8 تبصرے

اجوکا تھیٹر

اجوکا تھیٹر آجکل اسلام آباد کے
PNCA آڈیٹوریم میں سپرنگ فیسٹیول یا جشنِ بہاراں کے سلسلے میں ڈرامہ دکھا رہے ہیں ۔ ہمیں پہلے تو خبر ہی نہیں ہوئی پرسوں پتا چلا کہ آج بالا کنگ کے نام سے اسٹیج ڈرامہ دکھایا جائے گا کچھ پتا نہیں تھا کہ کیسے داخلہ ہے کیا ٹکٹ ہے بس یہ معلوم تھا کہ سات بجے ڈرامہ شروع ہوگا اور ہم پورا ٹبر بقول شخصے منہ اٹھائے  پی این سی اے چلے گئے انکا سوال تھا کہ کارڈ ہے ہم نے جواب دیا جی ہاں اور نادرا بیگم کا سبز کارڈ انکی طرف بڑھایا ۔ نہیں  جناب کوئی ریفرنس تو ہوگا؟؟
ہم نے بھولپنے سے جواب دیا کوئی نہیں بس دن میں آپکے دفتر فون کیا تھا انہوں نے ارشاد فرمایا کہ تھیٹر ہے اور ہم چلے آئے۔
ان صاحب نے ہم چاروں کیطرف دیکھا اور ارشاد فرمایا  “ اچھا ٹھیک ہے اندر کوئی پوچھے تو کہیے گا سلطان صاحب کے جاننے والے ہیں۔“
ہم نے احساسِ تشکر سے پوچھا اگر خود سلطان صاحب نے ہی پوچھ لیا تو؟؟
ساتھ کھڑے سیکوریٹی اہلکار نے ہنس کر کہا یہ خود ہی یہاں کے سلطان ہیں۔
اندر کسی نے کیا پوچھنا تھا۔ ڈرامہ شروع تھا اور لاجواب تھا “ بالا کنگ“ ہنسی ہی ہنسی میں ہماری سیاست کی چالبازیوں کو بے نقاب کرتا ہے اور بڑے ہی جاندار انداز میں ناظرین کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔
کل “ بلھا “ تھا اور اس کی شہرت تو بہت سُنی تھی لیکن ہم لوگ (میں میری بیوی اور دونوں بیٹیاں ) جتنے پُرجوش تھے اتنے ہی لیٹ لطیف بھی ہیں اور جب سات بجے پی این سی اے پہنچے تو وہاں ایک جم غفیر موجود تھا اور کوئی اپنے مامے چاچے کے عہدے کی اور کوئی اپنی دُھائی نما دھمکی دے رہا تھا مگر عملہ یہ سمجھا رہا تھا کہ بھائی اندر محدود جگہ ہے لوگ سیڑھیوں پر بھی بیٹھے ہیں آپ کو کہاں بھیجیں۔ تھوڑی دیر میں مدیحہ گوہر بھی آ گئیں اور انہوں نے کہا کہ آنے والے تین دنوں میں ہم یہی ڈرامے دوبارہ دکھائیں گے لوگوں نے ہماری توقع سے اچھا ریسپانس دیا ہے اور آپ لوگ آج تشریف لیجائیے اور کل ضرور آئیے گا۔
آج ہم ساڑھے چھ بجے ہی سے جاکر براجمان ہوگئے اور میرے پاس تعریف کرنے کے الفاظ نہیں ہیں کہ کیا غضب کی پرفارمنس تھی میں نا تو بیان کر سکتا ہوں اور نا ہی اس کا عشرِ عشیر حق  کوئی ریکارڈنگ یا سی ڈی ادا کر سکتی ہے تھیٹر تو تھیٹر ہوتا ہے اور اجوکا والوں نے ڈھائی گھنٹے اپنے طلسم میں اسیر رکھا۔ پھر بلھے شاہ کی کافیاں اور انکی زندگی کی عکاسی جواب نہیں ۔
لگتا تھا واقعی ہم آج سے ڈھائی سو سال پرانے بلھے کے عہد میں پہنچ چکے ہیں پھر صداکاری بے مثال۔
کل یعنی ١٠اپریل جمعہ کو “ ہوٹل موہنجو دارو“ اور ہفتہ کو پھر “ بالا کنگ “ پیش کیا جائے گا۔ کوئی ٹکٹ نہیں ہے اور پی این سی اے کی عمارت میریٹ ہوٹل کے پیچھے ہے جہاں یہ ڈرامے اسٹیج ہوں گے شام ساڑھے چھ بجے پہنچ جائیں لیکن اپنے موبائل فون بند کردیجیے گا ہماری سامنے والی قطار میں ایک خاتون ویڈیو بنانے کی کوشش کر رہی تھیں اور باقی لوگ تو بدمزہ ہو ہی رہے تھے میری بیٹی چاھتی تھی کہ ان سے فون چھین کر اسٹیج پر پھینک دے۔

3 تبصرے

نہ اُگلی جائے نہ نگلی جائے

اسوقت ایک عجیب مشکل آ پڑی ہے ڈھیٹ لوگوں کی تو کوئی بات نہیں انہیں تو میں نا مانوں والا عارضہ ہوتا ہے شیر افگن کے لیے بھی کوا آج تک سفید بلکہ چِٹا سفید ہی ہے ۔ بات ہورہی ہے دردِ دل رکھنے والے مسلمانوں کی
کچھ عرصے پہلے تک یہ لوگ کہتے رہے کہ بھئی یہ چند شرپسند ہیں انکی حرکات کو اسلام سے جوڑنا قطعًا درست نہیں پھر یہ ہوا کہ کہا گیا کہ جب آرمی اسکولوں میں مورچے بنائے گی تو انہیں تباہ تو کرنا ہی ہوگا ویسے ہی جیسے ان کے ہاں بچوں کی جوؤں کا علاج ٹنڈ کروانا ہوتا ہے۔
پھر خودکش حملوں کو بھی ڈرون کا جواب ثابت کرنے کی بھونڈی  کوشش ایسی ہی باتیں ہیں جیسے کمہار کا غصہ گدھے پر اور اب یہ وڈیو والا قصہ پہلے دن تو بڑے فخر سے اسے اپنایا گیا کئی ایک نام نہاد عمائدین نے اسے عین شریعت قرار دیا اب جب ساری دنیا سے تھو تھو ہورہی ہے تو کہا جارہا ہے کہ یہ سازش ہے۔
شرم کرو ایک دن پہلے قرآن و حدیث سے حوالے دیتے ہو کہ یہ یہ حدود اللہ ہیں (گویا جو کیا گیا درست ہے) دوسرے دن کہتے ہو کہ یہ وڈیو جعلی ہے یعنی وہ تمام حدود جنکا کل آپ نے حوالہ دیا تھا آپ خود اس سے بھاگ رہے ہو۔
واقعی انمیں خارجیوں والی تمام نشانیاں موجود ہیں جب پِٹنے لگتے ہیں تو قرآن پاک کو نیزوں پر بلند کر کے پناہ مانگتے ہیں اور جب ذرا سی شہہ پاتے ہیں تو بھیڑیوں کی طرح درندگی دکھاتے ہیں۔
اس سترہ سالہ لڑکی کی آہ و بکا اور فریاد ایک دفعہ پھر وہی نتائج دکھائے گی جو محمد بن قاسم کی شکل میں ظاہر ہوئے تھے آج یہ لوگ جنکے نام مسلمانوں جیسے ہیں لیکن بر بریت میں یہ چنگیز خان کو شرماتے ہیں( کیونکہ چنگیز خان  کوئی وڈیو بارہ سالہ بچوں کے ہاتھوں مسلمان فوجیوں اور مسلمان کارندوں کو ذبح کرتے ہوئے دستیاب نہیں بنوائی تھی) یہ سب مزہب کو سامنے رکھتے ہوئے کر رہے ہیں لیکن جو غصہ ان سزاؤں کو دیتے ہوئے انکے چہروں اور حرکات و سکنات سے جھلکتا ہے وہ واضح اعلان کرتا ہے کہ یہ سزا دیتے ہوئے وہ اپنی وحشت کی اور انا کی تسکین کر رہا ہے اللہ کی حدود کا بس پردہ ہے۔ اس وڈیو کے اختتام میں بھی لڑکی کو اندر لیکر جانے کا حکم دیتے ہوئے گالی بھی دی جاتی ہے اس شخص کو جو اس لڑکی کو لیکر جا رہا ہوتا ہے۔
اس وڈیو کی تشہیر کا توڑ بھی چنگیزیوں نے خوب سوچا ہے پے در پہ خود کش حملے کرو تاکہ سارے چینل اسی آہ و بکا میں مصروف رہیں واہ رے خونِ مُسلم کی ارزانی۔

سوات میں طالبانائزیشن کے حوالے سے جہانزیب کا ایک تبصرہ مجھے بہت حسبِ حال لگا” میں‌ تو یہی کہوں‌ گا کہ تمام پاکستانی با عمل مسلمانوں‌ کو سوات منتقل ہو جانا چاہیے تا کہ با برکت شریعت سے براہ راست فیض‌ یاب ہو سکیں، اور وہاں‌ بیٹھ کر بلاگ لکھ کر باقی بے عمل مسلمانوں‌ کی اصلاح‌ کا فریضہ انجام دیں‌ ۔“

اسی سلسلے کی کڑی

6 تبصرے

مبارک حیدر کو مبارک ہو

سیلِ رواں کی مخالف سمت تیرنے کا حوصلہ کم ہی لوگوں میں ہوتا ہے۔
جب زمانے بھر میں ایک نظریہ ایمان کا درجہ اختیار کر جائے تو کم لوگ ہی اس کی خامیوں پر قلم اٹھاتے ہیں۔ جب دانشوروں کے پاس اپنی قوم کو دینے کے لیے کوئی امید کی کرن نا ہو تو وہ بھی مایوس لوگوں کے ساتھ جانتے بوجھتے ہوئے سرابوں کے پیچھے دوڑتے رہتے ہیں۔ لیکن سچا انقلابی اپنے آدرش سستی شہرت کے عوض بیچا نہیں کرتا اور نہ ہی جزباتیت کے شکار معاشرے کی ہاں میں ہاں ملا کر تمغہ امتیاز کا تمنائی ہوتا ہے۔ اس کی ایک ہی خواہش ہوتی ہے کہ بصیرت و بصارت کو عام کرے سطحی سوچ کے بجائے حالات و اسباب کا گہری نظر سے مطالعہ کیا جائے اور اگر زمانے کے سردو گرم جھیل طکا ہو تو یہ سہ آتشہ والی بات ہوگئی۔
مبارک حیدر بھی کچھ اسی قسم کے انقلابی ہیں اور انکی کتاب “ تہذیبی نرگسیت “ پر بی بی سی کے عارف وقار نے تبصرہ بھی عارفانہ ہی کیا ہے۔
اقتباس کچھ یوں ہیں
‘ مبارک حیدر نے وقت کے اہم ترین مسئلے ۔۔۔ دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے رجحان ۔۔۔ کی طرف خاص توجہ دی اور اس خطرناک سوچ کی طرف اہلِ وطن کی توجہ مبذول کرائی کہ شمالی علاقوں میں چلنے والی تحریک سے چونکہ بین الاقوامی سامراج یعنی امریکہ پر زد پڑ رہی ہے، اس لئے انقلابی اور عوام دوست قوتوں کو فوراً بنیاد پرست مذہبی عناصر کی حمایت میں باہر نکل آنا چاہیے۔
مبارک حیدر کے خیال میں اسطرح کی سوچ ہماری پوری قوم کی تہذیبی نرگسیت کا شاخسانہ ہے، اسی عنوان سے شائع ہونے والی اپنی حالیہ کتاب میں مبارک حیدر اس اصطلاح کا پس منظر بیان کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ قدیم یونان کی دیومالا میں نارسس نام کا ایک خوبصورت ہیرو ہے جو اپنی تعریف سنتے سنتے اتنا خود پسند ہو گیا کہ ہر وقت اپنے آپ میں مست رہنے لگا اور ایک روز پانی میں اپنا عکس دیکھتے دیکھتے خود پر عاشق ہوگیا۔ وہ رات دِن اپنا عکس پانی میں دیکھتا رہتا۔ پیاس سے نڈھال ہونے کے باوجود بھی وہ پانی کو ہاتھ نہ لگاتا کہ پانی کی سطح میں ارتعاش سے کہیں اسکا عکس بکھر نہ جائے۔ چنانچہ وہ اپنے عکس میں گُم بھوکا پیاسا ایک روز جان سے گزر گیا۔۔۔ اور دیوتاؤں نے اسے نرگس کے پھول میں تبدیل کردیا جو آج تک پانی میں اپنا عکس دیکھتا ہے۔“

“ مبارک حیدر نے اس اصطلاح کو ذاتی سطح سے اُٹھا کر اجتماعی سطح پر استعمال کیا ہے اور ہمیں باور کرایا ہے کہ کسی فرد کی طرح کبھی کبھی کوئی پوری قوم اور پوری تہذیب بھی اس بیماری میں مبتلا ہو سکتی ہے اور اسی اجتماعی کیفیت کو وہ تہذیبی نرگسیت کا نام دیتے ہیں۔ مبارک حیدر اپنی کتاب کی ابتداء ہی میں قارئین کے سامنے یہ سوال رکھتے ہیں کہ مسلم معاشروں میں تشدّد کی موجودہ لہر کے خلاف کوئی احتجاج کیوں نہیں کیا جا رہا؟ اور مسلم اُمّہ بالعموم اس تباہ کاری پر خاموش کیوں ہے؟ مبارک حیدر کا جواب یقیناً یہی ہے کہ اس وقت ہم سب قومی سطح پر ایک تہذیبی نرگسیت کا شکار ہیں۔ مصنف کی زیرِ نظر کتاب دراصل اسی اجمال کی تفصیل ہے اور اسی کلیدی اصطلاح کے مضمرات کا احاطہ کرتی ہے۔“

“’تہذیبی نرگسیت کی اساس نفرت پہ ہے اور منفی جذبوں کے اس شجر کا پھل وہ جارحیت ہے جِسے اکسانے کےلئے ایک چھوٹا سا عیّار اور منظم گروہ کئی عشروں سے ہمارے معاشروں میں سر گرمِ عمل ہے۔۔۔ یہ اقلیت کا اکثریت کے خلاف اعلانِ جنگ ہے۔‘
“ ’تہذیبی نرگسیت کا علاج ممکن ہے لیکن اگر ہم نے خود تنقیدی کا راستہ اختیار نہ کیا تو عالمی برادری کو شاید یہ حق حاصل ہوجائے کہ وہ ہمارے یہ ہاتھ باندھ دے جن سے ہم نہ صرف اپنے بدن کو زخمی کرتے ہیں بلکہ نوعِ انسانی پر بھی وار کرتے ہیں۔‘
بشکریہ بی بی سی

3 تبصرے

یہودیوں کی کامیابی کی وجہ

محترم افتخار اجمل صاحب یہودیوں کی آبادکاری اور صیہونی مقاصد پر مبنی تاریخ کے گوشوں کو بے نقاب کر رہے ہیں۔ان کی محنت و عرق ریزی لائقِ تحسین ہے۔ ان کی تحریر سے واضح ہوتا ہے کہ کس منظم طریقے اور منصوبہ بندی سے یہودی بنی اسرائیل کے اصل مسکن فلسطین پر قابض ہو ئے۔
بلا شبہ یہودی اس وقت “بادشاہ گر“ ہیں وہ اس مقام پر کیسے پہنچے ؟
ہم آسانی سے کہہ دیتے ہیں
“ عیاری و مکاری اور سازش “
(یہود و ہنود کی سازش یہ مسلم دنیاکی سب سے بڑی خود فریبی ہے)
سادہ الفاظ میں ہم اپنی حماقت اور نالائقیوں کا اعتراف کرنے کے بجائے دشمن کی چالاکی اور موثر حکمت عملی کو مورد الزام ٹھراتے ہیں اس دیہاتی کی طرح جسے میلے میں نوسر باز لوٹ لیتے ہیں تو بجائے اس کے کہ اپنی کم علمی کا اعتراف کرے نوسر بازوں کو عیارِ اعظم بناکر اپنی جھینپ مٹاتا ہے۔
ذیل کا پیغام ایک دوست نے بھیجا ہے آپ میں سے اکثر پہلے ہی سے پڑھ چکے ہوں گے اگر مستند نا بھی ہوں تو بھی یہ معلومات حقیقت سے قریب تر ہیں اور اس حقیقت کو آشکار کرتی ہیں کہ علم ہی سب سے بڑا ہتھیار ہے جس کی بدولت کم عقل دیو  آپ کی خدمت بجا لائے گا۔

Some thoughts – Extracts of speech by Hafez A.B. Mohamed. Director-General, Al Baraka Bank.

Demographics:
o World Jewish population: 14 million
o Distribution: 7m in America
5m in Asia
2m in Europe
100 thousands in Africa

o World Muslim population: 1.5 billion
o Distribution: 1 billion in Asia/Mid-East
400m in Africa
44m in Europe
6m in the Americas

o Every fifth human being is a Muslim.
o For every single Hindu there are two Muslims
o For every Buddhist there are two Muslims
o For every Jew there are 107 Muslims

Yet the 14 million Jews are more powerful than the entire 1.5 billion Muslims…

Why..?

Here are some of the reasons.

Movers of Recent History
o Albert Einstein       – Jewish
o Sigmund Freud      – Jewish
o Karl Marx              – Jewish
o Paul Samuelson     – Jewish
o Milton Friedman     – Jewish

Medical Milestones
o Vaccination needle:      Benjamin Ruben      – Jewish
o Polio vaccine:              Jonas Salk              – Jewish
o Leukaemia drug:          Gertrude Elion         – Jewish
o Hepatitis B:         &n bsp;       Baruch Blumberg     – Jewish
o Syphilis drug:              Paul Ehrlich            – Jewish
o Neuromuscular:          Elie Metchnikoff       – Jewish
o Endocrinology:            Andrew Schally        – Jewish
o Cognitive therapy:       Aaron Beck              – Jewish
o Contraceptive pill:       Gregory Pincus         – Jewish
o Understanding of human eye: G. Wald         – Jewish
o Embryology:   &n bsp;           Stanley Cohen          – Jewish
o Kidney dialysis:           Willem Kloffcame      – Jewish

Nobel Prize Winners
In the past 105 years, the 14 million Jews have won 180 Nobel prizes whilst the 1.5 billion Muslims have achieved only 3 Nobel winners.

Inventions that changed History
o Micro-processing chip:                Stanley Mezor     – Jewish
o Nuclear chain reactor:         Leo Sziland                  – Jewish
o Optical fibre cable:                   Peter Schultz    & nbsp;  – Jewish
o Traffic lights:                        Charles Adler      – Jewish
o Stainless steel:                       Benno Strauss     – Jewish
o Sound movies:                  Isador Kisee               – Jewish
o Telephone microphone:          Emile Berliner      – Jewish
o Video tape recorder:           Charles Ginsburg  – Jewish

Influential Global Businesses
o Polo:           ;                   Ralph Lauren        – Jewish
o Coca-Cola:                                                  – Jewish
o Levi’s:                           Levi Strauss         – Jewish
o Starbuck’s:                     Howard Schultz    – Jewish
o Google:                          Sergey Brin          – Jewish
o Dell Computers:              Michael Dell         – Jewish
o Oracle Computers:          Larry Ellison:        – Jewish
o DKNY:                           Donna Karan        – Jewish
o Baskin Robbins:              Irv Robbins          – Jewish
o Dunkin’ Donuts:              Bill Rosenberg       – Jewish

Influential
Policy-makers/ Politicians
o Henry Kissinger, US Sec. of State                               – Jewish
o Richard Levin, President Yale University                       – Jewish
o Alan Greenspan, US Federal Reserve                             – Jewish
o Joseph Lieberman, US Senator                                     – Jewish
o Madeleine Albright, US Sec. of State                           – Jewish
o Casper Weinberger, US Sec. of Defence                      – Jewish
o Maxim Litvinov, USSR Foreign Minister                        – Jewish
o David Marshal, Singapore Chief Minister                       – Jewish
o Isaac Isaacs, Gov-Gen. Australia  ;                                – Jewish
o Benjamin Disraeli, British Statesman                            – Jewish
o Yevgeny Primakov, Russian PM                                      – Jewish
o Barry Goldwater, US Politician                                      – Jewish
o Jorge Sampaio, President of Portugal                            – Jewish
o Herb Gray, Canadian Deputy PM                                    – Jewish
o Pierre Mendes, French PM                                            – Jewish
o Michael Howard, British Home Sec.                               – Jewish
o Bruno Kriesky, Austrian Chancellor                                – Jewish
o Robert Rubin, US Sec. of Treasury                               – Jewish

Global Media Figures
o Wolf Blitzer, CNN                                                        – Jewish
o Barbara Walters, ABC News                                         – Jewish
o Eugene Meyer, Washington Post                                    – Jewish
o Henry Grunewald, Time Magazine                                  – Jewish
o Katherine Graham, Washington Post                              – Jewish
o Joseph Lelyeld, New York Times                                   – Jewish
o Max Frankel, New York Times                                       – Jewish

Global Philanthropists
o George Soros                                                               – Jewish
o Walter Annenberg                        &nb sp;                     – Jewish

Why are they powerful and why are Muslims powerless?
Here’s another reason… We have lost the capacity to produce knowledge.

o In the entire Muslim world (57 Muslim countries) there are only 500 universities
o In USA alone, 5,758 universities
o In India alone, 8,407 universities

Not one university in the entire Islamic World features in the Top 500 Ranking Universities of the World

o Literacy in the Christian world                                      – 90%
o Literacy in the Muslim world                                         – 40%
o 15 Christian-majority countries’ literacy rat e              – 100%
o Muslim-majority countries with 100%                            – None
o 98% in Christian countries completed primary education
o Only 50% in Muslim countries completed primary education
o 40% in Christian countries attended university
o In Muslim countries, a dismal 2% attended university
o Muslim-majority countries have 230 scientists per million
o The USA has 5000 per million
o The Christian world                                                                – 1000 technicians per million
o Entire Arab world                                                                  – only 50 technicians per million
o Muslim world spending on R&D                                                – 0.2% of GDP
o Christian world’s R&D                                                            – 5.0% of GDP

Conclusions
The Muslim world lacks the capacity to produce knowledge. Another way of testing the degree of knowledge is the degree of diffusing knowledge.

o Pakistan:        23 daily newspapers per 1000 citizens
o Singapore:      460 per 1000 citizens
o UK book titles per million is 2000
o Egypt book titles per million is only 17

Conclusion…
Muslim World is failing to diffuse knowledge. Applying knowledge is another such test.

o Exports of high-tech products from Pakistan       :  0.9%
o In Saudi Arabia                                                  :  only 0.2%
o Kuwait, Morocco and Algeria                                :  only 0.3%
o Tiny Singapore (4mil pop.)                                   :  68% …!

Conclusion…
Muslim world is failing to apply knowledge.
What do you conclude? No need to tell…

Advice:

Please educate yourself and your children. Excuses like lack of money, ability or opening are nothing more than that – excuses.
Always p

romote education, don’t compromise on it.

Don’t ignore your children’s slightest misguidance from education or any other influences, this lead them to wrong ways… and please, If they fail, let them because it will make them learn the sweetness of success. Remember… if they can’t do it now, they can’t ever, With knowledge comes power, and with it even the small can rule over the big. We are world’s biggest but sadly NOT strongest nation. All we need is to identify and explore our inner selves.

…. Wake up …

1 تبصرہ

آج کا احوال

دو تین ماہ پہلے ایک دوست انعام کو یہیں کی کمپنی میں جاب ملی ہے انہوں نے گاڑی خریدنے کے لیے کہہ رکھا تھا کہ ہماری نظر میں کوئی مناسب سیکنڈ ہینڈ گاڑی ہو تو انہیں ضرور بتائیں بلکہ خرید لیں۔ پرسوں ایک کولیگ کہنے لگے کہ کہ انہوں نے گاڑی بیچنی ہے یہ ٢٠٠٤ ماڈل شیورلیٹ کی Lumina ہے جو عباس اور اس نے ساتھ ساتھ نئی لیں تھیں۔ گاڑی ایک ہاتھ کی چلی ہوئی اور ہمارے سامنے کی ہے ساتھ ہی مالک نے یہ بھی بتادیا تھا کہ پچھلی شافٹ کا بیئرنگ تبدیل ہونا ہے انعام سے بات ہوئی تو انہوں نے عباس اور مجھ پر چھوڑتے  ہوئے گاڑی کے پیسے دینے کی بات کی۔ انعام ہم سے ٥٠ کلومیٹر کے فاصلے پر رہتا ہے کوئی بھی اگلی بات کرنے سے پہلے عباس اور میں اسے گاڑی دکھانے  کے لیے لے گئے۔
ہائی وے پر آتے ہی دو پاکستانی سڑک کیساتھ کسی سواری کے انتظار میں کھڑے دکھائی دیئے۔ یہاں لفٹ دینے سے پہلے ڈرائیور کو کافی کچھ سوچنا پڑتا ہے پہلی تو یہ کہ بندہ کہیں الیگل تو نہیں ہے۔ اسے گاڑی میں بٹھا کر آپ اسکی اسکے سامان کی ذمہ داری لے رہے ہیں اور راستے میں اگر حادثہ پیش آگیا تو تیسری پارٹی کا ہرجانہ تو آپ نے بھرنا ہی بھرنا ہے ساتھ والی سواری کا علاج معالجہ اور قانونی اخراجات بھی ڈرائیور کے ذمہ اور سعودیہ جیسا ملک ہو تو آپ اور لفٹ لینے والے کچھ بھی کہیں پولیس والے نے ٹیکسی چلانے کے جرم میں ڈرائیور کو دھرنا ہی دھرنا ہے۔ ان سب باتوں کے باوجود شلوار قمیض راستے میں دکھائی دے جائے تو دامن کھینچ ہی لیتی ہے۔ دونوں خان صاحب نکلے جو واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ پر کام کرتے تھے پوچھنے پر پشاور پھر کوہاٹ اور آخر کار پاراچنار کے نکلے ابھی سال بھر ہی ہوا تھا انہیں یہاں آئے ہوئے۔ پاراچنار کے حالات کا ذکر ہوا تو انہوں نے دوسری ہی کہانی سُنائی کہ فرنٹیئر فورس کے افسران خود طالبان کو اسلحہ فراہم کرتے ہیں۔ ( اس پر یقین نہیں آسکتا کیونکہ وہاں فوج کا اپنا جو جانی نقصان ہو رہا ہے اس کو سامنے رکھتے ہوئے بے ضمیر سے بے ضمیر شخص بھی ایسا نہیں کرسکتا) دوسرا مینگورہ سوات کی پولیس فورس کے ٦٠٠ سات سو افراد استعفٰی دے چکے ہیں۔
سب سے بڑھ کر یہ کہ پاراچنار سے پشاور دو گھنٹے کی مسافت پر ہے لیکن طالبان کے خوف سے لوگ افغانستان جاکر پھر طورخم کے رستے پشاور آتے ہیں۔
تصور کریں کسی مریض یا ضعیف فرد کے لیے اس سفر کی صعوبت۔ ان سے یہی باتیں کرتے انکی منزل آگئی انہیں اتار کر ہم انعام کے پاس جا پہنچے ۔

5 تبصرے

جنت کے سوداگر

جب ٢٠٠٧ میں سوات کی بات ہوتی تھی تو لگتا تھا کہ بس یہ علاقائی مسئلہ ہے  وہیں پر حل ہوجائے گا۔

ویسے بھی ہمیں دنیا کے بڑے بڑے مسائل پر بھاشن بازی کرنی ہوتی ہے یہ مقامی مسائل دراصل ہماری توجہ منتشر کرنے کے لیے  اچھالے جاتے ہیں۔

اب یہ جن بوتل سے باہر آچکا ہے ہم ابھی تک بیرونی ہاتھ اور یہود و ہنود کی سازش کا راگ الاپ رہے ہیں۔

ابھی تک ہماری رٹ یہی ہے کہ طالبان تو صحیح ہیں لیکن کچھ دھشت گرد انکی صفوں میں گُھسے بیٹھے ہیں اور وہی اس ساری خرابی کی جڑ ہیں۔

صبح شام چینلوں پر مُلا یہی کتھا سناتا ہے کہ اسلام رواداری اور امن و آشتی کا مزہب ہے۔

محلے کی مساجد کے خطبے اور معصوم بچوں کے ذہنوں میں انڈیلا جانے والا درس سُنو تو قلعی کھُلتی ہے کہ امن و آشتی اپنے لیے ہے دوسرے مکتبہ فکر (فرقہ و مزہب تو دور کی بات ہے ) کے لیے صرف بارود ہی بارود ہے۔

ہم جب تاریخ پڑھتے تھے تو حیرت ہوتی تھی کہ کیسے مسلمان لشکر ایک دوسرے کے خلاف صف آراء ہو سکتے ہیں لیکن خارجیوں اور یزید سے شروع کریں تو سب ہی نے اسلام کا جھنڈا سربلند کرتے ہوئے مسلمانوں کے خون کی ندیاں بہائی ہیں خارجیوں کا ایجنڈا بھی نفاذ اسلام تھا اور قلعہ الموت کا حسن بن صباح بھی فدائین کو جنت کی بشارت دیکر بلکہ جنت دِکھا کر اکابرین اسلام کا قتل کرنے خودکش فدائین بھیجا کرتا تھا۔

آج اپنی آنکھوں سے یہ مظالم دیکھ رہے ہیں۔

حیرت اس بات پر ہوتی ہے جب طالبان نے اسرائیل کو دھمکی دی کہ ہم تم سے حساب لیں گے ( کہ کس کا اسکور زیادہ ہے) ۔ آج اگر انکا فساد بالارض نہ ہوتا تو اسلامی دنیا کہاں ہوتی ؟ کیا امن و آشتی کیساتھ ترقی کرتے مسلمان ممالک زیادہ طاقتور نہ ہوتے جبکہ اب اندرونی خلفشار اور عصبیت کی شکار قومیں۔ کیا پھر بھی کسی اسرائیلی کی ہمت پڑتی کہ یوں خونِ مسلم سے ہولی کھیلتا۔ رہ گئی اسرائیل کو دھمکی تو مجھے صدام حسین کی بڑھکیں یاد آگئیں جو کویت پر فوج کشی کے بعد اسرائیل کو دیا کرتا تھا اور سام میزائل سعودیہ پر داغا کرتا تھا۔ ہمارے عام بھولے بھالے مسلمان اُسے ہیرو بنا چکے تھے۔ طالبان بھی للکارتے امریکا اور اسرائیل کو ہیں اور گلے پر چھری مسلمانوں کے پھیرتے ہیں۔

اسی سلسلے کی کڑی اکتوبر ٢٠٠٧ میں لکھا گیا ایک بلاگ۔


سوات سفر میں ہے اور جلد آپکے شہر پہنچنے والا ہے۔

5 تبصرے

قرنطینہ

قرنطینہ کا لفظ بچپن میں شاید سید سجادحیدر یلدرم کی کتاب یا مضمون میں پڑھا تھا۔ جسمیں مصنف عراق کی بندرگاہ پر اترتا ہے اور وہاں ڈاکٹر انہیں ١٥ روز کے لیے قید (قرنطائن) کر دیتا ہے کہ پندرہ یوم تک اس کیمپ سے باہر نہیں جاسکتے اس کے بعد طبی معائنہ ہوگا اور شہر میں داخلے کی اجازت ملے گی۔ یہ اس زمانے کی حفاظتی تدابیر تھیں کہ دور دراز ملکوں سے آنے والے مسافروں کو اپنے ملک میں داخلے کی اجازت دینے سے پہلے اس بات کا اطمینان کرلیا جائے کہ مسافر کسی وبائی مرض کا کیریر تو نہیں (سیاحوں کو بیماریاں وہاں سے لیکر آنے اور اپنے خاندان کو اسمیں مبتلا کرنے کی آزادی تھی) اُس وقت یہ بات کچھ سمجھ میں آئی نہیں تھی اسی وجہ سے یہ لفظ ایک پھانس کی طرح سے  ذہن میں اٹکا ہی رہ گیا۔ پھر سعودیہ جانا ہوا تو دیکھا کہ انکے صنعتی علاقے صناعیہ سے متصل قرنطینہ کے نام سے ایک پورا محلہ آباد ہے جہاں کی اکثریتی آبادی کالوں پر مشتمل ہےواضح طور پر یہ آبادی انہی لوگوں کے دم سے وجود میں آئی جنہیں کاغزوں میں کبھی جدہ میں داخلے سے روکا گیا ہوگا پھر کمپیوٹر سے سوجھ بوجھ ہوئی تو انٹی وائرس پروگرام میں بھی یہ لفظ موجود پایا۔
آج کل میں بھی کچھ اسی طرح کی صورتحال کا شکار ہوں تین دن سے چھٹی شروع ہوچکی ہے لیکن گھر واپس نہیں جاسکتا کیونکہ میری سبز کتاب جسمیں صدر پاکستان نے دنیا جہاں سے میری راہداری اور مدد کی اپیل کی ہے وہ کینیڈا کے سفارتخانے میں ویزے کے لیے قرنطائن ہے اور میں خود ہر ٥ منٹ بعد DHL کی ویب سائٹ پر ائیروے بل نمبر ڈال کر ریفریش کرتا رہتا ہوں کہ ادھر وہ ابوظہبی میں ڈی ایچ ایل کو دیں اور ادھر میں ایرٹکٹ کی بکنگ کے لیے دوڑ لگاؤں تاکہ پاسپورٹ لیتے ہی پہلی فلائٹ سے گھر پہنچ جاؤں۔ بیگم اور بچے دعائیں مانگ رہے ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ کافروں پر تو اپنی دعاؤں، گنڈے تعویزوں کا اثر ہی نہیں ہوتا اور آجکل سبز کتاب میں کچھ ایسا جادو ہے کہ اونگھتا ہوا کلرک بابو بھی ٹھپہ لگانے سے پہلے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر الٹ پلٹ کر دس دفعہ دیکھتا ہے۔ اُن گوروں نے بھی پڑوسی ملک والے دو پاسپورٹ کھٹاک سے ویزہ لگا کر واپس کر دیے اور میرے پاسپورٹ کو پال میں لگا دیا ہے۔
جب آفس میں ہوتے ہیں یا گھر والوں کے ساتھ تو بیسیوں چیزیں  یاد آتی ہیں دوستوں سے معذرت کرتے ہیں مِل نہیں پاتے لیکن ایسی صورتحال ہوجائے تو کچھ بن نہیں پاتا۔ ٹی وی ، انٹرنٹ، گھومنا پھرنا سب زہر لگتا ہے، رہ گیا بلاگ لکھنا تو بھائی ذہنی قبض کی صورت میں تو بندہ کیا لکھ سکتا ہے۔ اس وقت تو پھر بھی اچھے کی امید میں اپنے کام کے لیے بیٹھے ہیں سوچتا ہوں کہ یہی بندش خدانخواستہ اور کسی وجہ سے ہوتی تو پھر تو بس وہی حال ہوتا جو ان بیماروں پر گزرتا ہے جنہیں ڈاکٹر مرچی والا سالن منع کردیتا ہے اور اسی دن گھر والوں کو آلوگوشت پکانے کی سوجھتی ہے سارا دن اس بیچارے کو خوشبوؤں سے رجھا رجھا کر شام کو ساگودانے کی کھیر سامنے رکھ دیتے ہیں۔
اور مجھے ایسا کوئی مسئلہ نہیں ہے کپڑے دھلے دُھلائے ملتے ہیں ٹی وی، انٹرنٹ میسر ہے بستر بچھادیا جاتا ہے، کھانا پکا پکایا دیتے ہیں اور پھر بقولِ شاعر
روٹی پر جب بوٹی مِلنے لگے
پھر حوروں کی تمنا کون کرے
(حوریں شانت رہیں ایسی بیتابی بھی اچھی نہیں ہوتی)

20 تبصرے

نیاسال اور بیٹھکِ اردو بلاگراں

میں تو امید چھوڑ بیٹھا تھا مگر نیا سال کیا آیا کہ میں اپنے بلاگ پر لاگ ان کرنے میں کامیاب ہو ہی گیا۔ اسی خوشی میں آپ سبکو نیا سال مبارک ہو۔
نئے  سال کا سب سے اہم منصوبہ اردو بلاگرز کی بیٹھک ہے جو شہر شہر بستی بستی میں منعقد ہونے جارہی ہے۔   اسلام آباد میں جو بلاگرز تشریف لاسکتے ہیں ان سے رجسٹریشن کی پر زور درخواست ہے۔ ( لو جی میں نے اپنے حصے کا کام کردیا ہے اب رجسٹریشن کہاں کروانی ہے تقریب کہاں ہو گی کب ہوگی اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کھانے کو کیا ملے گا اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کون کھِلائے گا ان سب تفصیلات کا مجھے علم نہیں ہے اگر پتہ ہوتا تو بخدا سب سے پہلے آپ کو بتاتا۔
پہلے کچھ چھپایا ہے؟؟؟ ) ہاں ایک اور اہم بات اگر یہ بیٹھک ہوگئی تو پھر کیا ہوگا؟؟
اب  ڈفر، اویس نصیر کیانی، خرم، عبدالقدوس اور ناصر (ھلوے والے) کے کورٹ میں گیند ہے۔
ایسے موقعوں پر آنجہانی قبلہ بلاگرِ بلاگراں شاہِ چھوڑسواراں جنابِ عزت مآب محب علوی صاحب مدظلہ علیہ کی یاد بڑی شدت سے آرہی ہے۔ یوں تو اُن وقتوں کی نشانیوں میں قبلہ ساجد اقبال صاحب کا سایہ ہمارے بلاگوں کے سر پر قائم و دائم ہے مگر ساجد صاحب عملی آدمی ہیں کہاں وہ بات مولوی مدن والی

9 تبصرے

Vertical Limits

 یہ آج Sony Max والے Vertical Limits کیوں دکھا رہے ہیں وہ بھی ہندی میں ڈب ہوئی ہوئی۔ اس فلم میں تو پاکستانی فوج کا اور پاکستان کا مثبت امیج ہے۔ انہین تو ان حالات میں باڈر، آتنک واد ٹائپ کی کوئی فلم دکھانی چاہیے تھی۔
 کیوں آخر کیوں سوچیے سوچیے مجھے بھی بتائیے۔

7 تبصرے

قربانی اور قبولیت

ایک غور طلب تجویز مرحوم حکیم محمد سعید سختی کے ساتھ ہمیشہ نصیحت کے طور پر دیا کرتے تھے کہ چونکہ پوری قوم مقروض ہے اس لیے قربانی کے بجائے قرضہ اتارنے کی سعی کرو۔

میرے ایک دوست سختی سے کہا کرتے ہیں کہ قربانی واجب ہے، پھلے فرائض ادا کرلو اور ان فرائض میں یہ بات شامل ہے کہ بھوکوں کا پیٹ بھرو۔ضرورت مند کی حاجت پوری کرو۔ جانور خرید کر قربانی کرنے کے بجائے کسی ضرورت مند کے گھر اس رقم کا راشن ڈلوا دو۔ ایک مہینہ تو سکون سے اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ بھر لے گا ۔یہاں تو ہزاروں کا جانور خرید کر ایک سو روپے کا ٹیکس
ادا کرنا بھاری لگتا ہے۔ یہ کیوں کر نہیں ہو سکتا ہے کہ جو جانور خریدنے کی استطاعت رکھتے ہیں، جانور خریدیں، قربانی کریں اور ساتھ ہی ساتھ اتنی ہی رقم کسی حاجت مند کے حوالے کر دیں۔ دو ثواب ملنے کی توقع بندھ سکے گی اگر قربانی کو قبولیت حاصل ہوگئی۔ قبولیت کا معاملہ تو اوپر والے کا ہے، نیچے والے تو دیکھ کر سوچتے ہیں کہ قربانی کے جانور کا خون نالی میں بہا دیا
جاتا ہے اور گوشت نئے نئے خریدے ہوئے ڈیپ فریزر میں بھر دیا جاتا ہے۔ قربانی بچوں کی خوشنودگی کے لیے اور ڈیپ فریزر کا گوشت گھر والے اور مہمانوں کی خاطر تواضح کے لیے۔اسی لیے تو دانا کہتے ہیں کہ جو اقوام کہتی کچھ ہیں کرتی کچھ ہیں ان کا اپنی حالت بدلنا ناممکن نظر آتا ہے۔

بشکریہ بی بی سی