4 تبصرے

بور باتیں

بہت سی باتیں ہم پڑھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہم سیکھ گئے لیکن گرہ باقی رہ جاتی ہے وہ جسے کہتے ہیں کہ کنسپٹ کلیئیر نہیں ہوا، اسی طرح یہ بات ایک ہی ٹیلیفون کی تار میں سے ایک وقت میں کتنے ہی پیغامات یا باتیں گزر رہی ہوتیں ہیں لیکن آپس میں گڈ مڈ نہیں ہوتیں یہ نہیں کہ ساجے کی بات ماجے کے بجائے پیٹر کو جائے اور جمیلہ جو اپنی ساس کے دکھڑے باجی نسرین کو بتارہی ہے وہ ماریا کے فون میں پہنچ جائیں۔یہ کچھ پلَے پڑتا نہیں تھا لیکن کیونکہ استاد کہتے تھے اور استادوں کا کہاہمیشہ درست ہی ہوتا ہے شک کی گنجائش نشتا  کہ  شک سے امتحان اور ایمان خراب ہوتا ہے یوں دین و دنیا دونوں ہی کا خسارہ۔اصل بات کی طرف آتے ہیں جانے کیوں مولویوں کی طرح لمبی لمبی باتیں کرنے کی عادت سی ہوگئی ہے ورنہ آدمی ہم بھی  تھے بڑے کام کے ۔ پروجیکٹ کے آخری دن چل رہے تھے سب ہی ڈیڈ لائن سے پہلے پہلے اپنے کام سمیٹنے کی جلدی میں تھے سائٹ کے کنٹرول روم میں سارے ہی کنٹریکٹر اور سپلائر کے نمائندے اپنی سی پوری کوشش کر رہے تھے کہ جتنا کام ہوچکا ہے وہ ہی چیک کروالیں جاپانی، نارویجیئن، اٹالیئن، مقامی قطری، جرمن، برٹش، پاکستانی اور بہت سارے انڈین جن میں گجراتی اور شمالی انڈین ہندی جبکہ ساوتھ انڈین تامل اور ملیالم زبانیں بولتے ہوئے مختلف گروپ ایک ساتھ ہی بول رہے تھے اور ریڈیو سیٹ صرف دو ہی تھے جو ایک کونے میں لگے ہوئے تھے فیلڈ سے پیغام آتے ہی متعلقہ گروپ کا ممبر ہی جواب دیتا کہ جاپانی کنٹرول سسٹم پر انڈین انسٹرومنٹس پر نارویجیئن کمیونیکیشن، اٹالیئین اور برٹش الیکٹریکل کیبلنگ پر کام کر رہے تھے میرا ساتھی گجراتی تھا اور اسکا بس نہیں چل رہا تھا کہ کنٹریکٹرز کے ساتھ کام کرنے والے ساوتھ انڈین کو کیسے ذلیل کرے بات بے بات “ارے یہ ملو ہوتے ہی گھامڑ ہیں” اور اسی طرح کے جملے مستقل کسے جا رہا تھا بعد میں پتہ چلا کہ بابو اصل میں اپنے ساتھی ملباری کو لپیٹ لپیٹ کر مار رہا ہے۔ یہاں مختلف جزیرے بنے ہوئے ہیں کسی ڈپارٹمنٹ میں گجراتی کسی میں تامل کہیں کیرالائٹ مسلمان اور سیکریٹری لیول پر ہر جگہ کی طرح اینگلو انڈین اور فلپاین اب ایک اور لابی سامنے آرہی ہے اور بہت تیزی سے ابھر رہی ہے وہ ہے وینزوویلن یعنی ساوتھ امریکہ والے نہیں ہے تو بس پاکستانی کہیں دکھائی نہیں دیتے ہاں کبھی کبھی  کہیں دل بڑھا دیتے ہیں کہ وہیں سائٹ پر فون آیا عظیم پاکستانی سے بات کرنی ہے عجیب سا لگاحسب طریقہ اونچی ہانک لگائی گئی “عظیم پاکستانی” تو کیبنٹس کے پیچھے سے ایک صاحب ڈیسکون  کی کور آل پہنے نمودار ہوئے واقعی اگر اتنے لوگوں میں کوئی کام دکھا رہا ہے تو وہ عظیم پاکستانی ہی ہوگا۔

4 comments on “بور باتیں

  1. میرا ایک کلاس فیلو خرم جاوید بھی ڈیسکون کی طرف سے قطر گیا تھا، دو ڈھائی سال رہا وہاں۔ میرے خیال سے شیل پرل جی ٹی ایل نامی پراجیکٹ کے سلسلے میں وہاں تھا۔ میرا کلاس فیلو ہے تو آپ سمجھ ہی گئے ہوں گے کہ آئی ٹی کا بندہ ہی ہو گا۔

  2. نعیم اکرم صاحب شکریہ تشریف آوری کا۔
    ڈیسکون یہاں کے پروجیکٹس کے تعمیراتی مراحل اور سالانہ مرمت میں کام کرتی ہے۔

  3. جناب رضوان صاحب۔۔۔ ڈیسکون کا نام پڑھتے ہی یوں لگا کہ آپ ہمارے ہمسائے ہی ہیں۔۔۔ یعنی شارجہ ڈیسکون میں کام کرتے ہیں۔۔۔

    جہاں تک آپ نے مختلف ثقافتوں کے آپس میں مل جل کر کام کرنے اور ہلکی پھلکی چپقلشوں کے بارے میں لکھا۔۔۔ وہ سو فیصد سچ ہے۔۔۔ اور پڑھ کر ایسا لگا جیسے میری کمپنی کے حال احوال لکھ رہے ہیں۔۔۔

  4. چند نئی کتابوں کا تعارف ارسال کرنا چاہتا ہوں

    راشد

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: