہے؟؟
سعودیہ اور قطر میں تصلیحہ (جنک یارڈ) ہوتے ہیں جہاں حادثات وغیرہ کی وجہ سے ناکارہ گاڑیاں کھڑی ہوتی ہیں آپ کو جو سامان چاہیے گھوم پھر کر اپنے ماڈل کی گاڑی دیکھیں سودا ہوا تو سوڈانی یا یمنی (پاکستانی بھی) مکینک وہ پرزہ آپ کو نکال دے گا آگے آپ کے نصیب۔
لیکن یہاں پاکستان کا معاملہ الگ ہے یہاں تو  کوئی بھی گاڑی کبھی بھی ناکارہ نہیں ہوتی اس لیے پھر یہ انجن، گیئر بکس اور دیگر پرزہ جات کہاں سے آتے ہیں؟
بات گھوم پھِر کر وہیں آجاتی ہے کیونکہ خریدار موجود ہیں اس لیے سپلائی برقرار رہے گی چاہے میں ہینڈل لاک لگاؤں، سیکوریٹی سسٹم یا خود سیکوریٹی والا کھڑا کردوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 
(تصویر میں پرانے ٹائروں کو چمکا کر کابلی والے بنائے جارہے ہیں)

تبصرہ کریں

چلی کے 33 کان کن

چلی کے 33 کان کن 5اگست سے سطح زمین سے سات سو میٹر (پون کلومیٹر تقریبًا) گہرائی میں پھنسے ہوئے ہیں۔ جب کان بیٹھنے کا حادثہ ہوا تو ابتدا میں خدشہ ظاہر کیا گیا کہ شاید کوئی بھی زندہ نہیں بچا لیکن ان کان کنوں کے اہلِ خاندان اور دوستوں کو امید کی جوت ایک 63 سالہ کان کُن گومز کے پیغام نے جگائی کہ 33 لوگ زندہ ہیں پھر کہانی شروع ہوئی عزم اور جستجو کی ان کان کنوں کو واپس اپنے پیاروں سے بحفاظت ملانے کی۔ یہ کوئی آسان کام نہیں تھا کتنے خطرے کتنے ہی خدشے اس راہ میں حائل تھے ایک طرف امید و بیم کی سولی پر لٹکے ان کان کنوں کے اعزاء اور دوسری طرف 33 زندگیاں جن کی جسمانی اور نفسیاتی حفاظت مکمل طور پر درست ریسکیو کاروائیوں پر مشتمل تھی۔ سب سے پہلے تو ان محصور لوگوں کی ہوا اور غزا کا بندوست کیونکہ ابتدا ہی میں یہ بات واضح تھی کہ یہ کوئی ایک دو دن کی نہیں ہفتے کی نہیں بلکہ مہینوں پر محیط کاروائی ہوگی جس کے بعد ہی یہ لوگ بحفاظت اپنے پیاروں کو مل پائیں گے۔ پوری قوم نے پھنسے کان کنوں اور ان کے خاندانوں کا حوصلہ بڑھایا۔ اندر پھنسے کان کنوں سے کیمروں کے ذریعے ان کے پیارے مستقل رابطے میں رہے اندر موجود لوگ ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھاتے رہے اور ساتھ ہی حکومت نے ان تمام کو قومی ہیروز کا درجہ دیا ساری قوم نے ان خاندانوں سے یکجہتی کا اظہار کیا تمام دنیا کے کان کنی کے ماہر اپنے تجربات اور مہارتوں کے ساتھ انکی مدد کو آئے۔ ایک طرف یہ پیشہ ورانہ کاروائیاں چلتی رہیں دوسری جانب لمحہ بہ لمحہ کا احوال اوپر خاندانوں اور نیچے محصور لوگوں تک آتا جاتا رہا دن رات کی پرواہ کیے بغیر دوست رشتہ دار مستقل رابطے میں ہیں۔
اب تک تو یہ کہا جارہا تھا کہ کرسمس سے پہلے ان لوگوں کی واپسی ممکن نہیں ہے لیکن کل 9 تاریخ کو ریسکیو ٹنل کامیابی کے ساتھ کان کنوں تک پہنچ گئی ہے گو کہ ابھی کئی مرحلے باقی ہیں۔۔۔۔ 
دیکھیں کیا گزرے ہے قطرے پہ گہر ہونے تک
زمین پر ایک خیمہ بستی آباد ہے 33 جھنڈے گویا آزادی کے پھریرے لہرا رہے ہیں یہ مہم انسانی عزم و ہمت کے لیے جہاں ایک چیلنج ہے وہیں اقوامِ عالم کے باہمی اتحاد و ربط کی بھی مثال ہے کہ ایشیا افریقہ امریکہ اور آسٹریلیاء سے پیشہ ورانہ امداد و مشاورت کیساتھ ریسکیو مشن چل رہا ہے۔
ٹائم لائن:
  5 اگست سان جوس کی سونے اور تانبے کی کان میں 33کان کن سطح زمین سے 700 میٹر گہرائی میں پھنس گئے۔
22 اگست کو ایک پیغام موصول ہوا کہ ہم 33 ایک شیلٹر میں موجود ہیں۔ غذا اور طبی ترسیلات نیچے بھیجی گئیں۔
30 اگست اے ،بی، سی میں سے پہلی ریسکیو شافٹ بھیجنی شروع کی۔
5 ستمبر شافٹ بی کو منتخب کر کے کام جاری رکھا گیا۔
24ستمبر کو 50 دن پورے ہوئے۔
9 اکتوبر کو ریسکیو ٹنل کے لیے ڈرل کی گئی شافٹ کان کنوں تک پہنچ گئی۔   

روابط